پاکستان اور چین میں 46 ارب ڈالر کے 51 سمجھوتے: ہمارا مستقبل مشترک ہے: شی جن پنگ: باہمی تجارت 20 ارب ڈالر کرنے پر اتفاق پاکستان کی معاشی ترقی اور خود مختاری کیلئے ساتھ کھڑے ہونگے: چین

پاکستان اور چین میں 46 ارب ڈالر کے 51 سمجھوتے: ہمارا مستقبل مشترک ہے: شی جن پنگ: باہمی تجارت 20 ارب ڈالر کرنے پر اتفاق پاکستان کی معاشی ترقی اور خود مختاری کیلئے ساتھ کھڑے ہونگے: چین

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + اے پی پی + آن لائن) پاکستان اور چین کے درمیان سدا بہار سٹرٹیجک تعاون شراکت داری کے تحت 46 ارب ڈالرزکے 51 سمجھوتوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے، وزیراعظم نواز شریف اور چینی صدر شی چن پنگ نے وزیراعظم آفس میں 8 منصوبوں کی نقاب کشائی کی جبکہ دونوں رہنمائوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے توانائی کے 5 بڑے منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ ان سمجھوتوں پر دستخط اور منصوبوں کا افتتاح وزیراعظم آفس میںہونے والی خصوصی تقریب میں ہوا۔ جن 8 منصوبوں کی نقاب کشائی کی گئی ان آٹھ منصوبوں میں لاہور میٹرو اورنج لائن ریلوے نظام، قائداعظم شمسی توانائی کا منصوبہ لاہور میں انڈسٹریل کمرشل بینک چائنا کی برانچ کھولنے، چھوٹے پن بجلی کے منصوبوں کیلئے پاک چین مشترکہ تحقیقی مرکز کا افتتاح اور پاکستان میں چین کے ثقافتی مرکزکے قیام کا آغاز شامل ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آپٹیکل فائبر کیبل منصوبے کا بھی آغاز ہو گیا، ریڈیو پاکستان اور چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کے ایف ایم 98 دوستی چینل سٹوڈیو کے افتتاح سمیت چینی صدر اور وزیراعظم نواز شریف نے 5 توانائی منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھ دیا۔ تقریب کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان سدا بہار سٹریٹجک تعاون شراکت داری کے حوالے سے کئی معاہدوں پر دستخط کئے گئے جن میں پاک چین اقتصادی راہداری کی چوتھی، جوائنٹ کو آرڈینیشن کونسل، چین اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعاون کا معاہدہ، دونوں ممالک کے درمیان ڈی ٹی ایم بی منصوبے کی نمائش کے حوالے سے فزیبلٹی سٹڈی بارے رپورٹ کا تبادلہ، انسداد منشیات کے حوالے سے آلات کی فراہمی بارے دستاویزات، قانون نافذ کرنے کے حوالے سے دستاویزات اور گوادر ہسپتال کی فزیبلٹی رپورٹ کا تبادلہ شامل ہے۔ جبکہ وزارت پانی و بجلی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 8370 میگاواٹ کے توانائی منصوبوں پر دستخط ہوگئے۔ یہ منصوبے 3 سال میں مکمل ہونگے۔ اے پی پی کے مطابق اس موقع پر دونوں اطراف سے جن دستاویزات پر دستخط کئے گئے ان میں سدا بہار سٹریٹجک باہمی شراکت داری کے قیام سے متعلق عوامی جمہوریہ چین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان مشترکہ اعلامیہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ دونوں اطراف نے جن معاہدوں‘ دستاویزات اور ایم او یوز پر دستخط کئے ان میں پاک چین اکنامک کوریڈور کے چوتھے جے سی سی کے اجلاس کے مندرجات‘ چین اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان اقتصادی و فنی تعاون کا معاہدہ‘ چین اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان ڈی ٹی ایم بی کے عملی مظاہرے کے پراجیکٹ کی فزیبلٹی سٹڈی کے نوٹس کا تبادلہ ‘ چین اور پاکستان کے درمیان انسداد منشیات کے آلات کی فراہمی کے نوٹس کا تبادلہ‘ چین اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان لاء انفورسمنٹ آلات کی فراہمی کیلئے نوٹس کا تبادلہ‘ دونوں ممالک کے درمیان گوادر ہسپتال کی فزیبلٹی سٹڈی کے نوٹس کا تبادلہ‘ چین کی وزارت تجارت اور پاکستان کی وزارت خزانہ و اقتصادی امور کے درمیان شاہراہ قراقرم (حویلیاں تا تھاکوٹ) کی اپ گریڈیشن کے دوسرے مرحلے کیلئے چینی حکومت کے رعایتی قرضہ سے متعلق مفاہمت کی یادداشت‘ چین کی وزارت تجارت اور پاکستان کی وزارت خزانہ و اقتصادی امور کے درمیان کراچی تا لاہور موٹروے (ملتان تا سکھر) کیلئے چینی حکومت کے رعایتی قرضے کی فراہمی سے متعلق مفاہمت کی یادداشت‘ چین کی وزارت تجارت اور پاکستان کی وزارت خزانہ و اقتصادی امور کے درمیان گوادر پورٹ ایسٹ بے ایکسپریس وے پراجیکٹ کیلئے چینی حکومت کے رعایتی قرضے کی فراہمی سے متعلق ایم او یو۔ چین کی وزارت تجارت اور پاکستان کی وزارت خزانہ و اقتصادی امور کے درمیان گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ کیلئے چینی حکومت کے رعایتی قرضے کی فراہمی سے متعلق مفاہمت کی یادداشت‘ حکومت پاکستان اور حکومت چین کے درمیان تجارتی خدمات سے متعلق معاہدہ کیلئے بینکنگ سروسز کے متعلق پروٹوکول‘ چین کے قومی ترقی اور اصلاحات کے کمیشن اور پاکستان کی وزارت خزانہ کے درمیان ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے سے متعلق میٹریل کی فراہمی سے متعلق ایم او یو‘ چین کی حکومت اور پاکستان کی حکومت کے درمیان بڑے مواصلاتی انفراسٹرکچر منصوبے کیلئے تعاون سے متعلق فریم ورک ایگریمنٹ‘ چین کے این ڈی آر سی اور پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کے درمیان تعاون سے متعلق ایم او یو‘ پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اور چین کی کیمونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے درمیان گوادر کے خطہ کی بندرگاہ کے پروبونو پراجیکٹس سے متعلق ایم او یو‘ چین کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے درمیان پاک چائنا مشترکہ کاٹن بائیوٹیک لیبارٹری کے قیام سے متعلق ایم او یو‘ چین کی نیشنل ریلوے ایڈمنسٹریشن اور پاکستان کی وزارت ریلویز کے درمیان حویلیاں ڈرائی پورٹ آف پاکستان ریلویز کے قیام اور ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن سے متعلق فزیبلٹی سٹڈی کے متعلق فریم ورک ایگریمنٹ‘ چین کی سمندری امور کی ریاستی انتظامیہ اور پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے درمیان پاک چین مشترکہ میرین ریسرچ سینٹر کے قیام سے متعلق پروٹوکول‘ چین کی سٹریٹ ایڈمنسٹریشن آف پریس، پبلیکیشن، ریڈیو، فلمز اور پاکستان کی وزارت اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ کے درمیان تعاون سے متعلق ایم او یو‘ پاکستان میں سی سی ٹی وی۔نیوز/سی سی ٹی وی۔9 ڈاکومنٹری کی ری براڈکاسٹنگ سے متعلق چائنا ٹیلی ویژن، پی ٹی وی اور پاکستان ٹیلی ویژن فائونڈیشن کے درمیان سہ فریقی معاہدہ ‘ چین کے صوبہ سی چوآن کے شہر چنگ دو اور لاہور سٹی کے درمیان جڑواں شہروں کے تعلقات کے قیام سے متعلق پروٹوکول‘ چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر ژوہے اور بلوچستان کے شہر گوادر کے درمیان جڑواں شہروں کے تعلقات کے قیام سے متعلق پروٹوکول‘ چین کے خود مختار علاقہ شیانگ جیانگ اوگور کے شہر کارا مے اور بلوچستان کے شہر گوادر کے درمیان جڑواں شہروں کے تعلقات کے قیام کے متعلق پروٹوکول‘ گوادر۔نواب شاہ ایل این جی ٹرمینل اور پائپ لائن پراجیکٹ سے متعلق این ای اے اور وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے درمیان فریم ورک ایگریمنٹ‘ لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ سے متعلق کمرشل کنٹریکٹ، لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کیلئے فنانسنگ سے متعلق معاہدہ‘ قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن فیز II (حویلیاں تا تھاکوٹ) کے ایل ایم، گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ پراجیکٹس کی فنانسنگ کیلئے ایم او یو‘ چین کے ایگزیم بینک، انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا لمیٹڈ اور ایس کے ہائیڈرو (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے درمیان 870 میگاواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے متعلق فنانسنگ ایگریمنٹ‘ چین کے ایگزیم بینک اور پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے درمیان پورٹ قاسم پر 660,660 میگاواٹ کے کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھروں کیلئے مالیاتی تعاون کا معاہدہ‘ چین کے ڈویلپمنٹ بینک کارپوریشن، ایگزیم بینک اور کروٹ پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے درمیان 720 میگاواٹ کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے فریم ورک فیسیلٹی ایگریمنٹ‘ چین کے ڈویلپمنٹ بینک کاپوریشن، ایگزیم بینک اور زونرجی کمپنی لمیٹڈ کے درمیان پنجاب میں مجموعی طور پر 100,100 میگاواٹ کے 9 زونرجی سولر پراجیکٹ کیلئے ٹرم شیٹ آف فیسیلٹی، یو ای پی ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ اور چائنا ڈویلپمنٹ بینک کارپوریشن کے درمیان جھمپیر ونڈ پاور پراجیکٹ سے متعلق ڈرا ڈائون ایگریمنٹ‘ چائنا ڈویلپمنٹ بینک کارپوریشن کے زیر اہتمام پاکستان کے صوبہ سندھ میں تھر بلاک ٹو 3.8 ایم ٹی/ اے مائننگ پراجیکٹ کیلئے سندھ ایگرو کول مائننگ کمپنی کیلئے شرائط و ضوابط‘ چین ڈویلمپنٹ بینک کارپوریشن کے زیر انتظام تھر بلاک ٹو کے 330,330 میگاواٹ کے کوئلہ سے چلنے والے پراجیکٹ کیلئے اینگرو پاور جن‘ تھر لمیٹڈ کیلئے شرائط و ضوابط‘ چائنا ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور ایچ بی ایل کے درمیان چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور پر عمل درآمد سے متعلق فنانسنگ کارپوریشن کا فریم ورک ایگریمنٹ‘ واپڈا اور سی ٹی جی کے درمیان تعاون سے متعلق ایم او یو، پرائیویٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے فروغ سے متعلق پی پی آئی بی، سی ٹی جی اور سلک روڈ فنڈ کے مابین ایم او یو‘ آئی سی بی سی چین کی پی سی سی اور ایچ ڈی پی پی ایل کے درمیان دائود ونڈ پاور پراجیکٹ کیلئے سہولت کا حامل معاہدہ ‘ فنانشل سروسز کارپوریشن سے متعلق آئی سی بی سی اور ایچ بی ایل کے درمیان پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اور صنعتی پارکس کی ترقی کیلئے فریم ورک ایگریمنٹ‘ آئی سی بی سی اور ایس ایس آر ایل کے درمیان تھر بلاک۔I کیلئے فنانسنگ ٹرم شیٹ ایگریمنٹ‘ صوبہ پنجاب اور چائنا ہواننگ گروپ کے درمیان انرجی سٹریٹجک کوآپریشن فریم ورک ایگریمنٹ‘ وزارت پانی و بجلی اور چین کی ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس کارپوریشن کے درمیان چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور انرجی پراجیکٹ کوآپریشن سے متعلق فریم ورک ایگریمنٹ‘ پاکستان میں تھرکول فیلڈ بلاک I کول پاور انٹیگریٹڈ پراجیکٹ کیلئے سائنو سندھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور شنگھائی الیکٹرک گروپ کے درمیان تعاون معاہدہ‘ نیشنل ٹرانسمیشن ڈسٹری بیوشن کمپنی اور نیشنل گرڈ آف چائنا کے درمیان مٹیاری لاہور اور مٹیاری (پورٹ قاسم)۔فیصل آباد ٹرانسمیشن کا تعاون معاہدہ‘ پاور چائنا اور حکومت پاکستان کے درمیان پورٹ قاسم کے کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھر سے متعلق آئی اے‘ چین کے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک لمیٹڈ، ہواننگ شن ڈونگ الیکٹرسٹی لمیٹڈ اور شن ڈونگ روئی گروپ کے درمیان ساہیوال کے کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھر کے پراجیکٹ کیلئے فیسیلٹی ایگریمنٹ‘ سی پی آئی ایچ اور حبکو پاور کمپنی کے درمیان حبکو کے کوئلہ کے بجلی گھر کے پراجیکٹ سے متعلق تعاون معاہدہ‘ سی ایم ای سی اور حکومت پنجاب کے درمیان سالٹ رینج کے کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھر کے پراجیکٹ سے متعلق سہولتی معاہدہ‘ اعلیٰ تعلیم سے متعلق تعاون کیلئے نمل پاکستان اور شن جیانگ نارمل یونیورسٹی اورمچی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت اور نمل پاکستان اور شن جیانگ نارمل یونیورسٹی اورمچی چائنا کے درمیان نمل انٹرنیشنل سینٹر آف ایجوکیشن کے قیام کیلئے تعاون کا معاہدہ شامل ہیں۔

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+بی بی سی +آئی این پی) وزیراعظم نواز شریف اور چینی صدر شی چن پنگ نے کہا ہے پاکستان اور چین دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے تعاون کر رہے ہیں اور چین دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرے گا، چین کی سلامتی اپنی سلامتی سمجھتے ہیں، دونوں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے متفق ہیں دونوں ملکوں کے درمیان معاہدوں سے نئے دور کا آغاز ہو گا اور چینی صدرکے دورہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات بلندیوں کی نئی حدوں کو چھوئیں گے، آئندہ برسوں میں پاک چین اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط ہو گی، پاکستان اور چین کا مستقبل مشترک ہے۔ وہ پیر کو اربوں ڈالر کے منصوبوں کے حوالے سے معاہدوں پر دستخطوں اور ان کے افتتاح کی تقریب کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے کہا شی چن پنگ ایک عظیم رہنما اور پاکستان کے اچھے دوست بھائی ہیں، پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے مضبوط ہے، افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اقتصادی راہداری سے چاروں صوبوں کو بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے، چین کی سلامتی اپنی سلامتی سمجھتے ہیں، دونوں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے متفق ہیں، ہم نے عوامی رابطوں کے فروغ پر اتفاق کیا، ہمارے تعلقات کا اہم جزو مستقل مزاجی اور تسلسل ہے، پاک چین تعلقات کو ہمیشہ فروغ ملا، ہمارے تعلقات کی بنیاد باہمی اعتماد اور مفاد پر مبنی ہے، چینی صدر کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بلندیوں تک جائیں گے۔ اس موقع پر چینی صدر شی چن پنگ نے کہا پاکستان اور چین اچھے بھائی ہیں، ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کی، میرے دورے کا مقصد پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے، مجھے اپنے پاکستانی دوست سے مل کر بے حد خوشی ہوئی۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حمایت کرتے ہیں اور پرجوش استقبال پر پاکستانی عوام اور حکومت کے شکر گزار ہیں، آئندہ دس برسوں میں پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں گے، پاک چین تعاون کے مختلف منصوبوں کے سنگ بنیاد اور افتتاح پر بے حد خوشی ہوئی، ہم دونوں کا مستقبل مشترک ہے، رواں سال دوستی کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں ، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو سٹریٹجک پارٹنر شپ میں بدلنا چاہتے ہیں، خطے میں مستقبل کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، اقتصادی راہ داری منصوبہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے، دونوں ممالک میں 30 معاہدوں کا تعلق اقتصادی راہداری سے ہے۔ انہوں نے کہا چینی معاہدوں سے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، اقتصادی راہداری میں درمیانی اور طویل مدت سرمایہ کاری کر رہے ہیں، بلوچستان میں شرح خواندگی میں اضافے کیلئے مالی تعاون فراہم کر رہے ہیں، پاکستان کی پڑوسی ملکوں کے ساتھ پر امن بقا ہے، باہمی تعاون کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں، افغانستان میں مفاہمت کے عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں ۔انہوں نے کہا پاکستان اور چین اچھے بھائی ہیں، ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ بی بی سی کے مطابق چین کے صدر شی چن پنگ نے کہا پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے منصوبوں میں 30 سے زائد منصوبے اقتصادی راہداری سے متعلق ہیں اپنے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا پاکستان اور چین نے 51 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ’آج ہم نے مستقبل کی منصوبہ بندی کی ہے اور ہمارے تعلقات کا اہم جزو مستقل مزاجی ہے۔‘ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا اس سے تمام صوبوں کو فوائد ملیں گے اور اس سے پاکستان خطے میں اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہو گا۔ انہوں نے کہا اقتصادی راہداری چین کے لیے بھی ایشیا کے مختلف ممالک سمیت مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک تک رسائی اور وہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک سستا راستہ ثابت ہو گا۔ ’یہ راہداری امن اور خوشحالی کی علامت بنے گی۔ چین کے صدر شی نے کہا دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا وہ اس سلسلے میں پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے۔ صدر شی نے بھی وزیراعظم نواز شریف کی طرح اپنے ملک کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو اہم قرار دیا ’ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو چین کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ ترجیحی رخ پر رکھتے ہیں۔‘ اپنے خطاب میں چین کے صدر نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کا ذکر بھی کیا اور کہا وہ کہتے تھے صرف مشترکہ اور مسلسل محنت ہی ہمارے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ چین کے صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان کا ذکر بھی کیا اور کہا پاکستان اور چین افغانستان میں مفاہمتی عمل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے پر متفق ہیں تاکہ وہاں امن اور استحکام ہو۔ چین کے صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک بلوچستان کی تعمیرو ترقی کے لیے مفت معاشی مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا اقتصادی راہداری معاہدوں میں گوادر پورٹ، قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈنگ کے پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ، کراچی اور لاہور موٹر وے سمیت انرجی سمیت مختلف منصوبے شامل ہیں۔ چینی صدر کے دورۂ پاکستان کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شی چن پنگ اور اْن کے وفد میں شامل افراد کی سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے 111 بریگیڈ کو سونپی گئی جبکہ رینجرز اور اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس نے فوج کی معاونت کی۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے چینی صدر کی پاکستان میں موجودگی کے دوران وفاقی دارالحکومت میں بھاری ٹریفک کا داخلہ بندکئے رکھا جبکہ ایئرپورٹ روڈ کو بھی چھ گھنٹے تک بند رکھا ۔

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) چین کے صدر شی چن پنگ کے دورہ پاکستان کا 20 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں پیشرفت پر اتفاق کیا گیا دو طرفہ تجارت 20 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا۔ باہمی تجارت کے معاہدوں پر مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع کرنے پر بھی اتفاق ہوا باہمی تجارت میں عدم توازن کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا۔ چین پاکستان کی معاشی بہتری کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستان نے شاہراہ ریشم فنڈ کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ پاکستان اور چین کے دو طرفہ تعلقات میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاک چین دوستی نسل در نسل جاری رہے گی۔ پاک چین تعلقات سٹرٹیجک اہمیت کے حامل ہیں اہم عالمی معاملات پر چین کے موقف کی پاکستانی حمایت پر شکرگزار ہیں۔ چین ہمسایہ ملکوں سے مسائل مذاکرات سے حل کی پاکستانی کوشش کو سراہتا ہے۔ پاک چین دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کے ساتھ دوستی چین کی خارجہ پالیسی کا ترجیحی نقطہ ہے۔ پاکستان کی سلامتی، خود مختاری کیلئے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات خطے میں استحکام اور ترقی کی ضمانت ہیں چین کی سالمیت اور خود مختاری کی بھرپور حمایت کرتے ہیں دونوں ممالک نے باہمی مفادات کیلئے رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ گوادر رپورٹ، توانائی، مواصلاتی انفراسٹرکچر اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔