صولت مرزا کے بیان کی قانونی حیثیت نہیں: معاملہ اقوام متحدہ‘ عالمی عدالت انصاف میں لے جائینگے: ایم کیو ایم

صولت مرزا کے بیان کی قانونی حیثیت نہیں: معاملہ اقوام متحدہ‘ عالمی عدالت انصاف میں لے جائینگے: ایم کیو ایم

کراچی (خصوصی رپورٹر/ نوائے وقت رپورٹ) ایم کیو ایم کے ماہر قانون سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ صولت مرزا کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے، ایم کیو ایم صولت مرزا کے بیان کو مسترد کرتی ہے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صولت مرزا کا کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا تھا، اس کے ویڈیو بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ صولت مرزا کا جو بیان ریکارڈ میں ہے اس میں کہیں ایسی باتیں نہیں کہی گئیں۔ ریکارڈ میں آنے کے بعد کیا کوئی بیان بدل سکتا ہے؟ سوچنا یہ ہے کہ کیا کوئی سیاسی جماعت ہمارا میڈیا ٹرائل کر رہی ہے؟ الطاف حسین یا گورنر سندھ الزامات مسترد کر چکے ہیں۔ کیا فرمائش پر یہ بیان ریکارڈ کرایا گیا؟ اپیلیں خارج ہونے کے بعد دفعہ 164 کا بیان نہیں ہوتا۔ کس قانون کے تحت مجرم کی فرمائش پر بیان  ریکارڈ کرایا گیا۔ چودھری نثار صاحب! یہ کیا ہو رہا ہے۔ میرا چودھری نثار کو مشورہ ہے کہ مشورے دینے والوں کے بارے میں سوچیں۔ بغیر تحقیق بیان بازی پر ہتک عزت کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ صولت مرزا نے جرم کے 18 سال بعد بیان دیا ہے، اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے کر جائیں گے، عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرینگے، کس قانون کے تحت مجرم کی فرمائش پر بیان ریکارڈ کرایا گیا؟ پھانسی کے مجرم کو زندگی کا لالچ دے کر ایسے بیانات دلائے جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم کیخلاف بے بنیاد اقدام کیا گیا ہے۔ بغیر ثبوت پگڑی اچھالی گئی، قانون کا غلط استعمال کیا گیا۔ اس سے قبل ایک بیان میں متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کہاہے کہ صولت مرزا کا ڈیتھ سیل سے جو ویڈیو بیان جاری کرایا گیا ہے، ایم کیوایم اس میں لگائے گئے الزامات یکسر مسترد کرتی ہے اور اسے ایم کیوایم کے خلاف جاری گھناؤنے میڈیا ٹرائل کا تسلسل قراردیتی ہے۔ صولت مرزا گزشتہ 17 سال سے جیل میں اسیر ہیں، ایسے فرد کو جو سزائے موت کے فیصلے کے بعد شدید ذہنی کرب واذیت اور دباؤ کا شکار ہو، اس کے وڈیو بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے سزاکی معافی یا مؤخرکرنے کی لالچ دے کر ایم کیوایم کے خلاف طے شدہ بیان پڑھنے پر مجبور کیا گیا ہے تاکہ ایم کیو ایم کو دنیا بھر میں بدنام کیا جائے اوراسکے خلاف مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔ ڈیتھ سیل سے صولت مرزا کا وڈیوبیان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ میں انوکھی مثال ہے، یہ آئینی وقانونی ماہرین اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی قیدی کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعدصرف اسکے اہل خانہ سے آخری ملاقات کرائی جاتی ہے اس کے علاوہ اس سے کسی کوملنے نہیں دیا جاتا، میڈیا پربھی یہ خبریں آچکی ہیں کہ صولت مرزاکے ڈیتھ سیل کومکمل طورپر سیل کر دیا گیا ہے۔ پھر  صولت مرزا کا بیان کس طرح ریکارڈ کیا گیا، عوام اس کے پس پردہ مقاصدکواچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کا مقصد ایم کیوایم کوبدنام کرناہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ پاکستان کے عوام اورتمام آئینی وقانونی ماہرین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیںکہ یہ ویڈیو پیغام پاکستان کی تاریخ کی ایک انوکھی مثال ہے کیونکہ آج تک ڈیتھ سیل سے کسی قیدی کا ویڈیوبیان ٹی وی چینل پرنشر نہیں کیا گیا۔ اگر یہ عمل قانون کے مطابق درست اورجائز ہے اورایساکرناواقعی قوم کے مفادمیں ہے توپھر ہمارا سوال یہ ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش میں سزائے موت پانے والے ڈاکٹر عثمان اور سزائے موت پانے والے درجنوں قیدیوں کے اس طرح کے بیانات ٹی وی پر کیوں نشر نہیں کیے گئے؟ صولت مرزاسے ویڈیو بیان میں جوکچھ کہلوایا گیاہے اگریہ سب کچھ درست اور حقیقت ہوتا تو کیس کی تفتیش اور نچلی عدالت، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں ہونے والی عدالتی کارروائی میں یہ باتیں ضرور بیان کی جاتیں۔ ایم کیوایم لاکھوں کروڑوں عوام کی منتخب نمائندہ جماعت ہے اور ایم کیوایم کا میڈیا ٹرائل کرنا اور مذموم مقاصد کے تحت اس پر بہتان تراشی کرنا عوامی مینڈیٹ کی کھلی توہین ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پرکامل یقین ہے کہ سازشی عناصر نے اس ویڈیو بیان کے ذریعے ایم کیوایم کے کارکنان اورعوام کوایم کیوایم کے خلاف ورغلانے کی جوگھناؤنی سازش کی ہے وہ سازش کامیاب نہیں ہوگی، حق پرست تحریک کے خلاف ایسی گھناؤنی سازش کرنے والے عناصر ماضی کی طرح ناکام اور نامراد ہوں گے۔