شمالی وزیرستان‘ آپریشن مزید موثر بنائینگے: آرمی چیف‘ سربراہ فضائیہ‘ کامیابی کیلئے قومی اتحاد ضروری ہے: وزیراعظم

شمالی وزیرستان‘ آپریشن مزید موثر بنائینگے: آرمی چیف‘ سربراہ فضائیہ‘ کامیابی کیلئے قومی اتحاد ضروری ہے: وزیراعظم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+این این آئی)وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے پاک فوج کو تمام وسائل فراہم کر نے پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف  نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں قومی اتحاد کی ضرورت ہے، پاکستان فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے انشاء اللہ دہشت گردوں کو شکست ہو گی، شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو صوبہ خیبر پی کے میں تمام سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کا اہم اجلاس ہوا جس میں شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ’ضربِ عضب‘ اور ماڈل ٹاؤن واقعے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج کو تمام وسائل فراہم کر نے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے انشاء اللہ دہشت گردوں کو شکست ہو گی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے  بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ مسلم لیگ (ن )کی قیادت نے متفقہ طور پر واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومت واقعے کی تحقیقات کرے گی اور ذمے داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اجلاس کے اعلامئے کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی کامیابی کیلئے قومی اتحاد ضروری ہے۔ اعلامئے میں کہا گیا کہ شورش زدہ علاقوں میں جوانوں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے سانحہ لاہور پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے اور زخمی اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی بھرپور مدد کی جائے‘ قوم کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا آئی ڈی پیز اور شمالی وزیرستان آپریشن سے متعلق امور کا جائزہ لینے کیلئے جلد پشاور کا دورہ کروں گا۔ انہوں نے کہا لاہور واقعہ کے  ملزموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جوڈیشل کمشن سے مکمل تعاون کیا جائے۔ کمشن وزیراعلیٰ سمیت جسے طلب کرے وہ پیش ہو۔ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔ دریں اثناء وزیراعظم نواز شریف سے جے یو  آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن  اور سربراہ پشتونخواہ  عوامی ملی پارٹی محمود خان اچکزئی  نے ملاقات  کی اور سانحہ  لاہور، شمالی وزیرستان آپریشن  سمیت  ملکی سکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا،   اپوزیشن کے اتحاد  سے  متعلق بھی بات چیت کی گئی۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن  پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے  مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ  آپریشن سے دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا  مذاکرات کو جاری رکھا جائے  ہم حکومت کے اتحادی ہیں  مگر معاملات میں ہمیں  اعتماد میں نہیں لیا جاتا  جس پر وزیراعظم نے کہا کہ  حکومت تمام اتحادیوں  کو ساتھ لے کر چلنے  کی کوشش کررہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا  حکومت کیخلاف اپوزیشن اتحاد کا  حصہ نہیں بنیں گے۔ ثناء نیوز کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔  قومی معاملات پر سیاسی قوتوں میں کسی صورت تعطل پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ قوم کے وسیع تر مفاد میں شمالی وزیرستان ایجنسی میں آپریشن کا فیصلہ کیا۔  سیاسی مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ملاقاتوں میں  مخصوص حالات کے پیش نظر سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کرنے کا مشورہ دیا گیا۔  وزیر اعظم نے واضح کیا کہ جب بھی وقت آیا ملک کی تمام سیاسی و جمہوری قوتوں نے یکجا اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ فضل الرحمن کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دلایاکہ وہ شمالی وزیرستان کے لوگوں کی مشکلات کا جائزہ لیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے وزیر اعظم کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں مقامی لوگوں کو نقل مکانی کے لئے تین دن کے بجائے چار دن دیئے جائے تاکہ وہ آرام سے علاقے سے نکل سکیں۔دریں اثناء وزیراعظم نواز شریف کو افغان صدر حامد کرزئی نے ٹیلی فون کیا اور پاک افغان سرحدی صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے دوران پاک افغان سرحد پر سکیورٹی بڑھانے کے اقدامات پرتبادلہ خیال کیا گیا جبکہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں سرحد پار کرنے والوں کی نگرانی پر بھی بات کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے محمود خان اچکزئی کے دورہ افغانستان اور افغان صدر سے ملاقات کے درمیان ہونیوالی بات چیت کا بھی جائزہ لیا۔ واضح رہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے 17 اور 18 جون کو بحیثیت وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی اپنے دورہ افغانستان کے دوران صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں خصوصی تعاون کی درخواست کی  جبکہ ملاقات کے دوران سرحد پر سکیورٹی سخت کرنے اور شمالی وزیرستان سے ممکنہ طورپر نقل مکانی کرنے والوں کی نگرانی کی بھی اپیل کی تھی۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے بھی محمود اچکزئی کے دورہ افغانستان کی تصدیق کی ہے۔
راولپنڈی+ میرانشاہ (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ائرچیف مارشل طاہر رفیق بٹ کے درمیان ملاقات میں آپریشن ضرب عضب میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ائرہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے آپریشن کو مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ  شمالی وزیرستان  میںجاری آپریشن  کو  کامیاب بنانے کیلئے  اہم کردار ادا کررہی ہے  پاک فضائیہ کے کردار سے نتائج مزید بہتر ہو جائیں گے۔ ائر مارشل  طاہر رفیق بٹ نے کہا کہ ہم  پاک فوج کے ساتھ  بھرپور تعاون کرتے رہیں گے۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران پاک فوج کی 2 مختلف کارروائیوں میں 8 ازبکوں سمیت مزید 23 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ دہشت گردوں کا مواصلاتی سینٹر تباہ کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن  ضرب عضب  میں میران شاہ کی مشرقی پہاڑیوں  میں بمباری سے 15 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ چوٹیوں پر دہشتگردوں کا مرکزی مواصلاتی  نظام تباہ کر دیا۔ میران شاہ کے قریب ماہر نشانہ بازوں  نے 8 ازبک  دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ ازبک دہشتگرد میرانشاہ میر علی روڈ پر بارودی سرنگ نصب کر رہے تھے۔ زرتنگی کی پہاڑیوں  پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے کارروائی کی گئی جس میں 15 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ فرار ہونے والے دہشتگردوں کو مسلسل ناکام بنایا جا رہا ہے۔ پاک فوج نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا سخت محاصرہ کررکھا ہے نقل مکانی  کرنے والوں کیلئے  سوگئی میں رجسٹریشن سنٹر بنایا گیا ہے۔  بنوں میں آئی ڈی پیز کیمپ قائم کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز میران شاہ  کے علاقے غلام خان میں نقل مکانی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔  سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک  ایک لاکھ 70 ہزار 728  افراد بنوں پہنچ چکے ہیں۔ شمالی وزیرستان  میں آپریشن ضرب عضب  کے باعث رزمک  اور میر علی کے مکینوں  کو علاقے سے نکلنے  کیلئے دی گئی ڈیڈ لائن  ختم ہونے کے بعد  میران شاہ  سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا۔  میران شاہ میں ٹرانسپورٹ  نہ پہنچنے  کے باعث خواتین  اور بچے پیدل  نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ میر علی اور میرانشاہ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا محاصرہ سخت کر دیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز میرانشاہ اور غلام خان کے علاقے سے سول آبادی کو نکالنے کا سلسلہ جاری رہا اور  متعدد مقامات پر چیک پوائنٹس بنائے گئے ہیں جہاں پر بے گھر ہونے والے خاندانوں کو مکمل خوراک، ادویات اور دوسری ضروری اشیاء سمیت مکمل سہولتیں پاک فوج کی جانب سے دی گئی ہیں جبکہ سدگئی پوسٹ پر رجسٹریشن پوائنٹس کی تعداد 20 تک کر دی گئی ہے۔ شمالی وزیرستان میں 3 روز کیلئے کرفیو میں نرمی، نقل مکانی کا سلسلہ تیز ہوگیا، میر علی اور رزمک سے ایک لاکھ سے زائد افراد کو بنوں کے کیمپس میں منتقل کردیا گیا، رجسٹریشن کا عمل بھی جاری ہے۔ تحصیل دتہ خیل اور تحصیل بویا سے لوگوں کو نکالنے کیلئے کرفیو میں آج  نرمی  کی جائے گی۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف اور ائرچیف کی ملاقات میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو مزید موثر بنانے کیلئے مربوط حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔