ڈیرہ بگٹی جانے سے روکنے پر ہزاروں مہاجرین کا دھرنا جاری‘ رات گئے مذاکرات ناکام

ڈیرہ بگٹی جانے سے روکنے پر ہزاروں مہاجرین کا دھرنا جاری‘ رات گئے مذاکرات ناکام

کشمور (نوائے وقت رپورٹ +ثناءنیوز) بگٹی مہاجرین کے قافلہ کو آبائی علاقہ میں داخلہ کی اجازت نہ دئیے جانے کے خلاف سندھ اور پنجاب کے سرحدی مقام ڈیرہ موڑ دوسرے روز بھی دھرنا جاری رہا۔ کشمور کے قریب ڈیرہ موڑ پر نوابزادہ شاہ زین بگٹی کی سربراہی میں ہزاروں بگٹی مہاجرین نے دھرنا دیا ہوا ہے۔ انکا مطالبہ ہے انہیں ڈیرہ بگٹی جانے دیا جائے۔ گزشتہ روز شاہ زین بگٹی کے قافلہ کو سوئی کے علاقہ ڈولی چیک پوسٹ پر روک لیا گیا تھا جس کے بعد حکومت نے انہیں ڈیرہ بگٹی جانے کی اجازت نہ دیتے ہوئے واپس بھیج دیا جس کے بعد قافلہ کے شرکاءڈیرہ موڑ پہنچ کر دھرنا دئیے ہوئے ہیں، شدید سردی کی وجہ سے قافلے میں شامل متعدد مویشی ہلاک ہوگئے ہیں۔ بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی ایک آپریشن میں ہلاکت کے بعد ڈیرہ بگٹی کے رہائشی یہ لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ جمہوری وطن پارٹی کے صوبائی صدر نوابزادہ شاہ زین بگٹی نے کہا ہے حکومت نے ہمیں دھوکہ دیا ہے اور وعدہ کرکے ہمیں سکیورٹی کلیئرنس نہیں دی، ہم اپنے وطن میں رہتے ہوئے اپنے گھر نہیں جاسکتے، ڈیرہ بگٹی جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔ اسسٹنٹ کمشنر سوئی قاسم ندیم بگٹی نے کہا ہے پہاڑوں پر رہنے والے فراری بھی بگٹی ہیں، ایک لاکھ ایف سی اہلکار بھی تعینات کردئیے جائیں تو دراندازی نہیں روک سکتے، فراریوں کو غیر ملکی ایجنسیوں کی آشیرباد حاصل ہے۔ شاہ زین بگٹی نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، مقامی بگٹی قبائل شاہ زین کیخلاف مورچہ زن ہیں، کسی نے ڈیرہ بگٹی آنا ہے تو سکیورٹی کلیئرنس کرانا لازمی ہوگا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمیں اوپر سے حکم ملا ہے شاہ زین بگٹی کے قافلے کو نہیں چھوڑا جاسکتا۔ امن فورس اور دیگر بگٹی قبائل نے انکی آمد کیخلاف سوئی میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور ان پر حملے کی دھمکی دی ہے۔ ہم انکی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ مخالف بگٹی قبائل سوئی ڈیرہ بگٹی روڈ کے اردگرد موجود ہیں اور وہ ان پر حملہ کردیں گے۔ سول انتظامیہ، لیویز اور ایف سی اتنے بڑے قافلے کو سکیورٹی نہیں دے سکتی۔ ادھر چاروں صوبوں کو جانے والے ڈیرہ موڑ پر بگٹی مہاجرین کا دھرنا جاری رہنے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ شاہ زین بگٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعلی کے آنے پر دھرنا ختم کردیں گے۔ ڈی پی او اور ڈی سی او سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ ڈی پی اور ڈی سی او کشمور اور ڈیرہ بگٹی کی انتظامیہ نے شاہ زین سے بات چیت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا بگٹی مہاجرین دھرنا ختم کردیں، انکے مطالبات تسلیم کر لئے جائیں گے۔
شاہ زین/ دھرنا