شمالی وزیرستان آپریشن: ہم ایک صفحہ پر ہیں: سویلین اور عسکری حکام

شمالی وزیرستان آپریشن: ہم ایک صفحہ پر ہیں: سویلین اور عسکری حکام

اسلام آباد (جاوید صدیق+ سلمان مسعود/ دی نیشن رپورٹ) شمالی وزیرستان میں 93 فیصد علاقے پر حکومت کا کنٹرول ہے‘ 6 فیصد علاقہ ایسا ہے جہاں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے صرف ایک فیصد علاقہ دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں دہشت گردوں کا بڑا اجتماع ہے‘ دہشت گردوں کے مواصلاتی رابطوں کو ختم کرنے کے لئے حکومت نے شمالی وزیرستان میں موبائل نیٹ ورک ختم کر دیا۔ بعض دہشت گرد افغانستان میں استعمال ہونے والی سمیں استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان نے افغان حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ملک کی سمیں شمالی وزیرستان میں استعمال نہ ہونے دے۔ آپریشن کا ایک کلیدی مقصد وزیرستان کا علاقہ دہشت گردوں سے خالی کرانا ہے اس پر قبضہ مستحکم کرنا اور پھر اسے سول انتظامیہ کے حوالے کرنا ہے۔ آپریشن میں اس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہ ہوں۔ آپریشن میں عام شہری متاثر نہ ہوں۔ دہشت گردوں کے کئی گروپوں نے ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی ہے ایسے عناصر جو ریاست کی رٹ تسلیم کر کے ہتھیار ڈال رہے ہیں ان کے لئے سرنڈر پوائنٹس قائم کئے جا رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کے لئے 20 ایگزٹ پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کو پولیٹیکل ایجنٹ ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں میں شمالی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ نے 3 ہزار گاڑیوں کا اہتمام کیا جس کے ذریعے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں اب تک 85 ہزار افراد نے شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کی ہے۔ آپریشن میں بعض افراد افغانستان کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ جب ان سے استفسار کیا گیا کہ امریکہ پاکستان کی اس آپریشن میں مدد کر رہا ہے کیونکہ اب امریکہ نے ڈرون حملے شروع کر دئیے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ امریکی ڈرون حملوں میں صرف دس بارہ افراد مارے گئے جبکہ پاکستان آرمی اور ائرفورس کے آپریشن میں اس سے کہیں زیادہ دہشت گرد مارے جا چکے ہیں‘ امریکی ڈرون حملے آپریشن میں کوئی مدد نہیں دے رہے۔ پاکستان نے ان ڈرون حملوں کے خلاف امریکہ سے احتجاج کیا ہے۔ پاکستان نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی دہشت گرد گروپ کو اپنے اثاثہ کے طورپر استعمال کرنے کی کوشش نہ کرے‘ متعلقہ ممالک سے رابطے موجود ہیں‘ دہشت گردوں کے اس وقت بڑے ٹھکانے میران شاہ وادی شوال میں ہیں۔ اس سوال پر کہ آپریشن کے نتیجے میں دہشت گرد جو پاکستان میں کارروائیاں کریں گے ان سے نمٹنے کی کیا حکمت عملی ہے تو انہوں نے بتایا کہ ردعمل میں کارروائیاں ہوں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو امکانی خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لئے فوج کے دستے مدد کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے آپریشن ضرب عضب کے دوران میڈیا کی تعریف کی اور توقع ظاہر کی کہ میڈیا دہشت گردوں کی تحسین کرنے سے گریز کرے گا۔ دی نیشن کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے سوال دوبارہ سامنے آیا ہے۔ یہ قیاس آرائی سامنے آرہی ہے کہ فوج نے سویلین حکومت کے سامنے سرجھکا دیا بعض اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ سویلین حکومت آپریشن کے حوالے سے آن بورڈ نہیں تھی ایڈیٹروں اور میڈیا مالکان کو خصوصی بریفنگ کے دوران سینئر سویلین اور عسکری حکام نے اس بات پر زور دیا کہ وہ دونوں ایک صفحہ پر ہیں۔ حکومت کی ترجیح اگرچہ امن مذاکرات کو ترجیح دیتی رہی ہے مگر دہشت گردوں کے مسلسل حملوں اور ان کے مطالبات نے امن عمل ختم کرنے پر مجبور کیا۔ سویلین حکومت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کی اجازت دی۔ وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے اس موقع پر کہا کہ قومی سلامتی کے ادارے سویلین حکومت کے تابع ہیں قومی سلامتی کے ادارے کا اپنا ایک تجزیہ اور تجاویز ہیں مگر حتمی فیصلہ سیاسی حکومت کرتی ہے۔ وزیر اطلاعات نے میڈیا پر تنقید کی کہ اس نے یہ تاثر قائم کیا کہ دونوں ادارے ایک دوسرے کی مخالفت میں تھے اور ایک دوسرے کو ڈکٹیٹ کر رہے تھے۔ میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا آخری گڑھ ہے اور یہ ان کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی زمینی صفائی کا عمل شروع نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس موقع پر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ میں اسے جنگ سمجھتا ہوں۔