قومی اسمبلی، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ 57‘ قتل36‘ بھتہ خوری 37 فیصد کم ہو گئی: وزارت داخلہ

قومی اسمبلی، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ 57‘ قتل36‘ بھتہ خوری 37 فیصد کم ہو گئی: وزارت داخلہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نیوز ایجنسیاں) سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں رکن جماعت اسلامی عائشہ سید نے عطائی ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ حکومت کی جانب سے جواب کے لئے متعلقہ وزیر موجود نہیں تھے۔ سپیکر نے کہا کہ وزیر نہیں تو پارلیمانی سیکرٹری اور دیگر سٹاف موجود ہے۔ آپ سوال پوچھیں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ انسانیت کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ڈاکٹر عذرا افضل نے کہا کہ پولیو ورکرز کی شہادت المیہ ہے۔ سکیورٹی اقدامات بڑھائے جائیں۔ اجلاس میں سپیکر ایاز صادق سی ڈی اے پر برہم ہو گئے۔ سپیکر نے کہا کہ کوئی منصوبہ وقت پر مکمل نہیں ہوتا۔ ہر طرح سے کہہ کر دیکھ لیا، 24 مارچ کو میٹنگ بلا کر گوش گزار کریں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ آپ گوش گزار نہ کرائیں انہیں ہدایت دیں۔ پھر بھی نہیں مانتے تو ان کے خلاف پورے ایوان کی توہین کی کارروائی کریں۔ قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے وزارت داخلہ کے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں 57 فیصد، قتل کی وارداتوں میں 36 فیصد، بھتہ خوری میں 37 اور ڈکیتی کی وارداتوں میں 24 فیصد کمی ہوئی۔ تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ کراچی سے 35 ہزار 937 ملزم گرفتار کئے گئے۔ موجودہ حکومت نے 36 ہزار سے زائد اسلحہ کے لائسنس جاری کئے جبکہ 36 ہزار جعلی لائسنس پکڑے گئے، غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر 3362 افراد کو گرفتار کر کے ان سے اسلحہ قبضے میں لیا گیا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایوان کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ آئندہ سال کے مالی بجٹ میں پاکستان بیت المال کا بجٹ بڑھانے کے لئے وزیراعظم اور وزیر خزانہ سے بات کریں گے۔ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر برائے ریاستیں و سرحدی امور (سیفران ) جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب نے طالبان کی کمر توڑ دی، ان کی تنظیم تتر بتر ہوگئی اور اس کے ارکان جان بچانے کیلئے بھاگ رہے ہیں، دسمبر 2016ء تک تمام آئی ڈی پیز واپس جا چکے ہوں گے، آئی ڈی پیز کے علاقوں میں حکومت متاثرین کے گھر بار، مارکٹیں، سکول اور سرکاری عمارات کی تعمیر کا جامع پروگرام بنا چکی تاہم اس عمل میں ڈیڑھ سال لگے گا اور 81 ارب روپے لگیں گے، 50 ارب متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی اور 30 ارب گھروں کی تعمیر پر خرچ ہوں گے۔ وہ اسمبلی میں جاری بحث سمیٹ رہے تھے۔ دریں اثناء پاکستان بیت ا لمال کی کارکردگی کی قومی اسمبلی میں خوب تعریف کی گئی اور ارکان نے مطالبہ کیا کہ غریب عوام کی مدد کرنے والے اس ادارے کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی بیت ا لمال کے سابق سربراہ زمر خان اور موجودہ سربراہ دونوں کی کاکردگی کو سراہا۔ بیت ا لمال کے بجٹ کے سلسلہ میں ایک توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ وزیراعظم سے پاکستان بیت المال کا بجٹ بڑھانے کے لئے پہلے سے درخواست کی گئی ہے کہ ادارے کا کم از کم بجٹ آٹھ ارب روپے سالانہ ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں ممبران پارلیمنٹ لاجز کی چھتوں کے ٹپکنے سمیت دیگر مسائل پر سی ڈی اے حکام کے خلاف پھٹ پڑے، محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ لاجز اور اولڈ ایم این اے ہاسٹل سمیت دیگر سرکاری عمارات کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذمہ داری سی ڈی اے سے واپس لینے کا مطالبہ کر دیا، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ سی ڈی اے حکام کے بارے نرم رویہ اختیار کرنے کی بجائے واضح احکامات جاری کریں، اگر نہ مانے جائیں تو توہین سپیکرو ایوان کے تحت ان کے خلاف کارروائی کریں۔ ارکان نے سی ڈی اے حکام کے رویئے پر احتجاج کیا۔ علاوہ ازیں انڈین فارن سروس گروپ کے زیر تربیت افسروں نے جمعرات کے روز ایوان زیریں، قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی دیکھی۔