مشرف گرفتار‘ 2 روزہ راہداری ریمانڈ پر پولیس ہیڈ کوارٹرز منتقل

اسلام آباد (وقائع نگار + نیٹ نیوز + نوائے وقت نیوز) سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سول جج اسلام آباد کی عدالت نے انہیں دو روزہ راہداری ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ پرویز مشرف کو چک شہزاد میں ان کی رہائش گاہ سے پولیس ہیڈ کوارٹرز منتقل کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق پرویز مشرف نے خود کو پولیس کے حوالے کیا، پولیس ان کو لینے چک شہزاد میں ان کے فارم ہا¶س گئی جہاں گرفتار کرنے کے بعد انہیں رینجرز کی سکیورٹی میں ان کی بلٹ پروف گاڑی میں عدالت لایا گیا۔ پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سب ڈویژنل پولیس افسر ادریس راٹھور کی سربراہی میں 4 رکنی ٹیم سابق صدر سے تفتیش کرے گی۔ ادریس راٹھور نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم پرویز مشرف کو باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے تاہم ان کی سکیورٹی کے پیش نظر انہیں فارم ہا¶س میں نظربند کیا گیا اور نظربندی کے یہ احکامات گذشتہ رات گئے جاری کئے گئے تھے جبکہ چیف کمشنر اسلام آباد طارق پرویز نے بتایا کہ جب تک ملزم شامل تفتیش نہ ہوں اور متعلقہ عدالت میں ان کے کیس کی سماعت شروع نہ ہو اس وقت تک ملزم کا گھر سب جیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سول جج اسلام آباد نے پولیس کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعہ ایف آئی آر میں شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 48 گھنٹے میں متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے پرویز مشرف کو گرفتار کر کے انہیں پولیس ہیڈ کوارٹر منتقل کر دیا ہے۔ جمعہ کو علی الصبح اسلام آباد پولیس نے پرویز مشرف کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد انہیں سول جج / مجسٹریٹ محمد عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا۔ مشرف کے خلاف ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 6 شامل کی گئی ہے جس کے تحت 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے م¶کل کے خلاف درج مقدمہ قابل ضمانت ہے۔ پولیس نے ان کی باقاعدہ گرفتاری بھی ڈال دی ہے لہٰذا انہیں جوڈیشل کر دیا جائے۔ اس موقع پر درخواست گذار اسلم گھمن کے وکیل راجہ زاہد ایڈووکیٹ نے ساتھی وکلا کے ساتھ فاضل عدالت میں م¶قف اختیا ر کیا کہ پرویز مشرف ملزم ہیں اگر پولیس انکی گرفتاری عمل میں لائی ہے تو ان کو ہتھکڑی نہیں پہنائی گئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں دیا جائے کیونکہ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فاضل عدالت نے پولیس کو ہدایت کی چونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات مقدمے میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا ان کے خلاف 7ATA کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا چونکہ یہ معاملہ دہشت گردی کا ہے لہٰذا ان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے پرویز مشرف کے مقدمے پر فیصلہ محفوظ کر لیا اس دوران پرویز مشرف اپنی گاڑی میں احاطہ عدالت میں موجود رہے تاہم کچھ دیر بعد وہ اپنے وکلا کے مشورے کے بعد اپنے فارم ہا¶س لوٹ گئے۔ فاضل جج نے اپنے تحریری فیصلے میں پرویز مشرف کا دو دن کا راہداری ریمانڈ ایوارڈ کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی وہ پرویز مشرف کو دو دن کے اندر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کریں۔ پرویز مشرف کی عدالت پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ علی الصبح پولیس نے انہیں اپنی حراست میں لیا تھا جس کے بعد انہیں ساڑھے آٹھ بجے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر وکلا ٹولیوں کی صورت میں احاطہ کچہری میں موجود رہے اور مشرف کے خلاف نعرے لگائے تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ قبل ازیں اسلام آباد پولیس نے علی الصبح مشرف کو اپنی حراست میں لے لیا۔ مشرف کے وکیل نے اسے جوڈیشل کرنے کی استدعا کی۔ پرویز مشرف کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد سول جج اسلام آباد محمد عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا تاہم فاضل عدالت کی جانب سے پرویز مشرف کو جوڈیشل نہ کرنے اور راہداری ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دینے کے حکم پر پرویز مشرف کو پولیس ہیڈ کوارٹرز منتقل کر دیا گیا۔ پرویز مشرف کے وکلا کی جانب سے وزارت داخلہ سے استدعا کی گئی تھی کہ ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا جائے تاہم وزارت داخلہ نے ان کی استدعا مسترد کر دی جس کے بعد پولیس نے سابق آرمی چیف کو اپنی تحویل میں لے لیا اور انہیں پولیس ہیڈ کوارٹرز ایچ الیون منتقل کر دیا گیا۔ واضح رہے دو روز کے اندر پرویز مشرف کو اسلام آباد میں جمعہ کو ہی قائم ہونے والی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔ واضح رہے پرویز مشرف کے خلاف سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی کے قتل اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبس بے جا میں رکھنے کے مقدمات میں اشتہاری ہیں۔ واضح رہے کہ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کے سابق صدر اور سابق آرمی چیف کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ میں جاری پرویز مشرف غداری کیس میں لارجر بنچ تشکیل دینے کے لئے ایڈووکیٹ ابراہیم ستی نے درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سردار محمد صدیق خان کے توسط سے جمع کرائی گئی ہے۔ درخواست میں م¶قف اختیار کیا گیا کہ ایڈووکیٹ ابراہیم ستی پرویز مشرف کی جانب سے مقدمہ کے فریق مولوی اقبال حیدر کی درخواست کے خلاف دوران سماعت دلائل دیں گے۔ اس کے لئے عدالت سے استدعا کی گئی کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بغیر فل کورٹ لارجر بنچ تشکیل دیا جائے۔ پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ پرویز مشرف رضاکارانہ طور پر عدالتوں میں پیش ہوئے، ان کی ضمانت کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی جائے گی، سابق آرمی چیف کی تذلیل اندوہناک ہے۔ جس عدالت میں مقدمہ ہو اسی عدالت سے معاملہ صاف ہوتا ہے ورنہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے۔ مشرف تمام خطرات کے باوجود عوام کا ساتھ دینے آئے عدالت کے حکم پر نہیں۔ انٹرپول نے مشرف کو گرفتار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مشرف رضاکارانہ طور پر عدالت میں پیش ہوئے کیونکہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں۔ احمد رضا قصوری نے توقع ظاہر کی کہ عدالتیں ا نصاف کریں گی۔ جسٹس (ر) طارق محمود نے کہا کہ قانون سب کے لئے برابر ہے۔ وہ آرمی چیف ہوں یا عام شہری فیصلہ پر عملدرآمد ہونا چاہئے فرق رکھا گیا تو ملک نہیں چلے گا۔ ادھر پرویز مشرف کے ترجمان ڈاکٹر امجد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو گرفتار نہیں کیا گیا، انہوں نے خود سرنڈر کیا۔ پرویز مشرف نے ججوں کو نظربند کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ پرویز مشرف ججوں کی نظربندی کیس کی تفتیش میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی پولیس بن یامین کو پرویز مشرف کے فرار کیس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اپنے تحریری فیصلے میں ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے عدالت سے فرار ہونے کی ذمہ داری آئی جی اسلام آباد پر عائد ہوتی ہے۔ سیکرٹری داخلہ آئی جی اسلام آباد اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔ اس حوالے سے تحریری حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت میں سابق صدر پرویز مشرف فرار کیس کی سماعت دوسرے روز بھی ہوئی اور آئی جی اسلام آباد کو خصوصی طور پر طلب کیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی جی اسلام آباد کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کو فرار کرانے میں پولیس نے مدد دی، آئی جی غفلت کے مرتکب ہیں کیوں نہ انہیں معطل کر دیا جائے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ عدالت کے باہر کل ہونے و الے ڈرامے کا کون ذمہ دار ہے، آپ سب انسپکٹر کے کندھوں پر ذمہ داری ڈال کر کہاں چلے گئے تھے۔ پرویز مشرف کی گرفتاری کے لئے کس افسر کو مقرر کیا گیا تھا۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد بن یامین نے کہا کہ وہ انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس کے حوالے ہونے وا لے اجلاس میں شرکت کے لئے سپریم کورٹ گئے تھے۔ ایس ایس پی سمیت دیگر اعلیٰ حکام اسلام آباد ہائیکورٹ موجود تھے۔ جنرل پرویز مشرف کو عدالتی حکم کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ چیزوں کو کنفیوز نہ کریں، ایس ایس پی سکیورٹی کے لئے آئے تھے گرفتاری کے لئے نہیں۔ پولیس نے مشرف کو فرار کرانے میں مدد دی، مشرف کی گرفتاری کے لئے کس کو مقرر کیا تھا۔ آپ کے خلاف کارروائی کریں گے، آپ کو تو شاید تفتیشی افسر کا کام بھی معلوم نہ ہو، آپ کار چوری کی تفتیش ایس پی کو دے دیتے ہیں اور اس کیس کی تفتیش سب انسپکٹر کو دے دی گئی، جج نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایف آئی آر کا متن پڑھا اس سے لگائی گئی دفعات درست ہیں ایف آئی آر میں نہ دفعات ٹھیک لگی ہیں نہ ہی اس کی تفتیش درست ہے۔