عمران خان کو تحریک انصاف کا ’’بااختیار چیئرمین‘‘ بنانے کا فیصلہ، عہدیدار تبدیل کر سکیں گے

عمران خان کو تحریک انصاف کا ’’بااختیار چیئرمین‘‘ بنانے کا فیصلہ، عہدیدار تبدیل کر سکیں گے

لاہور (معین اظہر سے) تحریک انصاف کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے پارٹی کے چیئرمین عمران خان کو مکمل بااختیار بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وہ پارٹی کے منتخب عہدیداروں کو تبدیل کرسکیں گے اور کسی کو بھی ڈسپلن، پارٹی مفاد کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکال سکیں گے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک کے پارٹی عہدہ چھوڑنے پر رضامندی کے بعد چیئرمین عمران خان کو اختیار مل جائیگا کہ وہ کسی کو بھی بطور سیکرٹری جنرل نامزد گی کریں گے جبکہ خیبر پی کے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے ذرائع کے مطابق وہ عہدہ چھوڑ دیں گے جبکہ تحریک انصاف کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں نامزدگیوں پر بھی اختلافات سامنے آگئے ہیں کیونکہ 147 رکنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں 47 منتخب عہدیدار ہیںجبکہ 30 نامزدگیاں کی گئی ہیں۔ تحریک انصاف کے کئی عہدیداروں سے بات کی گئی، انہوں نے فردِ واحد کو پارٹی کے منتخب عہدیداروں کو تبدیل کرنے کا اختیار دینے کی مخالفت کردی ہے۔ تحریک انصاف کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 21 اور 22 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا جس میں پارٹی میں دو واضح گروپ بن گئے ہیں۔ ایک گروپ جو طاقتور ہے جو پاکستان کی سیاست میں سٹیٹس کو کا حامی ہے اور چیئرمین کے ذریعے اپنی پسند کے فیصلے کروانا چاہتا ہے جبکہ دوسرا گروپ تحریک انصاف کا انقلابی گروپ ہے جو ملک میں سیاسی رویوں میں تبدیلی کا خواہشمند ہے۔ واضح رہے پارٹی کے آئین کی تشکیل کے وقت چیئرمین عمران خان نے عہدیدار تبدیل کرنے کا اختیار لینے سے خود انکار کردیا تھا کہ اگر پارٹی میری بات نہیں مانے کی تومیں عہدے سے استعفیٰ دے دونگا تاہم اب عمران خان کو طاقتور گروپ نے تیار کرلیا ہے کہ وہ پارٹی کے عہدے دار تبدیل کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھیں۔ اس حوالے سے ایک ڈسپلن کمیٹی بنائی جائیگی جس کی سفارشات پر چیئرمین کو کسی عہدیدار کو تبدیل کرنے کا اختیار دیدیا جائیگا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پارٹی کا دو روزہ اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے تاہم اس کیلئے سیکرٹری جنرل کیلئے پارٹی کیلئے الیکشن میں ہاری ہوئی ایک سیاسی شخصیت نے پاور گروپ سے رابطے تیز کردئیے ہیں تاکہ وہ سیکرٹری جنرل بن سکیں۔