پاکستان پھانسیوں پر پابندی لگائے: اقوام متحدہ‘ عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہے: دفتر خارجہ

پاکستان پھانسیوں پر پابندی لگائے: اقوام متحدہ‘ عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہے: دفتر خارجہ

نیویارک+اسلام آباد(ایجنسیاں)اقوام متحدہ نے پاکستان میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد پر اظہار تشویش کرتے ہوئے دوبارہ پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا جبکہ پاکستان نے کہا ہے سزائے موت پر عملدرآمد سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔ جمعرات کو پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں آٹھ ہزار افراد پھانسی کے منتظر ہیں۔ اقوام متحدہ کے 160 سے زائد رکن ممالک میں پھانسی کی سزا ختم ہوچکی ہے، اکیسویں صدی میں سزائے موت کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ زندہ رہنا بنیادی انسانی حق ہے۔ ترجمان اقوام متحدہ پاکستان نے شفقت حسین کیس پر نظرثانی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ پاکستان میں پھانسی کی سزا دوبارہ شروع ہونے پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زائد رعد الحسین نے بھی اظہار تشویش کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے کہا ہے کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی، پھانسیوں کے حوالے سے عالمی برادری کو اپنا موقف واضح طور پر بتا چکے ہیں، چینی صدر   23مارچ کو  پاکستان نہیں آرہے  تاہم دورہ نہ کر نے کے  حوالے سے  خبریں بے بنیاد ہیں، گرجا گھروں پر حملہ مسیحی برادری پر نہیں بلکہ پاکستان پر حملہ ہے، ذکی الرحمن لکھوی کیس میں بھارت کی جانب سے ٹھوس شواہد نہیں  دیئے گئے، الطاف حسین کے حوالے سے وزارت داخلہ سے رجوع کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ  یورپی یونین پاکستان کی پوزیشن کو سمجھتی ہے، سزائے موت کا جی ایس پی پلس درجے پر اثر نہیں پڑے گا، پاکستان بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتا ہے، پھانسیوں کے حوالے سے عالمی برادری کو اپنا موقف واضح طور پر بتا چکے ہیں۔ ہمارا آئین و قانونی طریقہ کار سزائے موت کی اجازت دیتا ہے۔ دہشت گرد بلا امتیاز پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، دہشت گردوں کا کسی مذہب، رنگ و نسل سے کوئی تعلق  نہیں، دہشت گرد پاکستان میں مساجد، امام بارگاہوں، گرجا گھروں اور بازاروں کو نشانہ بنارہے ہیں، گرجا گھروں پر ہونے والا حملہ مسحی برادری پر نہیں بلکہ پاکستان پر ہے، دہشت گرد کسی خاص طبقے کے دشمن نہیں بلکہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ  ذکی الرحمن لکھوی کیس میں بھارت کی جانب سے پاکستان کو ٹھوس شواہد پیش نہیں  دیئے گئے، سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس پر کئی بار یاددہانی کرا چکے ہیں لیکن تاحال بھارت کی جانب سے کیس میں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ افغان حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔