بامقصد مذاکرات کیلئے تیار ہیں‘ حکومت اپنا اختیار اور اخلاص ثابت کرے : تحریک طالبان

بامقصد مذاکرات کیلئے تیار ہیں‘ حکومت اپنا اختیار اور اخلاص ثابت کرے : تحریک طالبان

اسلام آباد (آن لائن+ ثناءنیوز+ آئی این پی) تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کو اختیار اور خلوص ثابت کرنے کی صورت میں مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ مذاکرات کی پیشکش گزشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میں دی گئی جو طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ذرائع ابلاغ کو تحریری طور پر جاری کیا۔ اس بیان مےں دیگر کئی واقعات کی بھی ذمہ داری بالواسطہ طور پر قبول کی گئی ہے جن میں کراچی سی آئی ڈی ہیڈ کوارٹر اور مہران بیس پر حملہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ بتایا گیا ہے یہ حملے حکیم اللہ محسود کی رہنمائی میں کئے گئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بنوں حملہ ولی الرحمان کے قتل کا بدلہ ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کا ایک شیر صفت فدائی نوجوان بارود سے بھری گاڑی کے ساتھ بنوں کینٹ میں کامیابی کے ساتھ داخل ہوا اور وزیرستان کے مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کے لئے تازہ دم تیار سکیورٹی فورسز پر کارروائی کی جس میں درجنوں اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ کارروائی تحریک طالبان حلقہ محسود کی طرف سے عظیم مجاہد رہنما مولانا ولی الرحمن شہید کے انتقام میں انجام دی گئی۔ تحریک طالبان پاکستان پوری جرات کے ساتھ اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، ہم پاکستان کے حکمرانوں اور افواج پر واضح کرتے ہیں شریعت کی جس آواز کو تم بندوق کے زور پر دبانا چاہتے ہو وہ تمہارے ایوانوں میں ضرور گونجے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے مولانا ولی الرحمن تحریک طالبان کے ان رہنماﺅں میں شامل تھے جنہوں نے احیاءخلافت کی عظیم جنگ کو پاکستان کے طول وعرض میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ بانی تحریک طالبان امیر بیت اللہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ان کے بعد حکیم اللہ محسود امیر مقرر ہوئے۔ آپ نے نفاذ شریعت کی جنگ کو قبائل سے شہری علاقوں کی طرف منتقل کرنے پر خصوصی توجہ دی اور اس پالیسی کے مطابق کراچی سی آئی ڈی ہیڈ کوارٹر اور مہران بیس جیسی کارروائیوں میں آپ کی رہنمائی اور سرپرستی نے اہم کردار ادا کیا۔ دشمن آپ کے تدبر اور جنگی پالیسی سے انتہائی پریشان ہو چکا تھا اور بالآخر امریکہ کی مدد لیکر ایک ڈرون حملے میں آپ کو مارنے میں کامیاب ہو گیا۔ اللہ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں امت کے اس عظیم جرنیل کی قبر پر جس نے اسلام کی بالادستی کے لئے اپنا مبارک لہو پیش کیا اور ہمیں واضح راستہ دکھا گئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان، پاکستان کے مسلمانوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے ہماری جنگ صرف شریعت کے نفاذ کے لئے ہے اس مقصد کے لئے ہم شرعی اصولوں سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ حکومت نے مذاکرات کی آڑ میں امریکہ کی مدد سے پہلے مولانا ولی الرحمن کو اور ان کے بعد امیر حکیم اللہ محسود کو شہید کیا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ، بااختیار اور مخلص نہیں ورنہ عین مذاکرات کی پیشکش کے دوران صف اول کے رہنماﺅں کو کبھی نشانہ نہ بناتی۔ ہمارا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے حکومت اپنا اختیار اور اخلاص ثابت کرے تو ہم باوجود اتنے نقصانات کے آج بھی بامقصد مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق کالعدم تحریک طالبان نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پہلی بار حکومت کے ساتھ مذاکرات کی حامی بھر لی ہے۔ واضح رہے موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی تھی تاہم گزشتہ برس یکم نومبر کو شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد انہوں نے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔ اڑھائی ماہ کے بعد انہوں نے ایک بار پھر حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ترجمان کالعدم تحریک طالبان نے مزید کہا مذاکرات کا عمل ڈرون حملوں سے برباد ہوا۔ حکومت بااختیار نہیں، اختیار کسی تیسرے کے پاس ہے، جنگ بندی کا اعلان حکومت پاکستان کو کرنا چاہئے کیونکہ جنگ پاکستانی حکومت نے شروع کی۔ انہوں نے کہا باوقار، سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا۔ حکیم اللہ محسود پر حملے کی وجہ سے مذاکرات سے انکار نہیں کیا تھا، ڈرون حملہ ہوا تو ثابت ہو گیا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔ مذاکرات کیلئے ڈرون حملے بند کرنے ہونگے اور پاکستانی فوج کو امریکی جنگ سے باہر نکلنا ہو گا۔ آئی این پی کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد اور سینئر رہنما اعظم طارق نے کہا ہے' تحریک طالبان پاکستان بامعنی، بامقصد، پائیدار مذاکرات کے لئے سنجیدہ اور تیار ہے، ہم مذاکرات کی افادیت پر یقین رکھتے ہیں اس لئے کبھی انکار نہیں کیا۔ نامعلوم مقام پر میڈیا سے حکومت کیساتھ مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس سوال پر کہ حکومتی میڈیا بار بار کہہ رہا ہے تحریک طالبان نے حکومت سے مذاکرات سے انکار کیا ہے کا جواب دیتے ہوئے اعظم طارق نے کہا حکومت میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈا کو جنگ کا حصہ سمجھتی ہے، ہم میڈیا پر نہیں حقائق اور سچ پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم نے باوقار، سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات سے نہ پہلے کبھی انکار کیا تھا اور نہ اس مذاکراتی عمل کے افادیت سے مستقبل میں انکار کرتے ہیں، ہم واضح کرنا چاہتے ہیں حکومت نے کبھی بھی مذاکرات کے لئے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ تحریکِ طالبان پاکستان، بامعنی، بامقصد، پائیدار مذاکرات کے لئے سنجیدہ اور تیار ہے اور ہم ملک کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں تحریک طالبان پاکستان، بامعنی، بامقصد، پائیدار مذاکرات کے لئے تیار ہے اور ان مذاکرات کی افادیت پر یقین رکھتے ہیں۔ تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اس سوال پر کہ حکیم اللہ محسود کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد ٹی ٹی پی نے مذاکرات سے انکار کیوں کیا تھا، کہا حقیقت یہ ہے کہ ہم نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا بلکہ ہم نے وہی بات کہی جو بات ہم پہلے کرتے تھے لیکن اسے میڈیا والوں نے اور کچھ بنا دیا۔ پہلے بھی ہم نے یہ بات کہی تھی حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنے آپ کو مخلص اور بااختیار ثابت کرنا ہو گا اور ڈرون حملے کے اس واقعہ کے بعد ہم نے مذاکرات کو مسترد اس بنا پر نہیں کیا تھاکہ ہمارے امیر کو مارا گیا۔ شاہد اللہ شاہد نے کہا حکومت اور ہمارے درمیان جنگ ہے۔ ہم نے ان کو مارنا تھا، انہوں نے ہم کو مارنا تھا، ہم نے مذاکرات کو اس لئے مسترد کیا کہ اس واقعہ کو مذاکرات کے عمل کو برباد کرنے کے لئے کیا گیا اور یہ بات ثابت ہو گئی حکومت مذاکرات میں مخلص نہیں۔ ٹی ٹی پی کے سینئر لیڈر اعظم طارق نے اس سوال پر کہ آپ کے حکومت سے با قاعدہ مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں تو آپ مذاکراتی عمل میں جنگ بندی کےلئے بھی تیار ہیں تو اعظم طارق نے کہا کہ اس بات کا انحصار حکومتِ وقت پر ہے جنگ ہم نے نہیں بلکہ حکومتِ پاکستان نے شروع کی تھی۔ حکومت ہی نے امریکہ کے کہنے پر قبائلی علاقہ جات میں، آکر جنگ شروع کی اور اب جنگ بندی کا اعلان بھی حکومت کو ہی کرنا چاہئے کیونکہ حکومت ہی نے مذاکرات کے لئے ماحول کو پر امن اور بااعتماد بنانا ہے۔ اعظم طارق نے کہا جب حکومت ماحول پرامن اور بااعتماد بنانے کے لئے پیش قدمی کرے گی تو ہم بھی اپنی کارروائیوں پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔ شاہد اللہ شاہد نے ایس پی سی آئی ڈی کراچی چوہدری اسلم کی ہلاکت کی ایف آئی آر، امیر ٹی ٹی پی مولانا فضل اللہ اور ترجمان شاہد اللہ شاہد کے خلاف درج کئے جانے اور پشاور تبلیغی مرکز پر حملہ بارے سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک چوہدری اسلم پر حملہ کا تعلق ہے تو وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا، اس کی مجاہدین اور جہاد سے دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس کے قتل کا مقدمہ ہمارے اوپر درج کیا گیا ہے تواس پر ہمیں فخر ہے۔ ہم تبلیغی بھائیوں کے مرکز پر دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم ان پر حملہ کریںگے تو اس سے ہماری تحریک کی بہت بڑی بدنامی ہے، ہم اپنے آپ کو بدنام کرنے کے لئے ایسی کاروائیاں کیسے کر سکتے ہیں، ہم مسلمانوں پر حملے نہیں کرتے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
طالبان/ پیشکش