انتخابات کا التوا قبول نہیں‘ قوم لوڈشیڈنگ‘ غربت سے نجات کیلئے ہمیں کامیاب کرائے: منور حسن

انتخابات کا التوا قبول نہیں‘ قوم لوڈشیڈنگ‘ غربت سے نجات کیلئے ہمیں کامیاب کرائے: منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار + ایجنسیاں) جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ مشرف کسی رعائت کے مستحق نہیں، پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کو داﺅ پر لگا کر امریکی اشاروں پر ناچنے والوں کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہوا ہے اور مشرف بہت جلد اپنے اس انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ مصر تیونس لیبیا اور مراکش میں عوام نے جس طرح امریکی ایجنٹوں کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے پاکستان میں بھی بہت جلد وہی داستان دہرائی جانے والی ہے۔ آئندہ انتخابات امریکی حامی اور مخالف قوتوں کے درمیان ہونگے اور عوام ملک سے امریکہ نواز لابی کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیں، توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے دیانتدار قیادت کا انتخاب ضروری ہے، عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ اور غربت کے اندھیروں سے نجات چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کو کامیاب کروائیں۔ ناصر باغ میں جماعت اسلامی کے ”عزم انقلاب ورکرز کنونشن“ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم کسی صورت انتخابات کا التواءقبول نہیں کرے گی، نگران حکومت، فوج، عدلیہ اور تمام سیاسی جماعتیں بروقت انتخابات چاہتی ہیں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کئی جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے پرخلوص کوشش کی لیکن سب نے ہماری اس کوشش کو ہماری کمزوری سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جماعت آئندہ انتخابات میں اتنی سیٹیں حاصل کرنےکی پوزیشن میں نہیں کہ وہ سادہ اکثریت حاصل کرکے تنہا حکومت بنا سکے۔ جماعت اسلامی اس وقت اپنے پرچم اور اپنے نشان ترازو کے ساتھ انتخابی میدان میں ہے ،ہم نے پورے ملک میں دیانتدار ،باصلاحیت اور باکردار امیدوار میدان میں اتارے ہیں ،اب یہ قوم کا امتحان ہے کہ ایسے لوگوں کو کامیاب کراتی ہے یا ایک بار پھر لٹیروں ،ٹھگوں اور قومی خزانہ لوٹنے والوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچاتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ عوام آئندہ الیکشن میں بار بار آزمائے ہوﺅں کو ایک بار پھر آزمانے کی غلطی کریں گے تو پھر پانچ سال تک ان کو مہنگائی ، بےروزگاری، غربت، بدامنی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگتنا پڑے گا ،اس لئے عوام کو انتہائی سوچ سمجھ کر اپنا ووٹ کاسٹ کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کا امن و سکون غارت کردیا ہے اور تمام کاروبار زندگی ٹھپ ہوچکا ہے۔ جماعت اسلامی قوم سے عہد کرتی ہے کہ اگر ہمیں موقع ملا تو ہم پہلے چھ ماہ میں ہی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیں گے۔ سید منور حسن نے ملک کے اندر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی مہم خون ریزی کی طرف بڑھ رہی ہے نگران حکومت سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرے۔ لیاقت بلوچ نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اب قوم امریکہ کی ڈکٹیشن پر چلنے کو تیار نہیں اور جن پارٹیوں کا ایجنڈا قوم کو عالمی سامراج کے شکنجے میں دینا ہے وہ آئندہ انتخابات میں عبرتناک شکست سے دوچار ہوں گی۔ جماعت اسلامی لاہور کے امیر میاں مقصود احمد نے کہا کہ لوگ ڈکٹےشن لے رہے ہےں کہ دےنی جماعتوں کے ساتھ نہ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تعلےم، صحت اور امن و امان کی صورتحال آپ کے سامنے ہے۔جےل روڈ سے آگے کالا ہور اور ہے ضلع کچہری سے آگے دوسرا لاہور ہے، ڈاکٹر فرےد احمد پراچہ نے کہا پنجاب کے مالک جماعت اسلامی کی وجہ سے بنتے رہے ہےں، تبدےلی افراد سے نہےں آتی نظرےات سے آتی ہے۔ اچھی ٹےم سے آتی ہے، ےہ سب چےزےں صرف جماعت اسلامی کے پاس موجود ہےں۔انہوں نے کہا کہ ظلم کے خاتمے کےلئے جماعت کے کارکنان نے سب سے زےادہ قربانےاں دی ہےں۔امےر العظےم نے کہا کہ تبدےلی کے نام پر کچھ کھلاڑی ہےں کچھ مداری ہےں جو تبدےلی کا نام تو لےتے ہےں لےکن عملی طور پر کچھ نہےں کرتے۔ دریں اثنا ایک نجی ٹی وی اور اے پی پی کو انٹرویو میں سید منور حسن نے کہا کہ عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا اور بہت سے سوالیہ نشان کھڑے ہو رہے ہیں، نگران وزیراعظم آل پارٹیز کانفرنس طلب کریں۔ آرٹیکل 62 اور 63 پر بھی آئین کے دیگر آرٹیکلز کی طرح عملدرآمد ہونا چاہئے، سیکولر لابی کی چیخ و پکار کی وجہ سے جعلی ڈگریوں اور دفعہ 62 اور 63 پرفیصلے واپس ہونے لگے، عوام آزمائے ہوئے لوگوں کو بجائے ہمیں ووٹ دیں۔ مسلح جہاد کی حمایت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مسلح جہاں شروع کرنے والے ہمارے لوگ تھے بعد میں اور تنظیموں کے لوگ بھی جہاد میں شامل ہوئے ہم نے امریکہ کے خلاف اور جہاد کیلئے ذہنی آبیاری کی ہے۔ جہاد مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور جو بھی جہاں بھی جہاد کرے گا ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ اسامہ بن لادن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ صرف ہیرو نہیں، ہیرو سے بڑھ کر ہیں۔ انہوں نے اسلام اور امت کا دفاع کیا جو اسامہ کو ہیرو کہنے سے ڈرتے ہیں ان کواپنے مسلمان ہونے کا جائزہ لینا چاہئے۔ مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے پر پابندی کے فیصلے پر انہوں نے کہا کہ ہم یہ پابندی نہیں مانتے، پاکستان کا نام ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یہ فیصلہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات اس لئے خراب ہیں کہ عوام جنہیں جھولیاں بھر بھر کر ووٹ دیتے ہیں پھر ان کو ہی جھولیاں بھر بھر کر بددعائیں دیتے ہیں لیکن ہمیں ووٹ نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ اب موقع ہے کہ عوام چھ سات انتخابات میں آزمائے ہوئے لوگوں اور جماعتوں کو مسترد کرکے ہمیں آزمائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جماعت اسلامی کی حکومت ضرور آئے گی۔