قومی اسمبلی : کھوکھرا پار مونا بائو روٹ تجارت کیلئے کھولنے کا فیصلہ کرلیا

قومی اسمبلی : کھوکھرا پار مونا بائو روٹ تجارت کیلئے کھولنے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد (ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں صدراتی خطاب پر بحث بدھ کو بھی جاری رہی جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے حصہ لیا۔ اپوزیشن نے حکومت کی 100 دن کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی جبکہ حکومتی ارکان نے مشکل ترین حالات میں ملک کو بہتری کی طرف لے جانے پر موجودہ حکومت کو خراج تحسین پیش کیا۔ بحث کے دوران محمود خان اچکزئی کی طرف سے کراچی کو دہشت گردوں کا شہر قرار دئیے جانے پر ایم کیو ایم کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور محمود خان اچکزئی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ نکتہ اعتراض پر ایم کیو ایم کے ارکان نے محمود اچکزئی کے بیان پر احتجاج جاری رکھا اور مطالبہ کیا کہ محمود اچکزئی کے کراچی سے متعلق الفاظ کو کارروائی سے حذف کیا جائے۔ شیخ رشید احمد نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر ملک کے دہشت گرد دستیاب ہیں، اسلام آباد سب سے غیر محفوظ علاقہ ہے، آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرط پر بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا گیا ہے، بیرونی ممالک کیلئے فون کالز کو مہنگا کر دیا گیا ہے، سعودی عرب سے ہمارے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے لیکن ہماری حکومت کوئی سٹینڈ نہیں لے رہی، اس معاملے پر بھارت نے سٹینڈ لیا، وزیراعظم نے نو وزارتیں اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں، ہر منتخب ہونے والا نمائندہ وزیراعظم، سپیکر، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، حکومت کے 100 دنوں کی کارکردگی صفر ہے۔ اے این پی نے کہا کہ اے پی سی پر ان سے زبردستی دستخط کروائے گئے اس خبر سے دنیا میں کیا پیغام جائیگا، ہمیں بہادر قیادت کی ضرورت ہے، ہمارے فوجی جوانوں اور افسروںکو شہید کر دیا گیا، 100 دنوں میں حکومت کی ایک بھی پالیسی بتا دیں بجلی کی جو قیمت اب آنیوالی ہے لوگ دعا کرینگے کہ لوڈشیڈنگ واپس آ جائے، وقفہ سوالات میں جواب دینے کیلئے وزیر نہیں ہوتے، بلوچستان میں ابھی تک کابینہ نہیں بن سکی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب تک ہم لوگوں کو سچ نہیں بتائیں گے ملک برباد ہو جائے گا اس ملک میں نہ کوئی کسی کا غلام ہے اور نہ کوئی کسی کا آقا ہے ہمارا ملک خطرناک حالات میں ہے دنیا ہم پر الزمات لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد غیر سیاسی لوگوں کے ذریعے ملک کو چلایا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 25 سال بعد ملک ٹوٹ گیا شیر مادر سمجھ کر اس ملک کے خزانے کو لوٹا جا رہا ہے 8300 کریمنلز کو چھوڑ دیا گیا جبکہ سائیکل چور اور چھوٹے جرائم میں ملوث جیلوں میں ہیں کراچی میں پشتون پنجابی بلوچ اور دیگر قومیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں مگر ان کی قومی اسمبلی میں کیوں نمائندگی نہیں ان 50 لاکھ لوگوں کی صوبائی اسمبلی میں بھی کوئی نمائندگی نہیں لاہور اسلام آباد اور کراچی میں شراب نوشی ہوتی ہے مگر فاٹا میں اس کا کوئی تصور نہیں۔ ایف سی آر میں پولیٹیکل ایجنٹ کو بے پناہ اختیارات ہیں وہ ہزاروں لوگوں کو گرفتار اور ہزاروں گھر گرا سکتا ہے فاٹا کا ہر آدمی بغیر پاسپورٹ کے افغانستان جا سکتا ہے انگریزوں کے دور میں بھی یہی رائج تھا 12 مئی کو چیف جسٹس کی کراچی آمد پر چھ گھنٹے تک فائرنگ کی گئی اور لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا اس کی آج تک انکوائری نہیں ہو سکتی کراچی دہشت گردوں کا شہر بن چکا ہے وفاداری ملک کے ساتھ ہونی چاہئے وعدہ کریں کہ ہم نے ملک کو فیڈریشن کے طور پر چلانا ہے کراچی چھوٹا پاکستان ہے یہاں پر تمام زبانیں بولنے والے آباد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں منتخب گورنر لگایا جائے نیا قانون بنا کر وہاں اسمبلی قائم کی جائے اور ان کو ووٹ کا حق دیا جائے ہم نے دنیا کو پیغام دینا ہے کہ ہم اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کر سکتے ہیں اور اس کی سمگلنگ نہیں ہونے دینگے ہمسایوں سے تعلقات بہتر نہیں ہونگے تو ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ ایم کیو ایم کے ساجد احمد نے کہا کہ لاپتہ افراد کے بارے میں سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوا 1992ء کے بعد سے ہمارے 26 کا رکن لاپتہ ہیں ہم کراچی کو دہشت گردوں کا شہر قرار دینے کے بیان کی مذمت کرتے ہیں محمود اچکزئی کو 12 مئی کا دن تو یاد ہے تاہم جن سینکڑوں افراد کو قتل کر دیا گیا ہے اس پر تو کسی نے آواز نہیں اٹھائی ایم کیو ایم بھی احساس محرومی کی پیداوار ہے ہمارا مینڈیٹ سب کو کھٹک رہا ہے۔ محمود اچکزئی نے کراچی کے بارے میں بات کر کے کراچی کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے وہ ایوان سے معافی مانگیں۔ پیپلز پارٹی کے سید اصغر علی شاہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری عزت سے رخصت ہوئے۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ یعقوب نے کہا کہ ہمیں آئین پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس ملک کو اسلامی مملکت بنانا ہو گا کراچی ہمارا معاشی حب ہے اس شہر میں امن کیلئے متفقہ لائحہ عمل بنانا ہو گا۔ جمعیت علمائے اسلام کے قاری محمد یوسف نے کہا کہ غریب عوام کو پرانے صدر کے جانے اور نئے صدر کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مسلم لیگ (ن) کی عارفہ خالد نے کہا کہ ہمیں نصاب میں تبدیلی لانا ہو گی اور بچوں کو جنسی تشدد سے بچانا ہو گا۔ آزاد رکن جمشید احمد دستی نے کہا کہ جمہوری نظام کو جاری رہنا چاہئے ہم آمروں کو گالی دیتے ہیں ہم جمہوری لوگوں نے بھی کونسا بہتر کام کیا ہے عوام ہم سے مایوس ہو چکے ہیں۔ پاکستان اس وقت آگ میں جل رہا ہے ہمارے لوگوں کو بلوچستان میں قتل کیا جا رہا ہے میں نے 60 نعشیں وصول کی ہیں آرمی چیف اسمبلی میں آ کر بریفنگ دیں یہ اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ دہشت گرد ہے اس کے سفارت خانے کو بند کر دیا جائے، امریکہ پاکستان کے پانچ ٹکڑے کرنا چاہتا ہے، ہم امریکہ کے مرہون منت ہیں، ہمارا اقتدار امریکہ کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اپوزیشن نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑے پیمانے پر بھتہ وصولی‘ بھارت کی پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزیاں‘ وزیراعظم کے 9 وزارتیں اپنے پاس رکھنے کا معاملہ اٹھایا‘ حکومتی حلیف محمود خان اچکزئی نے این آر او کے تحت 8300 مجرموں کو معافی دینے کا ایشو اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ 12 مئی کو کراچی میں ہونے والے قتل عام کا مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کرانے کو تیار ہیں‘ کراچی اس وقت دہشت گردوں کا شہر بن چکا ہے۔ وزیر داخلہ تحقیقات کرائیں کراچی دہشت گردوں کا شہر ہے، قوموں سے نا انصافی نہ کی جائے اس سے نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ محمود اچکزئی کی تقریر افسوسناک اور حقائق کے برخلاف ہے، قیام پاکستان میں جانیں دینے والوں کی قربانیوں کو حادثہ کہنا پاکستان کی توہین ہے۔ قومی اسمبلی میں وفاقی ملازمین کا سرمایہ رفاہی فنڈ و گروہی بیمہ (ترمیمی) بل 2013ء پیش کر دیا گیا۔ حکومت پاکستان نے بھارت سے تجارتی روابط کو مستحکم کرانے کے لئے سندھ کی کھوکھرا پار سرحد کھولنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ بھارت نے تو روٹ پر تجارت کی بحالی کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ بھی بنا لیا جبکہ پاکستان مشترکہ ورکنگ گروپ تین ماہ بعد بنائے گا۔ شیخ آفتاب نے قومی اسمبلی میں خطاب میں کہا کہ کھوکھرا پار موناباؤ روٹ کھولنے سے دونوں ملکوں کے لئے تجارت میں آسانی ہو گی کیونکہ پاکستان پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ برابر کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھوکھرا پار مونا روٹ پر تجارت کی بحالی کے لئے بھارت نے تو مشترکہ ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیدیا ہے جبکہ پاکستان بھی تین ماہ بعد مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دے گا۔