ماڈل ٹائون کچہری پیشی پر وکلائ، شہریوں کا گلو بٹ پر تشدد، ’’بے ہوش‘‘ ہو کر گر گیا، پولیس واپس لے گئی، پھر 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ لے لیا

ماڈل ٹائون کچہری پیشی پر وکلائ، شہریوں کا گلو بٹ پر تشدد، ’’بے ہوش‘‘ ہو کر گر گیا، پولیس واپس لے گئی، پھر 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ لے لیا

لاہور (سپورٹس رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے باہر آپریشن کے دوران لوگوں کی گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے والے گلو بٹ کو عدالت میں پیشی کے دوران وکلا اور مشتعل شہریوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس کے باعث گلو بٹ بیہوش ہو کر زمین پر گر گیا۔ پولیس اہلکار گلو بٹ کو بیہوشی کی حالت میں رکشے میں ڈال کر عدالت میں پیش کئے بغیر ہی واپس لے گئے۔ گلو بٹ کو پولیس چہرے پر کپڑا ڈال کر ماڈل ٹائون کچہری میں لائی۔ احاطہ عدالت میں موجود وکلا اور مشتعل شہریوں نے اسے پہچان لیا اور اسے بالکل اسی طرح بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس طرح وہ گاڑیوں کو توڑتا رہا، سی سی پی او ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ گلو بٹ کو ہسپتال نہیں لیجایا گیا بلکہ محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ احاطہ عدالت میں گلو بٹ پر تشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ وکلا ء نے میڈیا سے بات کرتے کہا پولیس کی جانب سے گلو بٹ پر جو دفعات عائد کی گئی ہیں وہ قابل ضمانت ہیں جس کے باعث اسے ضمانت پر رہا کیا جاسکتا تھا۔ اس اکیلے شخص کی وجہ سے ماڈل ٹائون واقعہ نے شدت اختیار کی اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی جانیں بھی گئیں اس کے باوجود پولیس بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ بعدازاں پولیس نے گلو بٹ کو انتہائی سکیورٹی میں ماڈل ٹاؤن کچہری میں پیش کیا گیا۔ گلو کو جب ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت عدالت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ تاخیر کے سبب ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ریمانڈ کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ پولیس نے جسمانی ریمانڈ کی بجائے جوڈیشل ریمانڈ مانگا تھا۔کچھ دیر بعد مجسٹریٹ نے گلو  بٹ کو 14روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ لوگوں کی ہجوم سے بچانے کے لئے پولیس اہلکاروں کی جانب سے گلو بٹ کو بے ہوش ہونے کا کہا گیا جس کے بعد وہ زمین پر لیٹ گیا تاہم مشتعل شہریوں نے اسے پھر بھی نہ بخشا، بعدازاں ماڈل ٹاون کچہری میں پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے گلو بٹ کے خلاف درج مقدمہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کروانے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کر دی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ قابل ضمانت پر دفعات پر مبنی ایف آئی آر درج کر کے پولیس اپنے ٹاؤٹ کو بچانا چاہتی ہے جبکہ اس کی جانب سے سرزد جرائم انسداد دہشت گردی کے ایکٹ میں آتے ہیں لہذا عدالت استدعا ہے کہ گلو بٹ کے خلاف درج مقدمہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ گلو بٹ کی پیشی اور پٹائی پر بے ہوشی کے علاوہ بھی کئی ڈرامے ہوئے، کرامت علی نامی جس وکیل نے ملزم کو پھینٹی لگائی وہ گلو کو بچانے کی کوشش کے دعویدار بن کر سامنے آگئے۔کرامت علی نامی وکیل صاحب بھول گئے کہ کیمرہ صرف گلو بٹ کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار ہی نہیں ان کی مار دھاڑ بھی محفوظ کررہا تھا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق گلو بٹ کا میڈیکو لیگو مکمل ہو گیا۔ اس کے چہرے اور رخسار پر گہری چوٹیں آئیں جسم کے باقی حصوں پر معمولی چوٹیں آئیں۔