صولت مرزا کے الزامات‘ الطاف‘ عشرت العباد‘ بابر غوری سمیت متحدہ کے رہنمائوں سے تفتیش ہو سکتی ہے

صولت مرزا کے الزامات‘ الطاف‘ عشرت العباد‘ بابر غوری سمیت متحدہ کے رہنمائوں سے تفتیش ہو سکتی ہے

لاہور (ایف ایچ شہزاد سے) پاکستان کے مروجہ قوانین صولت مرزا کے الزامات پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور بابر غوری سمیت متحدہ کے دیگر رہنمائوں کو شاہد حامد قتل کیس میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت دیتے ہیں البتہ صولت مرزا کی سزائے موت کو صدر پاکستان کی طرف سے معافی دیئے جانے کے آئینی اختیار کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ممکنہ جے آئی ٹی سے قانون اس بات کا جائزہ لینے کا اولین تقاضہ کرے گا کہ مجرم صولت مرزا نے انتقامی کارروائی و سزا کو ختم کروانے یا اس میں رعایت کیلئے جھوٹا بیان تو نہیں دیا اس لئے تمام الزامات ثابت کرنے کا بوجھ صولت مرزا پر ہو گا کہ وہ تفتیش کرنے والی ٹیم کو اپنے الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد فراہم کرے۔ اگر حکومت صولت مرزا کے الزامات کی بنیاد پر تفتیش کا آغاز کرنا چاہتی ہے تو اس کیلئے صولت مرزا کی سزا کو اس وقت تک مؤخر رکھنا قانونی تقاضا ہو گا جب تک ثبوت کے ساتھ الزامات غلط یا درست ثابت نہ ہو جائیں ورنہ صولت مرزا کی پھانسی کے ساتھ ہی تمام الزامات ازخود ختم ہو جائیں گے۔ فوجداری امور کے قانونی ماہرین اور وکلاء کا کہنا ہے کہ تفتیش شروع کرنے کیلئے صولت مرزا کو ضابطہ فوجداری کے سیکشن 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے بیان دینے کی ضرورت نہیں۔ شاہد حامد قتل کیس میں صولت مرزا کو کسی صورت وعدہ معاف گواہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ ٹرائل کورٹ کی طرف سے ان کو مجرم قرار دیکر سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ اپیل اور نظرثانی کی تمام درخواستیں بھی خارج ہو چکی ہیں البتہ تفتیش کے بعد صولت مرزا کے دیگر الزامات کو درست مان کر کوئی اور مقدمہ قائم کیا گیا تو اس میں صولت مرزا کو وعدہ معاف گواہ بنایا جا سکتا ہے۔ پروسیجرل قانون کے تحت صولت مرزا کی سزا پر عملدرآمد کیلئے دوبارہ ڈیتھ وارنٹ جاری ہونگے البتہ اہل خانہ سے دوبارہ ملاقات کا دارومدار مجرم کی خواہش پر ہو گا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہد حامد قتل کیس میں اگر ازسرنو تفتیش کی گئی اور اس میں صولت مرزا کے ساتھ کوئی اور ملزم بھی گناہ گار پایا گیا تو پولیس تعزیرات پاکستان کے سیکشن 109 کے تحت اضافی چالان پیش کر سکتی ہے۔