بنوں کے واقعہ کی فوجی انکوائری ہو گی‘ طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں یا جنگ فیصلہ آج ہو گا : نثار

بنوں کے واقعہ کی فوجی انکوائری ہو گی‘ طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں یا جنگ فیصلہ آج ہو گا : نثار

اسلام آباد + لاہور (خبر نگار خصو صی/ نوائے وقت رپورٹ/ ایجنسیاں/ خصوصی رپورٹر) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ بنوں واقعہ ”سکیورٹی لیپس“ ہے۔ تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ دھماکے میں گاڑی اور جوانوں کے جسموں کے پرخچے اڑ گئے۔ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا یا گاڑی میں بارود بھرا گیا تھا۔ پنجاب ہا¶س میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنوں حملے کے واقعہ کی فوجی انکوائری کا حکم دے دیا ہے، ملک مشکل حالات سے گزر ہا ہے، اگر دنیا کے کسی ملک کے حالات پاکستان جیسے ہوتے تو وہاں کے سیاستدان پوائنٹ سکورنگ نہیں کرتے، شیعہ سنی کی کوئی لڑائی نہیں، دونوں مکاتب فکر پر حملے کرنے والا ایک ہی دشمن ہے ، تبلیغی جماعت پر حملہ کرنے والوں کا نام لے لیا تو نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا، سابق چیئرمین نادرا طارق نے لکھ کر دے دیا ہے کہ انہیں اور ان کی بیٹی کو کسی نے دھمکی نہیں دی ، نئی سکیورٹی پالیسی کے تحت ٹیکنالوجی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام وضع کر کے دہشت گردی کا خاتمہ کرینگے، جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے گا۔ جس میں چھبیس انٹیلی جنس ایجنسیاں کام کرینگی جو سیاستدانوں اور صحافیوں کی نگرانی کی بجائے دہشت گردی کے خاتمے پر کام کرینگی۔ ریپڈ رسپانس فورس اور وزارت داخلہ کا ائر ونگ بھی اس ڈائریکٹوریٹ کے ماتحت ہو گا۔ انہوں نے صحافیوں کے اصرار پر غیر رسمی گفتگو شروع کرنے سے قبل تمام کیمرے بند کرا دئیے، وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت انتہائی مشکل حالات کا شکار ہے، سیاسی جماعتیں پوائنٹ سکورنگ کی بجائے قوم کو انتشار سے بچائیں۔ داخلی قومی سلامتی پالیسی کی آج کابینہ سے منظوری لی جائےگی۔اس کے تین حصے ہونگے، حساس معاملات پر انٹیلی جنس شیئرنگ کا فیصلہ وزیراعظم کرینگے، سکیورٹی پالیسی کو ایک سال میں نافذ کردیا جائے گا تاہم اگر جلد بجٹ مل گیا تو چھ ماہ میں اس کا نفاذ کر دینگے، نئی پالیسی کے تحت انسداد دہشت گردی کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور آلات استعمال کئے جائیں گے، نیکٹا انسداد دہشت گردی کے لئے فوکل پوائنٹ ہو گا جس کے تحت جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے گا جس میں چھبیس انٹیلی جنس اداروں کے لوگ بیٹھیں گے یہ چوبیس گھنٹے کام کرے گا، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں ریپڈ رسپانس فورس بنائی جائے گی، ملک میں شیعہ سنی کی کوئی لڑائی نہیں، دونوں مکاتب فکر پرحملے کرنے والے ایک ہی طرح کے لوگ ہیں اور ایک ہی طرح کا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے، طالبان کے ساتھ حکمت عملی کے تحت مذاکرات میں آگے بڑھانے کی کوشش کی اڑھائی ماہ سے جاری عمل کے بعد اس شخص کو مار دیا گیا جس سے بات چیت ہو رہی تھی، 26 خفیہ ادارے ہیں اب جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے گا جو ان اداروں کو رپورٹس کا جائزہ لے گا اور فوری کارروائی کی جائے گی۔ مہینوں کی کوشش کے بعد ہم مذاکرات کو ایک سمت میں لے گئے ہیں۔ سیاسی رہنما مذاکراتی عمل پر سیاست نہ کریں۔ سیاسی جماعتیں پوائنٹ سکورنگ کے بجائے قوم کو انتشار سے بچائیں۔ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان مسئلہ بنا ہوا ہے۔ سابق چیئرمین نادرا طارق ملک کی بیٹی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس کا تعلق خیبر پی کے سے ہے۔ چودھری نثار نے کہا کہ مذاکرات کرنے ہیں یا جنگ یہ سب پالیسی کے تحت ہو گا۔ نجی ٹی وی کے مطابق چودھری نثار نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں یا جنگ یا دونوں اس کا آج کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ہو گا۔ چودھری نثار نے کہا ہے بنوں دھماکے کی فوجی انکوائری ہو گی دھماکے میں بارود کی بڑی مقدار استعمال کی گئی۔ غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے تحقیقات کر رہے ہیں کہ حملہ خودکش تھا یا نہیں دھماکہ چھاﺅنی کے علاقے میں کیا گیا ہے، بنوں دھماکے کے شواہد آج سامنے آ جائیں گے اور آج ہی قومی سلامتی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا پاکستان مشکل حالات کا شکار ہے۔ سکیورٹی پالیسی پر بات ہو گی، ہم حکمت عملی کے تحت مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں، سکیورٹی صورتحال کی بہتری کے لئے اربوں روپے درکار ہیں، کرائے پر لی گئی گاڑی کی سکریننگ ہوئی یا نہیں؟ تحقیقات ہو گی۔ کابینہ اجلاس بلانے کے لئے وزیراعظم سے درخواست کی تھی کابینہ اجلاس میں ملکی سکیورٹی پر بات ہو گی، سکیورٹی پالیسی میں شورش زدہ علاقوں سے متعلق تجاویز دی ہیں سکیورٹی پالیسی تین حصوں پر مشتمل ہو گی خفیہ اداروں کے پاس معلومات کا فقدان ہے باہمی رابطوں میں فقدان کے باعث جرائم پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں یا جنگ یا پھر دونوں یہ بھی پالیسی کا حصہ ہے، ہم مہینوں کی کاوش سے مذاکرات کو ایک سمت لے کر گئے ہیں معلومات کے تبادلے کے لئے امریکہ نے 40 ہزار افراد بھرتی کئے بلیو پاسپورٹ پر مجرمانہ سرگرمیاں ہو رہی تھیں اس لئے منسوخ کئے اپنی تشہیر نہیں کی۔ حکومت کسی سیاستدان کے فون ٹیپ نہیں کر رہی، حساس معاملات پر انٹیلی جنس شیئرنگ کا فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔ بنوں کے واقعہ کے باعث چودھری نثار نے پریس کانفرنس اچانک منسوخ کر دی، وزارت داخلہ کے مطابق چودھری نثار نے صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کی۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بات چیت کرنا تھی لیکن انہوں نے پریس کانفرنس سے پہلے کیمرے بند کرا دیئے۔ وزارت داخلہ نے چودھری نثار کی پریس کانفرنس کی میڈیا کو دعوت دی تھی لیکن چودھری نثار کیمرے کے سامنے آنے نہیں آئے۔ وزیر داخلہ نے بنوں کے واقعہ کے بعد آئی جی ایف سی سے رپورٹ طلب کی ہے کہ نجی گاڑیاں کرائے پر لیتے وقت احتیاط کیوں نہیں کی؟ چودھری نثار علی خان نے بنوں واقعہ کے باعث اپنی انتہائی اہم پریس کانفر نس منسوخ کر دی۔ پریس کانفرنس کے لئے بلائے گئے صحافیوں سے وفاقی وزیر داخلہ نے ذاتی طور پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ بنوں واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس موقع پر کسی اور موضوع پر بات کرنا مناسب نہیں، حکومت کو ملک و قوم کا دفاع سب سے بڑھ کر عزیز ہے اور پاکستان کے دفاع کی محافظوں پر حملوں کے سلسلے سے پوری قوم پریشان ہے اس لئے ہم اےک اےسی پالیسی لےکر آرہے ہےں جس سے نہ صرف ملکی دفاع کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاسکے بلکہ ملکی دفاع کے محافظوں کو بھی ہر طرح کی سہولت فراہم کی جاسکے۔ وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس آج وزیراعظم ڈاکٹر محمد نوازشریف کی زیرصدارت ہوگا جس مےں میں قومی سلامتی کی نئی سکیورٹی پالیسی کی منظوری دی جائیگی۔ وفاقی وزیر داخلہ کابےنہ کو طالبان کے ساتھ مذاکرات اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات‘ کراچی آپریشن پر کابینہ کو بریفنگ دیں گے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس 11 بجے دن وزیراعظم آفس کے کیبنٹ روم میں ہوگا جس میں وزارت داخلہ کی طرف سے تیار کی گئی قومی سلامتی سکیورٹی کی پالیسی منظوری کیلئے پیش کی جائیگی۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کابےنہ مےں شامل ہونیوالے نئے وزراءعباس آفریدی‘ اکرم خان درانی اور وزیر مملکت مولانا عبدالغفور حیدری کے محکموں کا حتمی فیصلہ کرےں گے۔ قومی سلامتی پر نئی پالیسی کے مسودے میں پولیس، پیرا ملٹری فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار کو بڑھانے کیلئے 28 ارب روپے کے بجٹ کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قومی سلامتی کی نئی پالیسی کے تحت پولیس اور سول آرمڈ فورسز کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کےا جائیگا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کا ایک نکاتی ایجنڈا قومی سلامتی پالیسی کے مسودے کی منظوری ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ اجلاس کو طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے کوششوں سے آگاہ کریں گے۔ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن پر بھی بریفنگ دیئے جانے کا امکان ہے۔ کابینہ کے ایجنڈا میں داخلی سلامتی کے بارے میں قومی پالیسی کی بھی منظوری متوقع ہے۔ قومی سکیورٹی پالیسی کے مسودے میں صوبائی حکومتوں کا فیڈ بیک شامل کیا گیا ہے۔ ذارئع کے مطابق پالیسی میں ایکشن کے آپشن کو شامل کیا گیا ہے۔ دوست ممالک کے تعاون کا حصول بھی پالیسی میں شامل ہے۔ کابینہ ملک میں توانائی اور معشیت کی صورتحال کا بھی جائزہ لے گی۔ سکیورٹی پالیسی وزیر داخلہ نے 6 ماہ میں طویل مشاورت کے بعد یہ اہم پالیسی تیار کی ہے جس میں دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے کئی اہم تجاویز دی گئی ہیں ۔ پالیسی پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو سیکرٹری داخلہ شاہد خان بریفنگ دے چکے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں طالبان سے مذاکرات کے معاملہ پر تفصیلی غور ہو گا ۔ وزیر داخلہ کابینہ کو اب تک ہونے والے رابطوں پر اعتماد میں لیں گے۔ طالبان کے جن گروپس نے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے، انکے بارے میں کابینہ کو بریف کریں گے۔


وزیر داخلہ/کابینہ/ اجلاس