دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن لڑائی لڑ رہے ہیں‘ مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو بھارت سے جنگ نہیں روکی جا سکے گی : وزیراعظم

دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن لڑائی لڑ رہے ہیں‘ مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو بھارت سے جنگ نہیں روکی جا سکے گی : وزیراعظم

اسلام آباد (اے این این) وزیر اعظم ڈاکٹر نوازشریف نے دو ٹوک الفاط میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اٹکا رہا تو پاکستان بھارت جنگ روکی نہیں جا سکتی، دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ٹکراو¿ کسی کے مفاد میں نہیں ہو سکتا، مسئلہ کشمیر کو امریکہ نے بھی فلےش پوائنٹ تسلیم کیا ہے، بھارت دہشتگردی کے نام پر امن مذاکرات کو یرغمال نہیں بنا سکتا، مسئلہ کشمیر اور آبی تنازعات کے حل کے لئے کئی تجاویز زیر غور ہیں جو پاکستان، بھارت مذاکرات کی بحالی پر سامنے رکھی جائیں گی، ہم بیرونی جارحیت کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے، پاک فوج ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے، بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سرحدوں پر فوج کی تعیناتی کا از سر نو جائزہ لیا جا سکتا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لئے طالبان سے مذاکرات پہلی ترجیح ہے، ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا، حکومت دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے اور اس میں فوج کا کردار جاندار ہے۔ایک غیر ملکی جریدے کو دئیے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دہشت گردی کے حوالے سے ایک ہی کشتی میں سوار ہیں اور مشترکہ طور پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا وقت کی پکار ہے، پوری دنیا میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور خود بھارت کے اندر بھی دہشت گردی کے ایسے واقعات رونما ہوئے جن کا پاکستان کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں اور اس کا اعتراف بھارتی وزیر داخلہ نے بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر نوازشریف نے کہاکہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے تیار ہے اور اس سلسلے میں مسئلہ کشمیر آبی تنازعات اور دیگر تنازعات سلجھانے کے لئے بھی کئی ایک تجاویز زیرغور ہیں اور جوں ہی دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکراتی عمل بحال ہو جائے گی ان تجاویز کو میز پر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو بھی کئی ایک چیلنجوں کا سامنا ہے اور ان چیلنجوں کو دیکھتے ہوئے ہم پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خارجی سطح پر درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے فوج کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنا ہو گا۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کو حکومت کا ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ امن سے رہنے کا حامی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم مذاکرات کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہی چلے جا رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کدورتیں ختم ہوں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہ سکیں۔ انہوں نے کہاکہ خطرات موجود ہیں لہذا ان کو دیکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ لگنے والی سرحد پر بھی چوکسی برقرار رہے گی تاہم مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو سمجھ رہی ہے اوراس سے پیدا ہونے والے خطرات کو بھی سمجھ رہی ہے تاہم بھارت کی جانب سے اس مسئلے پر پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے معاملات پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے مذاکرات کا راستہ لازمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھارت کے درمیان تعلقات کشیدگی تک ہی محدود نہیں رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں بھی سرفہرست رہا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونا نہیں چاہتا اور کنٹرول لائن پر کشیدگی کو بھی ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو کشمیریوں کے ساتھ دلی ہمدردی ہے اور خونی رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہے اور یہاں خون کی ندیاں بہا دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا کیونکہ اس نے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے پہلے مذاکرات کو ترجیح حاصل رہے گی جس کے بعد فوجی کارروائی کیلئے گرین سگنل دے دیا جائیگا اور طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ دریں اثناءبنوں کینٹ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بم حملے کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے سوئٹرز لینڈ کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ دریں اثنا اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم سکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے، دہشت گردی کے حملے حکومت کی امن کوششوں کو سبوتاژ نہیں کر سکتے، حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کرے گی، معصوم شہریوں اور فورسز کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔ وزیراعظم ڈاکٹر محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو دہشت گردی‘ مہنگائی‘ بیروزگاری سے نجات اور عوام کو بھر پور سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے‘ نوجوانوں کیلئے یوتھ لون پروگرام سے نوجوانوں کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کا موقع فراہم کیا جار ہا ہے‘ میٹرو بس منصوبہ نے عوام کو سفری سہولتوں کی نئی تاریخ رقم کی ہے‘ میٹرو بس جیسے منصوبے لاہور‘ راولپنڈی کے بعد دیگر بڑے شہروں میں بھی شروع ہونے چاہئیں۔ وہ اتوار کو یہاں راولپنڈی سے اسلام آباد تک میٹرو بس منصوبے‘ پنجاب میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف امور کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے‘ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف‘ صوبائی وزرائ‘ چیف سیکرٹری پنجاب‘ ڈی جی ایل ڈی اے اور دیگر بھی موجود تھے جبکہ اس موقع پر وزیر اعظم ڈاکٹر نواز شریف کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان میٹرو بس منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلی شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ اس منصوبہ سے لاکھوں لوگوں کو سفری سہولت فراہم ہو گی‘ وزیر اعلی نے پنجاب کے بڑے شہروں میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی وزیر اعظم کو اقدامات سے آگاہ کیا اس موقع پر وزیراعظم نے پنجاب حکومت کے ترقیاتی منصوبوں اور پالیسیوں پر بھی مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ عوامی خدمت کے مشن کو مزید تیز کیا جائے۔ وزےر اعظم ڈاکٹر محمد نوازشر ےف نے کہا کہ پنجاب حکومت کے عوامی مفاد کے منصوبے عوامی خدمات کی نئی مثال ہےں اور لاہور کے بعد دےگر شہروں کےلئے بھی مےٹروبس کے منصوبوں کا آغاز عوامی خدمت کا ہی مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت لاہور‘ راولپنڈی کے بعد دےگر بڑے شہروں مےں بھی مےڑو بس کے منصوبے شروع کرےں تاکہ عوام کی ٹر انسپورٹ کے حوالے سے مشکلات کا ازالہ کےا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کا مقصد ملک کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانا ہے اور ہر سطح پر عوام کے مسائل کے حل کیلئے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔لاہور سے خصوصی رپورٹر کے مطابق نواز شریف نے جاتی عمرہ رائیونڈ میں مصروف دن گزارا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے علیحدگی میں ملاقات بھی کی۔ بعد ازاں وزیراعظم خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد چلے گئے۔
ڈاکٹر نوازشریف