بنوں کینٹ : فورسز کے قافلے میں بم دھماکہ‘ 22 اہلکار جاں بحق‘ 40 زخمی‘ تحریک طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

بنوں کینٹ : فورسز کے قافلے میں بم دھماکہ‘ 22 اہلکار جاں بحق‘ 40 زخمی‘ تحریک طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

پشاور+ بنوں+ لاہور (بیورو رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ+ خصوصی رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار) بنوں کے کینٹ ایریا میں شمالی وزیرستان جانے والی فرنٹیئر کور کی گاڑی میں بم دھماکے کے نتیجے میں قافلے میں شامل 22 اہلکار جاں بحق اور 40سے زائد شدید زخمی ہوگئے، دھماکہ نفری کو لے جانے والی نجی گاڑی میں ہوا۔بی بی سی کے مطابق بنوں میں بم دھماکہ چھاﺅنی ایریا میں ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تحقیقات کی جا رہی ہے کہ دھماکہ گاڑی میں نصب بم کے پھٹنے سے ہوا یا کسی خودکش بمبار نے خود کو بم سے اڑا دیا، دھماکہ میں زخمی ہونے والوں میں15 کی حالت نازک ہے جنہیں ہیلی کاپٹروںکے ذریعہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا۔ جاں بحق 14اہلکاروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ شمالی وزیرستان میں تعینات سکیورٹی فورسز کیلئے رسد لے کر لے جانے والی فرنٹیئرکورکی نفری بنوں سے میرانشاہ جا رہی تھی رسد کیلئے سرکاری کے علاوہ نجی گاڑیوںکا بھی انتظام کیاگیا تھا جو بنوںکینٹ میں رزمک گیٹ کے قریب آمندی کے گراﺅنڈ میں پارک کی گئی تھیں، صبح آٹھ بج کر45 منٹ پر جب گاڑیوں میں سوار جوان اپنی منزل مقصود کی جانب روانگی کیلئے تیار تھے تو اس دوران ایک فلائنگ کوچ میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں مذکورہ فلائنگ کوچ کے علاوہ 10 گاڑیاں تباہ ہوئی گئیں دھماکہ اتنا زوردار تھاکہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ اس کے فوراً بعد بنوں چھاﺅنی میں تعینات دستوں نے پورے علاقہ کا گھیراﺅ کرلیا، امدادی کاروائیوں کا آغازکرتے ہوئے جاںبحق ہونے والوں نعشوں اور زخمیوںکو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال بنوں منتقل کیا گیا جہاں ہنگامی حالت نافذکرکے علاج معالجہ شروع کیا گیا۔ سکیورٹی حکام نے بتایاکہ یہ دھماکہ ایک گاڑی میں نصب بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا، سردست اس بات کا تعین نہیںکیا جا رہا کہ دھماکہ میںکوئی خودکش استعمال ہوا یا نہیں تاہم یہ بات واضح ہے کہ فرنٹیئرکورکی نفری شمالی وزیرستان لے جانے کیلئے گاڑیاں معمول کے مطابق فرنٹیرکورکے اہلکاروں نے مارکیٹ سے کرایہ پرحاصل کی تھیں اور دھماکے کے وقت فرنٹیرکور کے جوان گاڑی میں سوار تھے، یہ گاڑیاں روانگی کیلئے قطار میں کھڑی تھیں حادثہ میںجاں بحق ہونے والے22 اہلکاروں میں سے 6کی شناخت نہیںہوسکی ان کی شناخت کیلئے ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیںگے۔ پاک فوج اور دیگر حساس ادارے اس واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق ایف سی کی جانب سے کرائے پر حاصل کی گئی کسی ایک گاڑی میں پہلے سے بارودی مواد نصب تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے تباہ کیا گیا، 40 سے 50 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ خودکش تھا اور یہ ولی الرحمن کی ہلاکت کا انتقام ہے۔ دھماکہ محسود گروپ نے کیا۔ آئندہ فورسز پر حملوں کی کارروائیوں میں مزید تیزی آئے گی۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ پورے بنوں میں اس کی آواز سنی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق فورسز کے قافلے کے قریب نجی گاڑی میں بارودی مواد موجود تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے تباہ کیا گیا اس میں 40 سے 50 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دھماکہ خیز مواد نجی وین کے اندر نصب تھا جو کھیل کے میدان کے قریب پرائیوےٹ گاڑیوں کی پارکنگ میں کھڑی تھی۔ بنوں سے ہر ہفتے اور اتوار کو فورسز کے قافلے آمندی چوک میں واقع میدان سے اہل کاروں کی تعیناتی اور سامان کی ترسیل کےلئے شمالی وزیرستان جاتے ہیں یہ عمل روڈ آپریشنل ڈیپلائے منٹ کہلاتا ہے اس مقصد کےلئے نجی گاڑیاں کرائے پر لی جاتی ہیں ۔ واقعہ کے بعد کسی کو اس مقام کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہے کہ نجی گاڑی کس کے ذریعے اور کس سے کرائے پر لی گئی تھی؟ غیرملکی میڈیا کے مطابق دھماکہ خیز مواد اسی مقام پر پہلے سے نصب تھا جہاں سے قافلے نے روانہ ہونا تھا۔ بنوں پولیس کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں چھاﺅنی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی کہ وہ اس بارے میں کوئی معلومات حاصل کر سکیں۔ واقعہ کے بعد سکےورٹی فورسز کی جانب سے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن اور جائے وقوعہ کے قریب کھڑی نجی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔ صدر ممنون حسین وزیر ا عظم ڈاکٹر نواز شریف وزرائے اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف پرویز خٹک ڈاکٹر عبد المالک سید قائم علی شاہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری عبد المجید  گور نر پنجاب چودھری سرور گور نر سندھ عشرت العباد گور نر بلوچستان محمد خان اچکزئی گور نر صوبہ خیبرپی کے شوکت اللہ انجینئر چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری ڈپٹی چیئرمین صابر بلوچ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق وفاقی وزراءچودھری نثار علی خان سینیٹر پرویز رشید سینیٹر اسحاق ڈار خواجہ سعد رفیق شاہد خاقان عباسی خرم دستگیر اکرم خان درانی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری سابق صدر آصف علی زر داری ¾ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفند یار خان ولی ¾ جے یو آئی ف کے رہنما مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی کے رہنما سید منور حسن ¾ لیاقت بلوچ، شیعہ علماءکونسل کے مرکزی رہنما سید ساجد نقوی ¾ رحمن ملک، سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال خان، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر، (ق) لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، وزیر اطلاعات خیبر پی کے شاہ فرمان، متعدد سیاسی و مذہبی رہنماﺅں نے بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر اور وزیراعظم نے اپنے مذمتی بیان میں شہداءکے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں کینٹ دھماکے میں 20اہلکار شہید اور 30زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ کرائے پر حاصل کی گئی گاڑی میں پہلے سے نصب بارودی مواد سے کیا گیا۔ وزیراعظم ڈاکٹر نوازشریف نے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پرحملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ سکیورٹی فورسزکے جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ایسے بزدلانہ حملے کرنے والے عناصر مسلمان تو کیا انسان بھی کہلانے کے حقدار نہیں۔ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہو گا۔ وزیر اعلی نے شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں سے بھی اظہار ہمددری کیا۔ پیپلزپارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ قوم کے بہادر سپاہیوں پر بزدلانہ حملے برداشت نہیں کریں گے۔ طالبان سے مذاکرات افسانہ ہیں اس سے پہلے کہ وہ ہمیں ختم کریں ہمیں انہیں ختم کرنا ہو گا، حملہ آور اسلام پاکستان اور عوام کے مشترکہ دشمن ہیں، تمام طبقات انکے خلاف متحد ہو جائیں، قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ طالبان خودکش حملے اور دھماکے کرکے مسلسل ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، مذاکرات کی پیشکش کو حکومتی کمزوری سمجھا جا رہا ہے اب حکومتی عملداری ناگزیر ہو چکی ہے۔ امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے بنوں میں پاکستانی فوجیوں کے قافلہ پر حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ملک میں بیرونی قوتوں کی مداخلت ختم کرنا ہو گی۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اور دیگر سربراہ سر جوڑ کر بیٹھیں کہ طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں جلد فیصلہ کر لیا جائے۔ فیصلے میں جتنی تاخیر ہو گی اتنا ہی فوجیوں اور عام شہریوں کا زیادہ نقصان ہو گا، جوان شہید ہوتے رہے تو ان کی مایوسی میں اضافہ ہو گا۔
اسلام آباد+ لاہور (وقائع نگار خصوصی+ خصوصی رپورٹر+ اے ایف پی) وزےراعظم مےاں نوازشر ےف نے بنوں دھماکے کے پےش نظر اپنا دورہ سوئٹزر لےنڈ منسوخ کر دےا ہے۔ وزےر اعظم نوازشر ےف نے آج سوئٹزرلےنڈ مےں ہونےوالے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس مےں شرکت کےلئے 3روزہ دورے پر روانہ ہونا تھا لےکن بنوں مےں سکیورٹی اہلکاروں کے جاںبحق ہونے کے واقعہ کے بعد وزےراعظم نے اپنا دورہ منسوخ کر دےا۔ دریں اثناءوزےراعظم ڈاکٹر محمد نواز شر ےف نے وفاقی وزےر داخلہ چودھری نثار علی خان سے ٹےلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں طالبان سے مذاکرات اور موجودہ حالات پر سےاسی جماعتوں کی قےادت کو اعتماد مےں لےنے کا فےصلہ کیا گیا ہے۔ اپوزےشن جماعتوں کے مطالبے پر پارلےمنٹ کا اجلاس بھی بلا ئے جانے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزےراعظم نوازشر ےف نے لاہور مےں موجودگی کے دوران بنوں مےںسےکورٹی فورسز پر حملے کے بعد پےداہونےوالی صورتحال کے بارے میں معلومات کےلئے چودھری نثار علی خان سے رابطہ کےا جس مےں بنوں دھماکے اور طالبان کی جانب سے مذاکرات کی دی جانےوالی دعوت کے بارے مےں بات چےت کی جس مےں فےصلہ کےا گےا کہ طالبان سے مذاکرات اور سےکورٹی کی صورتحال پر چوہدری نثار علی پارلےمنٹ مےں موجود جماعتوں کی قےادت سے رابطے کرےں گے اور انکو تمام صورتحال کے بارے مےں آگاہ کےا جائےگا۔ تمام سےاسی جماعتوں نے پارلےمنٹ کا اِن کمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کےا تو اس کا بھی امکان ہے۔ پشاور سے اے ایف پی کے مطابق پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے قبائلی علاقے کے گاﺅں مساکی میں میزائلوں سے حملہ کیا ہے جس سے 3 عسکریت پسند مارے گئے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ بظاہر طالبان کے بنوں میں بم حملے کا جواب ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق ایک میزائل قریبی ایک مکان میں گرا جس سے 5 سالہ لڑکی اور ایک 7 سالہ لڑکا بھی مارا گیا تاہم سکیورٹی اہلکاروں سے سویلین کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ این این آئی کے مطابق بنوں میں ایف سی قافلے پر ہونے والے حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپڑوں کی مدد سے شمالی وزیرستان کے میرعلی بازار میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر حملے کئے۔ میرعلی بازار اور اسکے اطراف میں شدت پسندوں کے مشتبہ مکانوں اور دکانوں پرتین ہیلی کاپٹروں کی مدد سے شیلنگ کی اور میزائل بھی داغے۔ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ کے بعد میرعلی بازار اور ملحقہ علاقوں سے عام لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔