عمران فاروق کیس: قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتے ہیں: نثار

عمران فاروق کیس: قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتے ہیں: نثار

اسلام آباد+ کراچی (سٹاف رپورٹر+ بی بی سی+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کو بتایا کہ کراچی کے حالات میں ایم کیو ایم کے کردار کے بارے میں برطانوی ہائی کمشنر کے ذریعہ برطانوی حکومت کو باقاعدہ کوئی درخواست نہیں دی البتہ فوج اور رینجرز کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے ہائی کمشنر کے ساتھ ضرور بات کی گئی ہے جبکہ صولت مرزا کی خراب صحت کی وجہ سے اس کی پھانسی ملتوی کی گئی اور شفقت حسین کی عمر کے بارے میں درست ریکارڈ مانگا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں ایک مختصر بیان میں انہوں نے کہا کہ برطانوی ہائی کمشنر کے ساتھ ملاقات سمیت کچھ نکات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ روز برطانیہ کے ہائی کمشنر مجھے ملنے آئے۔ غیرملکی اور ملکی میڈیا سے خبریں چلیں کہ حکومت پاکستان نے کراچی کے حوالے سے برطانوی حکومت سے کوئی باضابطہ درخواست کی ہے تاہم یہ خبر درست نہیں۔ بطور ایک ذمہ دار اسلامی ملک ہماری ذمہ داری ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کیس کو سیاسی نہ بنایا جائے اور یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے قاتلوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، اس سلسلہ میں ہمارے پاس جو ثبوت اور شواہد ہیں وہ برطانیہ کو فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شفقت حسین کی پھانسی کے حوالے سے ہائی کورٹ‘ سپریم کورٹ سے درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ صدر سے رحم کی اپیل اور سندھ ہائی کورٹ سے نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد ہو چکی، اس کے باوجود ہمارے عدالتی نظام پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ شفقت حسین جب جیل گیا تو جیل کے ڈاکٹر نے اس کی عمر پچیس سال بتائی، جیل کے ریکارڈ میں تیئس سال لکھی گئی۔ آزاد کشمیر حکومت سے بھی نادرا کا ریکارڈ منگوایا گیا ہے۔ میں نے پوری کوشش کی اور رات گئے وزیراعظم کی ہدایت پرفیصلہ کیا گیا، یہ صدر مملکت کے دستخطوں سے ہی ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صولت مرزا کی پھانسی کی سزا کو بھی بہتر گھنٹوں کے لئے ملتوی کیا گیا ہے۔ حکومت بلوچستان سے درخواست موصول ہوئی کہ صولت مرزا کی صحت ایسی نہیں کہ اسے پھانسی دی جائے۔ ایک نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تو ایوان کی کارروائی کے پہلے دن ہی نائن زیرو کے حوالے سے بات کرنا چاہتے تھے مگر بزنس ایڈوائزری میں فیصلہ اپوزیشن ارکان کی درخواست پر ہوا۔ جس کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بات نہیں کی۔ سپیکر نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے تحریک التواء واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ بی بی سی کے مطابق انہوں نے ایوان سے درخواست کی کہ عمران فاروق کے کیس کو سیاسی جوڑ توڑ کا حصہ بنانے سے گریز کیا جائے یا اس کے سیاسی نتائج تلاش کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران فاروق کے قاتلوں کو سزا ملنی چاہئے اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی پیروی کرنا ہمارا فرض ہے۔ آئی این پی کے مطابق وزیر داخلہ نے واضح کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس کی مکمل پیروی کی جائے گی۔ شفقت کی پھانسی کے معاملے پر صدر مملکت سے بات ہوئی۔ شفقت حسین کی عمر کا تعین کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ اگر کوئی 36گھنٹوں کے اندر مجرم کی کم عمری کا ثبوت دے سکے تو بات بڑھائی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ برطانیہ ہائی کمشنر سے ملاقات پر ارکان قومی اسمبلی کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں، برطانیہ کو باضابطہ کوئی درخواست نہیں کی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے قاتلوں کو سزا ملے۔ نثار علی خان نے کہا کہ قاتلوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں  ارکان کے مسائل کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نائن زیرو کے واقعہ پر ایوان میں بات کیلئے تیار تھا لیکن بزنس ایڈوائزری میں طے ہوا کہ اس معاملے پر بات نہ کی جائے۔ اگر ایوان چاہتا ہے تو میں  ایوان کو نائن زیرو بارے اعتماد میں لینے کیلئے تیار ہوں۔ دریں اثناء مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ نے گزشتہ روز برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات کرکے الطاف حسین کے حوالے سے ضروری دستاویزات ان کے حوالے کی ہیں۔ الطاف حسین کے خلاف اندراج مقدمہ کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ سے متعلق ہے تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ کس قسم کی دستاویزات فراہم کی گئی ہیں۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر فلپ بارٹن اچانک لندن روانہ ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی روانگی پہلے سے شیڈول نہیں تھی جبکہ برطانوی سفارتخانے کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر معمول کی چھٹیوں پر گئے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر داخلہ چودھری نثار سے جمعرات کو برطانوی ہائی کمشنر نے اہم ملاقات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں نثار نے فلپ بارٹن کو الطاف حسین کے خلاف ثبوت دئے تھے۔ چودھری نثار کی جانب سے دی گئی دستاویزات میں الطاف حسین کے خلاف قائم مقدمات کی ایف آئی آر اور الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریروں کے کلپس بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے انہیں کراچی کی صورتحال اور الطاف حسین کے خلاف مقدمے کے حوالے سے بتایا تھا اور درخواست کی تھی کہ برطانیہ حکومت کو پاکستانی خدشات پہنچائے جائیں جس پر برطانوی ہائی کمشنر لندن روانہ ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق فلپ بارٹن برطانوی حکام کو پاکستانی حکومت کے خدشات اور وزیر داخلہ کا خط پہنچائیں گے اور بعد ازاں ان کی واپسی پر وزیر داخلہ سے ملاقات متوقع ہے۔