فائرنگ سے زخمی متحدہ کی ایم این اے طاہرہ آصف دم توڑ گئیں

فائرنگ سے زخمی متحدہ کی ایم این اے طاہرہ آصف دم توڑ گئیں

لاہور (نامہ نگار + سٹاف رپورٹر + اے پی اے) ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف دم توڑ گئیں۔ طاہرہ آصف پر بدھ کے روز اقبال ٹائون میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں۔ طاہرہ آصف شیخ زاید ہسپتال میں زیرعلاج تھیں جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں اور وہ جمعرات کی رات خالق حقیقی سے جاملیں۔ الطاف حسین نے طاہرہ آصف کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے اگر طاہرہ آصف کو بروقت سکیورٹی فراہم کی ہوتی تو یہ افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا۔ پنجاب کی بہادر بیٹی چلی گئی۔ کارکنوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ غم کی اس گھڑی میں پرامن رہیں۔ طاہرہ آصف کے انتقال پر وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، گورنر، وزیراعلیٰ سندھ، عمران خان، سراج الحق، زرداری، طاہر القادری، چودھری نثار سمیت دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اظہار افسوس کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاہرہ آصف کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ قاتلوں کو گرفتار کرکے سازشوں سے پردہ اٹھایا جائے۔ طاہرہ آصف کے شوہر میاں محمد آصف ایف آئی اے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں، ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ان پر فائرنگ کا مقدمہ گزشتہ روز ان کی بیٹی کی مدعیت میں 2نامعلوم افراد کیخلاف درج کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق طاہرہ آصف کے  2آپریشن کئے گئے تھے اور انہیں 40بوتل خون لگایا گیا۔ان پر حملے کی تفتیش سی آئی اے اور اقبال ٹائون انویسٹی گیشن پولیس کی دو ٹیمیں کررہی تھیں۔ پولیس نے شبہ میں تین افراد کو حراست میں لیا تھا۔ قبل ازیں الطاف حسین نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا طاہرہ آصف پر حملے میں مذہبی انتہا پسند عناصر ملوث ہیں۔ متحدہ کے رہنمائوں اور منتخب نمائندوں کو مذہبی انتہا پسند عناصر کی جانب سے مسلسل دھمکیاں موصول ہوتی رہی ہیں۔