صولت مرزا کا بیان‘ گورنر کو ہٹایا جائے: تحریک انصاف‘ پیپلز پارٹی نے متحدہ کی صوبائی حکومت میں شمولیت مؤخر کر دی

صولت مرزا کا بیان‘ گورنر کو ہٹایا جائے: تحریک انصاف‘ پیپلز پارٹی نے متحدہ کی صوبائی حکومت میں شمولیت مؤخر کر دی

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے صولت مرزا کے بیان کی روشنی میں تحقیقات مکمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر سندھ عشرت العباد کو فوری طور پر ان کے عہدے سے الگ کرکے تحقیقات مکمل کی جائے، اسے قوم کے سامنے رکھا جائے۔ سنٹرل سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں شیریں مزاری نے کہا کہ صولت مرزا کے بیان کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ متحدہ سے تعلق رکھنے والے عشرت العباد کی گورنر سندھ کے عہدے پر موجودگی تحقیقات متاثر کرسکتی ہے۔  صولت مرزا کے بیان کے تمام پہلوئوں کی مفصل اور جامع تحقیقات فوری طور پر مکمل کی جائے۔ کراچی میں قتل و غارت گری کرنے اور شہر کے امن کو تاراج کرنے والی قوتوں کی بیخ کنی کئے بغیر امن کا قیام ممکن نہ ہوسکے گا۔ صولت مرزا کے بیان نے کراچی میں بدامنی اور دہشت گردی کی نوعیت کے حوالے سے نہایت اہم پہلوئوں پر سے پردہ ہٹایا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ وہ کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر ان تمام امور کی موثر تحقیقات کریں اور کراچی میں جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ اگر گورنر کا عہدہ آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے تو عشرت العباد کو اس عہدے سے فوری طور پر الگ کرکے معاملے کو مکمل کیا جائے۔ دوسری جانب صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ صولت مرزا کی پھانسی 72 گھنٹوں کے لئے روک دی گئی ہے۔ تفتیش کے بعد ان کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوگا۔ مجرم کوئی بھی ہو جہاں بھی ہو، اسے سزا ملنی چاہئے۔ ابھی گورنر سندھ کی تبدیلی کے ہوائی گھوڑے نہ دوڑائے جائیں۔ ادھر وزیر داخلہ چودھری نثار نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو فون کیا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے امن و امان کی صورتحال اور صولت مرزا کے انکشافات کے تناظر میں بات چیت کی۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا ہے کہ استعفے کی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں، ابھی استعفیٰ دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، استعفیٰ دینے کے بارے میں صرف میڈیا پر خبر سنی۔ قبل ازیں گورنر سندھ کے استعفے کے بارے میں قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ انہوں نے استعفے کا فیصلہ کرلیا ہے، گورنر اپنے متعلق خبروں پر وفاق سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق گورنر سندھ کا رویہ معمول کے مطابق تھا وہ صولت مرزا اور استعفے کی خبروں پر پریشان نہیں تھے البتہ انہیں تشویش ضرور تھی۔ گورنر نے کہاکہ  استعفیٰ دینے کی خبر ٹی وی چینل پر چل رہی ہے میں نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ گورنر ہائوس میں ساری سرگرمیاں آئین اور قانون کے مطابق ہوتی ہیں۔ مجھ پر لگائے گئے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں، بے بنیاد ہیں۔ ملزم کی مدد کا اختیار نہیں۔صدر نے کہا کہ صولت مرزا کے بیانات معاملے پر تحقیقات ہو رہی ہے۔ قانون کے مطابق ٹھوس ثبوت سامنے آنے پر کارروائی ہو گی۔ جرائم پیشہ افراد کسی سیاسی جماعت یا منصب پر ہوں کارروائی ہونی چاہئے۔ عشرت العباد نے کہا کہ مجھ پر مستعفی ہونے کیلئے کوئی دباؤ نہیں۔ میں نے 12 سال کراچی اور سندھ کی خدمت کی کوشش کی۔ ایک بیان آیا جس میں کئی باتیں کہی گئی ہیں۔ صولت مرزا کی فیملی بھی میرے پاس آئی، غیرمعمولی طور پر کسی کو سہولت نہیں مجھ سے کسی کریمنل کو چھڑانے کیلئے نہیں کہا گیا۔ میں نے تین صدور کے ساتھ کام کیا جس نے بیان دیا اسے اعلیٰ عدلیہ نے مسترد کیا ہے۔ الطاف حسین کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ الطاف حسین بڑے ہیں ڈانٹ بھی سکتے ہیں۔ الطاف حسین نے مجھے کبھی کسی کرمنل کو سپورٹ کرنے کو نہیں کہا۔ تمام سیاسی جماعتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہتے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد کو ختم کیا جائے، میں بالکل پریشان نہیں۔
کراچی (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ) سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو فون کیا اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صورتحال واضح ہونے تک دونوں جماعتیں رابطے میں  رہیں گی جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی میں فریق نہیں بنے گی اور مشکل وقت میں ایم  کیو ایم کا  ساتھ نہیں چھوڑے گی۔پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ، مختلف صوبائی وزراء اور پارٹی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی صورت حال، سیاسی معاملات، سزائے موت کے مجرم صولت مرزا کے انکشافات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال، پیپلزپارٹی پر عائد کئے گئے الزامات اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے سابق صدر کو کراچی میں امن و امان کی صورت حال سے آگاہ کیا ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات کا تعین کیا گیا کہ بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال کا مکمل جائزہ جاری رکھا جائے گا اور اس حوالے سے پیپلزپارٹی مشاورت سے پالیسی کا تعین کرے گی اور سیاسی صورت حال پر دیگر جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا ۔  پیپلزپارٹی کے ارکان نے مشورہ دیا ہے کہ بدلتی صورتحال میں خاموشی اختیار کی جائے۔ آصف زرداری کو حتمی فیصلے کا اختیار دیدیا گیا ہے۔ آصف زرداری نے اجلاس کے دوران گورنر سندھ سے ٹیلی فون رابطہ کیا اور اجلاس میں ہونے والے فیصلے سے آگاہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق صورتحال واضح ہونے پر ایم کیو ایم سے رابطہ کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں سابق صدر آصف زرداری سے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے بلاول ہائوس میں ملاقات کی ہے جس میں  ملکی صورتحال سمیت سندھ میں امن وامان پر گفتگو کی، ملاقات میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی۔