چینی صدر کی پاکستانی سیاسی رہنمائوں اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں : آپریشن ضرب عضب کو گیم چینجر قراد دیدیا

چینی صدر کی پاکستانی سیاسی رہنمائوں اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں : آپریشن ضرب عضب کو گیم چینجر قراد دیدیا

اسلام آباد+ لاہور (نیوز ایجنسیاں+خصوصی نامہ نگار) چین کے صدر شی چن پنگ سے سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ملاقات کی ہے جس میں پاک چین تعلقات، چین کی طرف سے پاکستان میں توانائی سمیت دیگر شعبوں میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا گیا۔ سیاسی رہنمائوں نے چینی صدر سے کہا پاکستان میں ہر حکومت نے چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ سیاسی رہنمائوں نے چینی صدر شی چن پنگ کو دنیا کا اہم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا انکے ویژن سے پاکستان اور چین کے تعلقات بہت مضبوط ہوں گے۔ ملاقات کرنیوالوں میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، سابق وزیر داخلہ رحمن ملک، امریکہ میں سابق سفیر شیری رحمن، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شاہ محمود قریشی، ق لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی، مشاہد حسین سید، جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، سینیٹر طلحہ محمود، ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، میاں اسلم، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پائو، انیسہ زیب طاہر خیلی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک شامل ہیں۔ یہ ملاقات 20 منٹ تک جاری رہی جس میں پاک چین تعلقات سمیت دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔ چینی صدر نے سیاسی رہنمائوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں توانائی سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ خطے اور عالمی امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں بالخصوص دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاک فوج نے ضرب عضب آپریشن میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ملاقات میں سابق صدر آصف زرداری نے اپنے دور حکومت میں چین سے تعلقات کو مستحکم بنانے کے حوالے سے کی جانیوالی کوششوں پر بھی بات چیت کی اور کہا بطور صدر انہوں نے سب سے زیادہ چین کے دورے کئے ۔ مزید برآں چینی صدر شی چن پنگ نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کو گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے بھرپور کوششیں کیں، چین پاکستان کا ہر مشکل میں ساتھ دے گا، پاکستان کے استحکام کیلئے اقتصادی ترقی ضروری ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق چینی صدر سے تینوں مسلح افواج کے سربراہان آرمی چیف جنرل راحیل شریف، پاک فضائیہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سہیل امان، نیول چیف ایڈمرل ذکاء اللہ نے ملاقات کی۔ جس میں چینی صدر نے آپریشن ضرب عضب کے نتائج کو گیم چینجر قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کا ہر مشکل میں ساتھ دینے کا اعادہ کیا اور کہا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور کوشش کی، پاکستان کے استحکام کیلئے اقتصادی ترقی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کے عزائم قابل ستائش ہیں اور آپریشن ضرب عضب کے نتائج قیام امن کیلئے موثر ہیں۔ ق لیگ کی پریس ریلیز کے مطابق چودھری شجاعت حسین اورچودھری پرویزالٰہی نے شی چن پنگ سے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوئوں پر بات چیت کی۔ چینی صدر نے دونوں رہنمائوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو سراہا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہمارے دور حکومت میں چین کے ساتھ تعلقات پر خصوصی توجہ دی گئی اور ہماری پارٹی کے چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ انہوں نے کہا چینی صدر کی آمد پر ساری پاکستانی قوم خوش ہے۔ انہوں نے چینی صدر کو تجویز کیا نوجوانوں کیلئے بھی خصوصی منصوبے شروع کئے جائیں، 50فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پرمشتمل ہے اور پاکستان کے بڑے شہروں میں چینی زبان سیکھنے کے مراکز کھولے جائیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے چینی صدر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا آپ نے کرپشن کے خلاف تاریخی اقدامات کئے ، چین کی مدد سے یہاں جوبڑے منصوبے لگائے جا رہے ہیں ان میگا منصوبوں کی مانیٹرنگ اور بروقت تکمیل کیلئے چین سے سپیشل ماہرین کو بھیجا جائے جو نہ صرف اپنے منصوبوں کی نگرانی کریں، ان پر کڑی نظر رکھیں اور کرپشن نہ ہونے دیں۔ خصوصی نامہ نگار کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف کی طرف سے چائنہ کے صدر شی چن پنگ کے اعزاز میں دیئے عشائیہ میں جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر میاں محمد اسلم اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے شرکت کی، چائنہ کے صدر شی چن پنگ سے بھی ملاقات کی ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا پاک چین دوستی پر ہمیں فخر ہے ۔ چینی صدر کا دورہ ٔپاکستان معاشی اور دفاعی حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کے خطہ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے کہا چائینہ کیمونسٹ پارٹی سے ہمارا اچھا رابطہ ہے ۔آن لائن کے مطابق چینی صدر سے اپوزیشن رہنمائوں کی ملاقاتوں کیلئے 10 منٹ کا وقت رکھا گیا جس میں 20 سے زائد سیاسی رہنمائوں کا مصافحہ بھی نہ ہوسکا۔ اپوزیشن رہنمائوں نے مختصراً اہم امور پر گفتگو کی۔