گورنر سندھ کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ

گورنر سندھ کو      تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ

کراچی میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا استعفیٰ کئی روز تک موضوع بحث بنا رہا۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اچانک دبئی چلے گئے تھے جس کے بعد ان اطلاعات نے جنم لیا تھا کہ گورنر سندھ مستعفی ہو گئے۔ اب ایوان صدر سے اطلاع آئی ہے کہ ان کا استعفیٰ مل گیا ہے جو کہ بوجوہ منظور نہیں کیا گیا۔ بظاہریہ اطلاعات گشت کرتی رہیں کہ عشرت العباد نے کراچی آپریشن ، شہری امور اور بلدیاتی اداروں میں میں پیپلز پارٹی کی مداخلت پر استعفیٰ دیا ہے ۔ تاہم اس دوران ایم کیو ایم کے گرفتار رکن صوبائی اسمبلی ندیم ہاشمی کی رہائی سے بھی صورت حال میں بہتری واقع ہوئی ہے۔ وفاقی وزراء چودھری نثار اوراسحاق ڈار نے بھی قبل ازیں دبئی میں گورنر سندھ سے رابطہ کر کے ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ گورنر سندھ جب بیرون ملک جاتے ہیں تو رخصت لیتے ہیں لیکن اس بار گورنر باضابطہ چھٹی لئے بغیر اچانک چلے گئے۔ جس کے باعث سندھ میں ان کی جگہ کسی قائمقام کا تقرر بھی نہ تھا۔ ان کے قریبی حلقوں نے کہا کہ وہ اہلیہ کے علاج کیلئے دبئی گئے تھے۔ وفاق نے اگرچہ انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی ہے تاہم وفاق کا یہ اعلان ان حلقوں پر بجلی بن کر گرا جوکہ 11 مئی کے بعد سے ان کو مہمان گورنر قرار دے رہے تھے۔بعض اطلاعات کے مطابق وفاق نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ کراچی آپریشن کی نگرانی گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ دونوں کریں گے اور کراچی آپریشن کی کمیٹیاں بیک وقت گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کو جوابدہ ہوں گی۔ نئے گورنر کیلئے خالد مقبول کا نام آنے پر مسلم لیگ(ن) کے اندر گورنر کے امیدواروں کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی تھی ، کیونکہ گورنر سندھ کی تبدیلی کی اطلاعات کے ساتھ ان کی امیدیں وابستہ تھیں یہ امیدوار گورنر کو وفاق کی جانب سے روکے جانے پر بھی پریشان نہیں تھے ۔کیونکہ ان کا خیال تھا کہ گورنر سندھ کو دیریا بدیر جانا ہوگا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی گشت کررہی تھیں کہ گورنر سندھ کو وزیراعظم نے ان کی خواہش پر دسمبر تک کام کرنے کی اجازت دی ہے جس کے بعد گورنر کی تبدیلی ناگزیر ہوجائے گی لیکن چونکہ قسمت 12 سال سے عشرت العباد کے ساتھ ہے تو اس بات کے بھی روشن امکانات ہیں کہ نوازشریف کی اور ان کی رفاقت طویل ہو جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر عشرت العباد سب کی پسندیدہ شخصیت ہیں صدر وزیراعظم سیاسی جماعتیں میڈیا اور سب سے بڑھ کریہ کہ اسٹیبلشمنٹ بھی ان کیلئے نرم گوشتہ رکھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی آصف زرداری وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ سب ان کیلئے دیدہ ودل فراش کرتے ہیں 5 سال کے دوران انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مثالی ورکنگ ریلیشن شپ قائم کر کے صوبے کو چلایا۔ پیپلز پارٹی نے حالانکہ ان کے پرکاٹ دیئے اوراختیارات سلب کر لئے لیکن وہ گورنر ہائوس میں کسی مہم جو کو پسند نہیں کرے گی۔قوم پرستوں کو بھی ڈاکٹر عشرت العباد سے کوئی پرخاش نہیں۔ 
نئے گورنر سندھ کی تقرری کیلئے مسلم لیگ میں کشمکش پائی جاتی ہے صوبے میں گورنر راج کی افواہیں تو اس دن سے اڑ رہی ہیں جس روز قائم علی شاہ نے حلف اٹھایا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور گورنر شپ کے امیدوار بھی گورنر راج کے مخالف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت قائم رہے تاکہ سیاسی گورنر کا تقرر ہو سکے کیونکہ گورنر راج قائم ہوا تو کسی سخت گیر شخصیت یا نئے مسلم لیگی کو لایا جائیگا اور گورنرشپ کے دوسرے امیدوار منہ تکتے رہ جائیں گے۔ سندھ کی سیاست کے رنگ ڈھنگ اورانداز بہت نرالے ہیں۔ حلیف چند دنوں میں حریف اور مخالفین دوست ہوجاتے ہیں گزشتہ کئی ماہ سے سندھ کی سیاست کے رنگ بدل رہے ہیں اورسیاسی پوزیشن صبح شام تبدیل ہورہی ہے الیکشن سے قبل پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اتحادی تھے اب یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی مخالف ہیں۔ ایم کیو ایم الزام لگا رہی ہے کہ پیپلز پارٹی نے آپریشن کا رخ اس کے کارکنوں کی جانب موڑ دیا اور اب وہ مایوس ہوکر مسلم لیگ(ن) کے ساتھ پینگیں بڑھارہی ہے۔ آپریشن کے باعث صوبہ میںتلخی میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن حبس اورگھٹن کے اس ماحول میں جب محاذ آرائی اورتصادم کی سیاست عروج پر ہے سابق وفاقی وزیر رحمان ملک مفاہمت کی سیاست کو زندہ کرنے کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں اور ان کی کوششوں سے پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم کے درمیان رابطے بحال ہو گئے۔ سابق صدر اورپیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی رحمان ملک کو گفت شنید کا ٹاسک دیدیا ہے اوردونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی رابطے بحال ہونے کے بعد حکومت میں شمولیت کیلئے مشاورت شروع ہو گئی ہے لیکن بعض حلقوں نے اس کو پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی قرار دیا ہے اوریاد دلایا ہے کہ 95ء میں جب نصیراللہ بابر نے تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کر کے ایم کیو ایم کی کمر توڑ دی تھی تو مذاکرات اور آپریشن ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ سیاسی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات گورنر سندھ عشرت العباد کی کوششوں سے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اورایم کیوایم کی لندن قیادت کے درمیان بھی گفت وشنید ہوئی ہے۔ رحمان ملک نے ڈاکٹر فاروق ستار سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم اورپیپلز پارٹی کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کی کراچی کے انتظامی بلدیاتی اورشہری امور میں مداخلت کے بعد معاملات نازک ہوگئے۔ نئے بلدیاتی قانون کی منظوری‘ شہری وبلدیاتی اداروں میں اکھاڑ پچھاڑ اور توڑ پھوڑ کے بعد اب پیپلز پارٹی نے بلدیاتی قانوں میںترامیم کے ذریعے ایم کیو ایم پر کاری ضرب لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔سیاسی حلقوں کاکہنا ہے کہ پیپلز پارٹی یہ اقدامات ایم کیوایم پر دبائو ڈالنے کیلئے کررہی ہے تاکہ ایم کیو ایم صوبائی حکومت میں شامل ہوجائے لیکن ایم کیو ایم بہت سخت جان ثابت ہورہی ہے اورٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ باخبر حلقوں کاکہنا ہے کہ گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی توجہ کراچی کی حالت زار اوراس کے نتیجے میں شہریوں کی مشکلات کی جانب مبذول کرائی تھی ۔ کراچی آپریشن تو 4ستمبر کو شروع ہوا تھا لیکن دونوں جماعتوں کے تعلقات میں اس وقت تنائو پیدا ہوا جب نارتھ ناظم آباد سے ایم کیو ایم کے ندیم ہاشمی کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ایم کیوایم نے الزام عائد کیا کہ آپریشن کا رخ ہماری جانب موڑ دیا گیا ہے اورا یم کیو ایم کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا موقف ہے آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہو رہا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ لیاری میں تمام چھاپے ناکام اورکراچی کے ضلعی سینٹرل میں کامیاب ہوئے دونوں جماعتوں کے درمیان ندیم ہاشمی کی گرفتاری کے بعد ہونے والی غیراعلانیہ ہڑتال پر بھی کشیدگی بڑھ گئی تھی وزیراعلیٰ سندھ نے جبری ہڑتالیں کرانے کے خلاف قانون سازی کا فیصلہ کیا تھا لیکن ندیم ہاشمی کی رہائی کے بعد افہام و تفہیم کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔