کالا باغ ڈیم کے بغیر ملک ایتھوپیا بن جائے گا : پنجاب اسمبلی

لاہور (خبرنگار خصوصی + خبر نگار + سپیشل رپورٹر) پنجاب اسمبلی مےں مردوں کو ایک سے زائد شادیوں کی اجازت کا معاملہ گذشتہ روز بھی زیر موضوع رہا جبکہ پانی کے مسئلہ پر بحث کا باقاعدہ آغاز ہوا جس مےں کالاباغ ڈیم کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ کارروائی کا آغاز ہوا تو ق لیگ کی رکن آمنہ الفت نے اپنی ہی ساتھی ثمینہ خاور حیات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے فلور کو ذاتی مسائل کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ کسی خاتون نے دوسری شادی کی اجازت دی ہے نہ ہی کسی کی خواہش ہے کہ اس کا شوہر دوسری شادی کرے۔ کسی کو گھریلو مسئلہ ہے تو اسے گھر میں حل کرے۔ محسن لغاری نے کہا کہ اس غیر سنجیدہ مسئلہ کے ذریعے سنجیدہ مسئلے کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ فوزیہ بہرام نے کہا کہ میڈیا نے مسئلے کو غلط انداز اور رنگ میں پیش کیا۔ ساجدہ میر نے کہا کہ خواتین کو زمین‘ قرضے دے کر اور ہنر سکھا کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ثمینہ ایک بیٹی کی ماں بن کر سوچتیں تو یہ بات نہ کرتیں۔ فائزہ ملک نے کہا کہ کوئی عورت یہ خواہش نہیں کر سکتی کہ اس کا شوہر دوسری شادی کرے۔ نگہت ناصر نے کہا کہ میڈیا نے ایک اہم ایشو کو اس بحث کی وجہ سے پس پشت ڈال دیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے رولنگ دی کہ میڈیا نے کچھ نہیں کیا ہے۔ ارکان نے جو کہا ہے وہ پیش کیا۔ ارکان اپنی غلطی اور کوتاہی کو میڈیا پر نہ ڈالیں۔ شرعی قانون کا سب کو بخوبی علم ہے۔ اس کے باوجود وقفے وقفے سے ارکان اس پر بات کرتے رہے آخر مےں ثمینہ خاور حیات نے کھڑے ہو کر کہا کہ جو مرد حق زوجیت پورا کر سکتا ہے اس کو چار شادیوں کی اجازت ہے اور مےں اپنے خاوند کو ایک مرتبہ پھر چار شادیوں کی اجازت دیتی ہوں جس پر حکومتی خواتین ارکان کھڑی ہوگیئں اور احتجاج شروع کر دیا۔ رفعت سلطانہ نے کہا کہ ثمینہ ہمیشہ تعمیری کاموں مےں رکاوٹیں ڈالتی ہےں، سپیکر نے الزام تراشی سے منع کیا تو وہ برا منا گئیں۔ شیخ علاﺅالدین کی تحریک التوا کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پنجاب میں پی سی ایس افسروں کی تعیناتیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے چیف سیکرٹری پنجاب نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے جو اپنی رپورٹ 12 مارچ تک پیش کردے گی۔ علاوہ ازیں کتے کے کاٹے کے علاج پر اپوزیشن کی ساجدہ زیدی کی تحریک التوا خلاف ضابطہ قرار دیکر مسترد جبکہ مہر اشتیاق کی تحریک التوا مو¿خر کر دی گئی ہے۔ اپوزیشن کی رکن سمیل کامران کے بار بار لوٹا لوٹا کہنے پر رکن اسمبلی شیخ علاﺅالدین کھڑے ہوگئے اور انہوں نے سپیکر سے کہا کہ ان کو روکیں ورنہ ہم ایوان سے واک آﺅٹ کر جائیں گے جس پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے ایک دوسرے کےخلاف نعرے بازی شروع کر دی، اپوزیشن ارکان نے گو لوٹا گو جبکہ حکومتی ارکان نے مشرف باقیات مردہ باد کے نعرے لگائے۔ بعدازاں پانی پر عام بحث کا آغاز ہوا وزیر آبپاشی راجہ ریاض اور پارلیمانی سیکرٹری فائزہ ملک کی عدم موجودگی مےں حکومتی پالیسی پر بیان دیتے ہوئے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف پہلے ہی ایوان کو یقین دہانی کرا چکے ہےں کہ پنجاب پانی کے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا اور ایوان کی تجاویز سے بھی رہنمائی حاصل کی جائے گی۔ بحث مےں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن رکن محسن لغاری نے کہا کہ کالاباغ ڈیم ملک کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید آبی ذخائر نہ بنائے گئے تو مسلم لیگ (ن) کے ثناءاللہ مستی نے کہا کہ کالاباغ ڈیم نہ بنایا گیا تو ملک ایتھوپیا بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایوب نے دریاﺅں کو بیچ کر معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا۔ سکارپ ٹیوب ویل سکیم فوری بحال کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ رائلٹی سندھ اور سرحد کو دیدی جائے مگر کالاباغ ڈیم ضرور بنایا جائے ورنہ پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ فائزہ حمید نے کہا کہ ارسا کی کمپوزیشن درست نہیں اس مےں سندھ کی نمائندگی دوہری ہے۔ اس لئے ارسا کی ازسرنو تشکیل کی جائے۔ میجر (ر) عبدالرحمن رانا نے کہا کہ ارسا مےں وفاق کی نمائندگی آزادی کشمیر یا گلگت بلتستان سے ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ سمیت تمام ڈیم بنائے جائیں۔ پیپلز پارٹی کے مخدوم محمد ارتضیٰ نے نہری نظام کے حوالے سے محسن لغاری کے بیان کےلئے اعدادوشمار اور تاریخ مےں تصحیح اور درستگی کی اور پھالیہ لنک کینال کا معاملہ اٹھایا۔ بحث ابھی جاری تھی کہ اسمبلی کا وقت ختم ہونے پر اجلاس پیر کی سہ پہر تک ملتوی کر دیا گیا۔