طاہر القادری کے بیٹے کا نام مقدمہ سے خارج‘ مزید 2 زخمی دم توڑ گئے

طاہر القادری کے بیٹے کا نام مقدمہ سے خارج‘ مزید  2 زخمی دم توڑ گئے

لاہور (وقائع  نگار  خصوصی+ خصوصی  نامہ  نگار+ سٹاف رپورٹر+نامہ نگار+نامہ  نگاران)  لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل ایک رکنی انکوائری ٹربیونل نے آئی جی پنجاب کو سانحہ ماڈل ٹائون کے حوالے سے درج مقدمات،گرفتاریوں اور تفتیش سے متعلق روزانہ پراگریس رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ گذشتہ روز فاضل ٹریبونل نے باقاعدہ  انکوائری کا آغاز کر دیا۔ عوامی تحریک کی طرف سے ٹریبونل تشکیل دینے کے فیصلے کو مسترد کئے جانے کی وجہ سے اس جماعت کا کوئی نمائندہ یا کارکن ٹربیونل کے روبرو پیش نہیں ہوا۔  البتہ آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا، ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) عثمان اور ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے احد چیمہ ٹربیونل کے روبرو پیش ہوئے۔ آئی جی اور ڈی سی او نے سانحہ ماڈل ٹائون کے حوالے سے اپنی ابتدائی عبوری رپورٹس پیش کیں جبکہ ڈی جی ایل ڈی اے نے اس بنیاد پر رپورٹ پیش نہ کی کہ اس معاملہ میں ان کا تعلق نہیں تاہم ٹربیونل نے انہیں ہدایت کی کہ وہ آج ہی اپنی رپورٹ ٹربیونل کے روبرو جمع کرائیں۔ انکوئری کے دوران سول سوسائٹی اور عوام الناس کی طرف سے وکلا ٹربیونل کے روبرو پیش ہوئے۔ مسٹرجسٹس علی باقر نجفی نے ہدایت کی کہ ٹربیونل روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کرے گا۔ ٹربیونل نے آپریشن کے حوالے سے ہونے والے پولیس کے اعلیٰ سطح اجلاس کے منٹس بھی پیش کئے جانے کا حکم دیا۔ عوام الناس کی جانب سے آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ نے ٹربیونل کے روبرو موقف اختیار کیا کہ فاضل جج خود کو انکوائری ٹربیونل سے الگ کر لیں کیونکہ 1969سے لے کر اب تک بننے والے کسی بھی  جوڈیشل کمشن یا  جوڈیشل ٹربیونل کی سفارشات پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔  ٹربیونل کے سربراہ مسٹرجسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ان کا اعتراض نوٹ کر لیا گیا اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ خاتون وکیل شبنم ناگی نے ٹربیونل کو بتایا کہ پولیس نے درجنوں افراد کو اغوا کر رکھا ہے جبکہ زخمی اور مرنے والوں کی میڈیکل رپورٹس بھی پولیس نے تبدیل کی ٹربیونل اس کا نوٹس لے۔افسران  کی ادھوری  رپورٹس  پر کمشن  کا  سخت  اظہار  برہمی،  آئی جی  پنجاب مشتاق  سکھیرا،  ڈی سی او  کیپٹن  ریٹائرڈ  عثمان اور  ڈی جی ایل ڈی اے  احد  چیمہ  سے  تفصیلی  رپورٹس  آج  (جمعہ)  طلب  کر  لیں۔  دریں اثناء لاہور کے جناح ہسپتال میں سانحہ ماڈل ٹائون کے ایک اور زخمی دوران علاج دم توڑ گئے۔ 20سالہ رضوان کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادہ حسین محی الدین نے نماز جنازہ پڑھائی جبکہ نماز جنازہ میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار لطیف کھوسہ ، خالد رانجھا، شوکت بسرا، فیض الرحمن درانی، کامل علی آغا ، رحیق عباسی سمیت وکلاء اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔  بعدازاں  سپردخاک کر  دیا  گیا۔  سانحہ  ماڈل  ٹاؤن  کے  خلاف اور عوامی  تسحریک  سے  اظہار  یکجہتی  کے  لئے  گذشتہ روز  بھی  سیاسی  شخصیات  کا  آمد  کا  سلسلہ  جاری  رہا۔  اظہار  یکجہتی  کے  لئے  آنے  والوں  میں  ملی  یکجہتی کونسل  کے  سیکرٹری  جنرل  لیاقت  بلوچ،  مولانا  امیر  حمزہ،  علامہ  محمد  خان  لغاری،  پیپلزپارٹی کے  مرکزی  رہنما  و  سابق  گورنر  پنجاب  سردار  لطیف  کھوسہ،  سابق  وفاقی و زیر  قانون  خالد  رانجھا،  سنی  تحریک  پنجاب  کے  صدر  محمد  شاداب  رضا  نقشبندی  سمیت  مختلف  سیاسی  و  سماجی  شخصیات  شامل  تھے۔  علاوہ  ازیں  لاہور ہائیکورٹ بار کے احاطہ میں ماڈل ٹاون واقعہ میں جاں بحق ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ماڈل ٹاون واقعہ میں جاں بحق افراد کی غائبانہ نمازجنازہ میں سابق گورنر پنجاب سردار لطیف خاں کھوسہ،  سابق صوبائی وزیر قانون رانا اعجاز،  لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر شفقت محمود چوہان،  بارکے دیگر عہدیدارون کے علاوہ وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔  وکلاء نے واقعہ کے خلاف علامتی بھوک ہڑتال کی اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا۔ قبل ازیں سانحہ ماڈل ٹائون  شہادت اور عدم ثبوت  کی بنا پر ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے  حسین  محی الدین  کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے مقدمے  سے نام خارج کردیا گیا ۔ انویسٹی گیشن   پولیس کے مطابق  سانحہ ماڈل ٹائون میں  گاڑیوں کی توڑ پھوڑ  اور دیگر مقدمات  میں ڈاکٹر طاہر القادری  کے صاحبزادے  حسین  محی الدین   سمیت دیگر افراد کیخلاف تھانہ  فیصل ٹائون میں  مقدمات درج کئے گئے تھے  حسین محی الدین  پر دہشتگردی، اقدام قتل کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔  گزشتہ روز پولیس کی جانب سے پیش کردہ چالان  میں ڈاکٹر طاہر القادری  کے صاحبزادے حسین محی الدین کو عدم ثبوت کی بنا پر  ان کا نام مقدمے سے خارج کر دیا تاہم مقدمات میں دیگر ملزمان سے  واقعہ کے خلاف تیسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ وزیرآباد سے نامہ نگار کے مطابق  مو ضع حمد نگر چٹھہ میں سانحہ لاہور کے خلاف ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت سنی اتحاد کونسل کے سیکرٹری جنرل قاری غلام فرید کیلانی، اہل سنت والجماعت کے ناظم مولانا اشفاق احمد سلطانی نے کی ریلی مین بازار مین روڈ اور بڑاگلہ ،گکھڑروڈ ،سے ہوتی ہوئی میلاد چوک پر اہتمام پذیرہوئی۔  سانگلاہل  سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق عوامی  تحریک کے کارکنوں پر تشددفائرنگ کیخلاف  احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور پر امن احتجاجی ریلی نکالی،ریلی میلاد چوک سے شروع ہوئی ،حمید نظامی روڈ ،فیصل آباد روڈ،کمیٹی بازار اور ریلوے روڈ سے گذرتی ہوئی میلاد چوک میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔ گذشتہ روز جاں بحق ہونے والے کے ورثاء نے ہسپتال کے باہر احتجاج کیا اور حکومت کیخلاف بھرپور نعرے بازی کی۔ دریں اثناء 20 سال ہحافظ خاور بھی جاں بحق ہو گیا اس کے سر میں گولی لگی تھی۔ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے بجائے نظام کی تبدیلی کیلئے کی جانے والی ہر جدوجہد میں ہر جماعت کے ساتھ ہیں جبکہ لاہور میں انتظامیہ کے ہاتھوں ہلاکتیں تاریخ کا بدترین داغ ہیں۔ لاہور میں تحریک منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ دریں اثناء انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر2 کے جج خالد محمود رانجھا نے سانحہ ماڈل ٹاون کے دوران منہاج القران کے گرفتار کئے گئے 51 کارکنوں میں سے 8 بزرگ کارکنوں کے نام ایف آئی آر سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا جبکہ 44 کارکنوں کو 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔فاضل عدالت نے پولیس تشدد سے زخمی ہونے والے 19 کارکنوں کے میڈیکل چیک اپ کا بھی حکم دیا ہے ۔دریں اثناء جوڈیشل کمیشن نے منہاج القرآن سیکرٹریٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وکیل پاکستان عوامی تحریک ایڈووکیٹ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ہم کسی جوڈیشل کمشن کو نہیں مانتے جوڈیشل کمشن نے کسی عینی شاہد کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔