شاعر مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی ستتر واں یوم وفات آج عقیدت و احترام سے منایاجارہاہے

شاعر مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی ستتر واں یوم وفات  آج عقیدت و احترام سے منایاجارہاہے

 شعر کیساتھ ﻣِﺮﺍ ﻃﺮﯾﻖ ﺍﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﻘﯿﺮﯼ ﮨﮯﺧﻮﺩﯼ ﻧﮧ ﺑﯿﭻ، ﻏﺮﯾﺒﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻡ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮمفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال کی ستتر ویں برسی آج نہایت عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے۔  ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے نہ صرف معروف شاعر تھے بلکہ انتہائی قابل قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی، مصنف اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔  بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہ پاکستان پیش کرنا ہے جو بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔اپنی مِلّت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیعلامہ اقبال کی شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں کوغفلت سے بیدار کرکے نئی منزلوں کا پتہ دیا۔ ان کی شاعری روایتی انداز و بیاں سے یکسر مختلف تھی کیونکہ ان کا مقصدبالکل جدا اور یگانہ تھا ۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی جو تحریکِ آزادی میں بے انتہا کارگر ثابت ہوئی۔بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا انہوں نے بچوں کیلئے پہاڑ اور گلہری،جگنو ،بچے کی دعا جیسی متعدد نظمیں لکھیں  جو اب نصاب کا حصہ ہیں لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میریشکوہ کے جواب میں اقبال نے جواب شکوہ لکھی، جو انیس سو تیرہ کے ایک جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی جواب شکوہ کا کئی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے علامہ اقبال نے تمام عمر مسلمانوں میں بیداری و احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں،علامہ اقبال اپنی کوششوں کی عملی تصویر دیکھنے سے پہلے اکیس  اپریل انیس سو اٹھتیس میں خالقِ حقیقی سے جا ملے