بنوں حملے کے ذمہ دار نوازشریف ہیں‘ وزیراعظم ہوتا تو طالبان سے مذاکرات میں پہل کرتا : عمران

بنوں حملے کے ذمہ دار نوازشریف ہیں‘ وزیراعظم ہوتا تو طالبان سے مذاکرات میں پہل کرتا : عمران

ہری پور (نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت نیوز) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر حملے کے ذمہ دار وزیراعظم نوازشریف ہیں کیونکہ حکومت ابھی تک مذاکرات کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکی۔ پاکستان کے دشمن چاہتے ہیں کہ پاک فوج قبائلی علاقوں میں جنگ لڑتی رہے اور ملک میں کبھی امن قائم نہ ہو سکے، جب بھی امن کی کوشش کی جاتی ہے تو کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے، مذاکرات کا عمل وہیں رک جاتا ہے، امریکہ دھمکی دیتا ہے کہ اگر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا نہ کیا گیا اور نیٹو سپلائی کا راستہ نہ کھولا گیا تو پاکستان کی امداد روک لی جائیگی ، ہم طالبان کے نہیں پاکستان کے حامی ہیں اور ملک میں امن چاہتے ہیں، بنوں میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ سے ہر پاکستانی رنجیدہ ہے اور فوج سے اظہار ہمدردی ہے، وزیراعظم کی جگہ میں ہوتا تو خود مذاکرات کیلئے وفد بنا کر پہل کرتا، ملک و قوم سے بیگانہ پن وزیر اعظم کے بے سود غیر ملکی دوروں کی صورت میں آشکار ہو چکا ہے، وہ ہری پور پی کے 50 میں 23 جنوری کے ضمنی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار اکبر ایوب خان کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایلیمنٹری کالج گراﺅنڈ میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ تحریک انصاف خیبرپی کے کو مثالی طرز حکمرانی دینے کے بعد ملک کو بھی اپنے پاﺅں پر کھڑا کریگی، وفاق بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا مکمل نظام ہمارے حوالے کرے تو خیبرپی کے میں بجلی کی قیمت کم کر کے اور بجلی چوری کی روک تھام کر کے بتا دیں گے۔ امریکی مفادات میں بندھے حکمران پاکستان کو خود مختار ملک نہیں بنا سکتے، یہ کام تحریک انصاف کرے گی، عمران خان نے کہا کہ پاکستان گزشتہ دس سالوں سالوں سے پرائی جنگ کا ایندھن بنا ہوا ہے جس سے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عمران خان نے عوام پر زور دیا کہ تبدیلی کیلئے تیار رہیں کیونکہ تبدیلی کی جدوجہد نہ کی تو آگے اندھیرا، مہنگائی،غربت اور ذلت ہی ہے۔ ہم روایتی حکمرانو ں کی طرح چور، ڈاکو اور لٹیرے نہیں بلکہ ملک و قوم کے حقیقی محافظ ہیں، عوام پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دے ہم کسی صورت بھی قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ طالبان کا نہیں پاکستان کا حامی ہوں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ بنوں جیسے دو تین مزید حملے ہو گئے تو کہا جائے گا کہ آپریشن کر دو، نوازشریف کو اے پی سی بلاکر مذاکرات کے بارے میں بتانا چاہئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے کہاکہ حکومت ہمیں موقع دے طالبان سے مذاکرات کرانے کیلئے تیار ہیں، ملک کے دشمن پاکستان میں جنگ چاہتے ہیں۔ طالبان کا حامی نہیں، پاکستان کا حامی ہوں، فورسز پر حملوں کا ذمہ دار نوازشریف کے علاوہ کس کو ٹھہراﺅں؟ پاک فوج کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ مذاکرات سے متعلق کسی کو کوئی علم نہیں، سمجھ نہیں آ رہا کہ حکومت مذاکرات کس طرح کریگی۔ عمران خان نے کہا کہ لگتا ہے جنگ کے حامی افراد امن نہیں چاہتے، اے پی سی کے فیصلے کے بعد نوازشریف کو مذاکرات کی نگرانی کرنی چاہئے تھی۔ مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونا نوازشریف کی ناکامی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ملک تباہ ہو رہا ہے، مذاکرات انتہائی ضروری ہےں، سمیع الحق صاحب کا بیان ہے کہ حکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں۔ عمران خان نے کہا کہ جو طالبان رہنما مذاکرات کرنا چاہتا ہے اسے مار دیا جاتا ہے۔ مذاکرات کے بغیر کیسے علم ہو گا کہ کون مذاکرات چاہتا ہے اور کون نہیں؟۔ اے این این کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات میں فضل الرحمن اور سمیع الحق کچھ نہیں کر سکتے، دوبارہ اے پی سی بلائی جائے۔ ثناءنیوز کے مطابق عمران خان نے کہا کہ بنوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہونے والے حملے سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
عمران خان