بوسٹن دھماکے: 2 چیچن بھائیوں کے خلاف آپریشن ایک مارا گیا‘ شہر میں کرفیو کا سماں

بوسٹن دھماکے: 2 چیچن بھائیوں کے خلاف آپریشن ایک مارا گیا‘ شہر میں کرفیو کا سماں

 بوسٹن (نوائے وقت رپورٹ) امریکی پولیس نے بوسٹن دھماکوں میں ملوث ایک مبینہ ملز م کوہلاک کردیا ہے۔ دوسرے مبینہ ملزم کی تلاش کے لیے شہر بھر میں بڑے پیمانے پرآپریشن ہوا۔ بوسٹن کے تمام شہریوں کو گھروں میں بند رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔گورنر میساچیوسٹس نے بتایا کہ بوسٹن دھماکوں کے مفرور ملزم کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کے دوران شہر میں ٹریفک اور ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہے۔ بوسٹن پولیس کمشنر کا کہنا تھا کہ مبینہ ملزم شہر کے مضافاتی علاقے واٹر ٹاون میں چھپا ہوسکتا ہے۔ بوسٹن میراتھن میں 2 دھماکے کرکے 3 افراد کی جان لینے والے مشتبہ ملزمان کی ایف بی آئی نے تصاویر بھی جاری کردی ہیں۔ ملزمان نے بوسٹن یونیورسٹی کے قریب فائرنگ کرکے ایک پولیس آفیسر کو بھی ہلاک کیا تھا۔ جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کے یونیورسٹی پہنچنے پر 2 دھماکوں کے علاوہ ملزمان سے فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں کچھ سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوگئے۔ بوسٹن پولیس کمشنر ایڈ ڈیوس کے مطابق آپریشن کے دوران ایک مشتبہ شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیاتھا جو ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس مبینہ ملزم کا نام تیمور لنگ سارانیف تھا جبکہ دوسرا مشتبہ ملزم اس کا بھائی جوہر سارانیف ہے۔ امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کا تعلق چیچنیا سے ہے اور وہ بھائی ہیں۔ آپریشن کے دوران یونیورسٹی آف میساچوسٹس کا کیمپس خالی کرا لیا گیا۔ امریکی صدر اوباما کو دھماکوں کی تحقیقات پر بریفنگ دی گئی۔ سکیورٹی اداروں کا سرچ آپریشن کے دوران شہر بھر میں کرفیو جیسی صورتحال رہی۔ ذرائع کے مطابق تمام شہریوں کو گھروں میں رہنے اور دروازے لاک رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ میساچوسٹس یونیورسٹی میں دھماکے اور فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق کیمبرج میں میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کیمپس کے قریبی سڑک پر پولیس اہلکار کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد دھماکے ہوئے یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالات انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔