میجر جنرل نیازی اور ساتھیوں کی شہادت پر مذمت کا سلسلہ جاری

صحافی  |  احمد کمال نظامی

اپر دیر دھماکے میں دہشت گردوں کی بزدلانہ واردات میں ملک و قوم کے محافظ میجر جنرل ثناء اللہ خاں نیازی اور ان کے ساتھی دوسرے فوجی افسروں اور اہلکاروں کی شہادت پر پورے ملک میں بلا شبہ مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کے تیسرے اور پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد کے عوامی اور سیاسی حلقوں نے کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے اس کی ذمہ داری قبول کرلینے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کارروائیاں امن کی بحالی اور اس ضمن میں مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے ۔ میجر جنرل ثناء اللہ خاں نیازی اور انکے ساتھی فوجی افسروں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ دے دیاگیا ہے ۔ یہ مذموم کارروائی یقینا اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فریق ثانی میں بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اور چونکہ انہیں پاکستان میں دہشت گردی کیلئے ہر قسم کا جدید اسلحہ اور ڈالرز ملتے ہیں لہٰذا وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن وامان بحال ہو۔ تحریک طالبان نے ایک طرف تو اپردیر میں بارودی سرنگ دھماکہ کرکے پاک فوج کے جانباز اور بہادر افسروں کو شہید کیا دوسری طرف حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ نہ صرف قبائلی علاقے سے پاک فوج کو واپس بلائے بلکہ طالبان قیدیوں کو بھی رہا کرے۔ سوال یہ ہے کہ جب تحریک طالبان کی قیادت میں حکومت پاکستان کی طرف سے مذاکرات میں قبائلی علاقوں سے پاک فوج کی واپسی اور طالبان قیدیوں کی رہائی کے آپشن موجود تھے تو اپر دیر میں بارودی سرنگ بچھا کر جی او سی سوات اور ان کے ساتھیوں کو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کرکے شہید کرنے کامقصد کیاتھا۔ اگر دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث بعض افراد کایہ خیال تھا کہ پاک فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کے خلاف اس قسم کی کارروائی سے حکمرانوں سے من مانی شرائط پر صلح کرائی جاسکتی ہے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ پاکستان کی حکومتوں نے طالبان کو کچلنے سے ہمیشہ ہی اس لئے اجتناب کیاہے کہ ایک تو یہ طالبان جیسے بھی ہیں‘ پاکستانی ہیں ،دوسرے ان میں سے بہت ایسے بھی ہیں جو کسی رد عمل کے نتیجے میں اس راہ کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں ایسے ضمیر فروش آلہ ء کاروں کی بھی کمی نہیں جو امریکی ڈالروں کی چمک پر مذاکرات کے خلاف ہیں اور طالبان کو ان کے مقاصد سے ہٹانے کے لئے ایسے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے بالکل بجا کہاہے کہ پاکستان میں امن کے قیام کو موقع ضرور ملنا چاہئے لیکن ان کی دہشت گردی اور ملک دشمن ایجنڈے کو کیسے تسلیم کرلیاجائے۔ اپر دیر کے بارودی سرنگ دھماکے میں قیمتی جانوں کے اتلاف پروزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنے تعزیتی الفاظ میں کوئی سخت موقف اختیار نہیں کیا۔ ان کے برعکس ملک کے اکثر سیاست دانوں اور عوامی لیڈروں نے طالبان کی اس حرکت کو جلتی پرتیل چھڑکنے سے تعبیر کیاہے۔ اگر حکومت نے طالبان سے مذاکرات کاراستہ اختیار کرنے کاکوئی عندیہ دیاہے تو یہ دراصل طالبان کی طرف سے گیارہ مئی کے انتخابات سے پہلے مسلم لیگ (ن) ‘ تحریک انصاف‘ جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو ضامن بنا کر حکومت سے مذاکرات کی جو پیشکش کی گئی تھی‘ اس پیشکش کا جواب ہے۔ لہٰذا ان مذاکرات میںاب ان سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان کاکردار بھی نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ مسلح افواج کے جرنیلوں کی حب الوطنی ہر قسم کے شک و شبے سے بالا تر ہے۔ طالبان کی اعلیٰ قیادت اپنے دلوں پرہاتھ رکھ کر خود فیصلہ کرے کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد جس طرح ملک و قوم کے محافظوں کو بزدلانہ انداز میں حملہ کر کے جانوں سے محروم کردیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میںفوج کے سر براہ کیلئے کالعدم تحریک طالبان کی اعلیٰ قیادت کیلئے اپنے دل میں نرم گوشتہ پیدا کرنا کتنا مشکل ہوگا۔ چاہئے تو یہ کہ اپردیر بارودی سرنگ دھماکے میں جتنے اعلیٰ فوجی افسروں کی جام شہادت ہوئی ہے، دھماکے میں جو گروپ بھی ملوث ہے اپنی اس بزدلانہ اور گھنائونی حرکت پرحکومت پاکستان اور فوج کی قیادت سے معافی طلب کر ے، تاکہ امن مذاکرات کا عمل جاری رکھا جا سکے۔ پاک فوج سکیورٹی فورسز اورکالعدم تحریک طالبان کے بعض گروپوں کے مابین ایک عرصے سے جو جنگ جاری ہے اسے اب ختم ہوجاناچاہئے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے گیارہ سال پہلے پاکستان کودہشت گردی کے خلاف امریکہ کی نام نہاد جنگ میں دھکیلا تھا ہمیں اس کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔ موجود حکومت کے ابتدائی 100دنوںمیں ‘یہی ایک اچھا کام ہونے کی نوید ملی تھی کہ حکومت اور طالبان میں مذاکرات سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات ختم ہورہے ہیں لیکن سانحہ اپر دیر نے افواج پاکستان کو طالبان کو آگے بڑھ کر گلے لگانے کی ان کی صلح کی امنگ مجروح کردی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے درست کہاہے کہ ملک میں امن کے قیام کی ایک کوشش ہونی چاہئے تھی لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیاہے کہ کوئی یہ مت سوچے کہ پاک افواج ‘ ملک میں امن کی ترویج کیلئے طالبان کی تمام شرطیں مانے گی۔فاٹا پاکستان کی سر زمین ہے اور اس وقت پاک افغان سرحد پر پاک فوج کو نہ صرف فاٹا میں ڈٹے رہنا چاہئے بلکہ امن کی خواہش رکھنے والے طالبان کو ان مذاکرات میں کامیابی کے بعد اپنے علاقوں میں پاک فوج کا مدد گار بن کر اپنا کرداراداکرناچاہئے۔