فوجی قافلے پر حملہ‘ مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش

فوجی قافلے پر حملہ‘ مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش

وزیراعظم میاں نوازشریف کی دعوت پرمنعقدہ آل پارٹیزکانفرنس کا انعقاد اس حوالہ سے خوش آئند تھاکہ اس کانفرنس میںملک کی تمام اہم سیاسی جماعتوںکے قائدین نے ملک کودرپیش دہشت گردی اور بدامنی کے سنگین مسئلہ سے نجات کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ کانفرنس میںتفصیلی غور کے بعد ایک متفقہ اعلامیہ جاری ہواجس میں اس کانفرنس میںشریک تمام سیاسی قائدین اورملک کی عسکری قیادت نے طالبان سے مذاکرات کرنے پراتفاق کا اظہارکیا۔اس اعلامیہ کے مطابق امن کوموقع دینے کیلئے قبائلی علاقوںمیںاپنے لوگوںسے مذاکرات اوران امن مذاکرات کے دوران مقامی روایات،ثقافت اورطورطریقوںکے علاوہ مذہبی عقائدکوملحوظ خاطررکھنے کافیصلہ کیاگیاکہ حکومت پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طریقہ کاراوروسائل کافیصلہ خودکرے گی اورا مریکہ سمیت کسی بھی ملک سے اس ضمن میںڈکٹیشن نہیںلی جائے گی۔ ایک دہائی سے جاری تباہی وبربادی کے خاتمہ کی جانب عملی پیش رفت کاآغازہوا تھا۔عوام میںان توقعات اورامیدوںکے ساتھ ملک کے دانشوراورتجزیہ کارمتوقع مذاکرات کیلئے ٹائم فریم،مذاکرات کاروں،مقام اورطریقہ کارکے بارے میںاپنے اپنے اندازے اورتجزئیے پیش کر رہے تھے کہ اس دوران مذاکرات کے ضمن میںطالبان کی جانب سے مطالبات کی ایک مبینہ فہرست بھی ذرائع ابلاغ میںسامنے آگئی۔ محض پانچ روزہی گزرے تھے کہ اتوارکے روزتحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسودکی صدارت میںتحریک طالبان کی مرکزی شوری کایہ اعلان سامنے آیاکہ اگرحکومت پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات میںمخلص ہونے کے ساتھ حکومتی سطح پربااختیارہے تووہ اپنے اس اخلاص اوراختیارکے ثبوت دیتے ہوئے قبائلی علاقوںسے فوج کوواپس بلالے اورطالبان قیدیوںکورہاکردے ۔ طالبان شوری کے اس اعلان کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اس دوران شمالی وزیرستان ،بنوںاور اپردیرکے علاقوںمیںعسکری حکام اوراہلکاروں پرپے درپے حملوںکی خبریںسامنے آگئیں اور اس دوران ضلع اپردیر میں لرزہ خیز واقعہ بھی پیش آگیا ، جس نے پوری قوم کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ ملاکنڈڈویژن میںتعینات پاک فوج کے جنرل آفیسرکمانڈنگ میجرجنرل ثناء اللہ نیازی کے قافلے کو پاک افغان سرحد پر فوج کی صابرپوسٹ کامعائنہ سے مینگورہ واپسی پر اس وقت ریموٹ کنٹرول بم حملہ کانشانہ بنایاگیا ہے جب ملک میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کاملک کی پوری قیادت نے مل کر آغاز کیا ہے۔حالیہ دنوں میں اس حملے میںمیجرجنرل ثناء اللہ ،لیفٹیننٹ کرنل توصیف اورلانس نائیک عرفان ستار کی شہادت اتنابڑا سانحہ ہے جس نے قیام امن کیلئے مذاکرات کے امکانات پرخدشات کے سائے ڈال دئیے ہیں۔میجرجنرل ثناء اللہ نیازی پرحملہ کے اس واقعہ کوپاک فوج کے افسروںاورجوانوںپر اب تک ہونے والے حملوںمیںسب سے مذموم کاروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نے کہاکہ پاک فوج عوام کی امنگوںکے مطابق ہرقیمت پردہشت گردی کے خلاف جنگ لڑے گی دہشت گردوںکواپناایجنڈا تھوپنے نہیںدیںگے۔ امن کے عمل کوموقع ضروردیناچاہیے، دہشت گردوںکوموقع سے فائدہ نہیںاٹھانے دیںگے، کسی کویہ گمان نہیںہوناچاہیے کہ ہم دہشت گردوںکی شرائط مانیںگے۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ داروںکوہرقیمت پرکٹہرے میںلایاجائے گا۔پاک فوج سیاسی عمل کی حمایت کرتی ہے۔ جنرل کیانی نے میجرجنرل ثناء اللہ کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم اپنے بہادرفوجیوںکوسلام پیش کرتے ہیںاورفوجی افسران کوشہیدکرنے والوںکوہرقیمت پرانصاف کے کٹہرے میںلایاجائے گا۔9ستمبرکومنعقدہ آل پارٹیزکانفرنس کے فیصلوںسے لے کر15ستمبرکوطالبان شوری کے اجلاس اورشمالی وزیرستان ،بنوںاور دیرکے واقعات کاباریک بینی سے جائزہ لیاجائے تویہ بات سامنے آتی ہے کہ مذاکرات کے ذریعہ امن کوموقع دینے کے اعلان کے ساتھ ہی مذاکرات کوسبوتاژکرنے والی قوتیںسرگرم عمل ہوچکی ہیں ۔یہ امربھی غورطلب ہے کہ ضلع اپردیرکاواقعہ اس علاقہ میںرونماہواجومولانافضل اللہ کی تحریک طالبان کے زیراثرہے اوریہ بات کوئی راز نہیںکہ مولانافضل اللہ کہاںقیام پذیرہیں۔
وفاقی اورچاروںصوبوںکی حکومتوں،ملک کی سرکردہ سیاسی جماعتوںکے سربراہان اورعسکری قیادت پرمشتمل آل پارٹیزکانفرنس میںملک میںامن کے قیام کیلئے طالبان سے مذاکرات کے متفقہ فیصلہ اوراس پرتحریک طالبان کے خیرمقدم پرملک بھرمیںاطمینان کااظہارکرتے ہوئے ان توقعات کااظہارکیاگیا تھاکہ حالات ایک واضح سمت کی جانب بڑھنے لگے تھے۔ لیکن حکومت کی جانب سے مذاکرات کے ا علان اوراس کے خیرمقدم کے بعدتحریک طالبان نے فریقین کے مابین اعتمادسازی کیلئے مطالبات کی منظوری کے بغیر مذاکرات کو محض وقت کاضیاع قرار دے کر ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ۔ کانفرنس میں مذاکرات کے فیصلہ کے فورابعدتحریک طالبان پاکستان نے اے پی سی کے اعلامیہ کاخیرمقدم کیا تھا تاہم بعد میں میڈیا میں اس سلسلہ میںجس طرح بعض مطالبات کو اہمیت دی گئی اس سے فریقین کے مابین اعتماد سازی کی بجائے بد اعتمادی کی فضا نے جنم لیا ہے۔