وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات: کراچی آپریشن سے صورتحال بہتر ہوئی‘ کارروائی سب کے مفاد میں ہے: نوازشریف

وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات: کراچی آپریشن سے صورتحال بہتر ہوئی‘ کارروائی سب کے مفاد میں ہے: نوازشریف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نیوز ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم نواز شریف سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی اور آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم سے فیصل آباد ڈویژن کے ارکان اسمبلی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے معاشی مرکز میں امن واستحکام قائم کرنا اولین ذمہ داری ہے،کراچی شہر میں سرچ آپریشن مکمل اتفاق رائے سے شروع کیا گیا، آپریشن سے صورتحال میں بہتری آئی۔ اراکین نے ملاقات میں وزیراعظم کو متعلقہ حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق معاملوں سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں آپریشن تمام سیاسی جماعتوں کی مکمل اتفاق رائے سے شروع کیا گیا جس کے بعد شہر کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور ٹاگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم میں بھی کمی آئی۔ انہوں نے کہا کسی کو غیرقانونی اسلحہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کی خرابیوں کو فوری درست نہیں کیا جا سکتا، تاہم ملک کے معاشی مرکز میں امن و استحکام قائم کرنا بھی ریاست ہی کی اولین ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت قومی امور پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیتی ہے۔ تمام جماعتوں کا احترام اور اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جمہوریت کو مضبوط اور تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ انتخابات سے قبل چیلنجز پر قابو پانے کا عزم رکھتے ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی سب کے مفاد میں ہے ٗ ملک میں کسی کے پاس بھی غیر قانونی ہتھیار رکھنے کا کوئی جواز نہیں، سنگین جرائم میں سزا پانے والے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔ ماضی میں ہونیوالی خرابیوں کو جادو کی چھڑی سے فوری دور نہیں کیا جاسکتا۔ ہم عالمی برادری میں پاکستان کا تشخص بہتر بنانا چاہتے ہیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن کے آغاز سے کراچی کی صورتحال میں نمایاں طور پر بہتری آئی اور اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی واقع ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کسی کے پاس بھی غیر قانونی ہتھیار رکھنے کا کوئی جواز نہیں، سنگین جرائم میں سزا پانے والے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، چین اور دیگر ممالک سے بجلی درآمد کرنے کے حوالے سے کام ہورہا ہے۔ گزشتہ عشروں کی خرابیوں کو جلد دور کریں گے، آئندہ انتخابات سے قبل تمام چیلنجز پر قابو پالیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف سے آرمی چیف کی ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ سیاسی و عسکری قیادت کی ملاقات میں ملک کی سکیورٹی کی مجموعی صورتحال، پاک فوج کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں دہشت گردوں کیخلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ملاقات میں کراچی کی صورتحال اور قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ فضائیہ کے نئے سربراہ ائرچیف مارشل سہیل امان نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر سہیل امان کو مبارکباد دی اور اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ائرچیف مارشل فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لئے کام جاری رکھیں گے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نواز شریف نے ایم این اے خسرو بختیار کے والد کے انتقال پراظہار تعزیت کیا۔