رانا فقیر مشرف حملہ کیس سے بری رہا ہونے سے انکار، سکیورٹی مانگ لی

راولپنڈی (نوائے وقت نیوز+ بی بی سی) راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2003ء میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار شخص کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔ ادھر رہا ہونے والے شخص رانا فقیر حسین نے جیل سے باہر آنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے انہیں خدشہ ہے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار انہیں مار دیں گے۔ عدالت کا کہنا تھا استغاثہ اور سرکاری گواہان وقوعہ کے وقت رانا فقیر کی جائے حادثہ پر موجودگی ثابت نہیں کر سکے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا استغاثہ یہ بھی ثابت نہیں کرسکا سابق صدر کے پروٹوکول کی جن گاڑیوں پر حملہ ہوا اس میں صدر پرویز مشرف موجود بھی تھے یا نہیں۔ ملزم کے وکیل انعام رحیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو گزشتہ آٹھ سال سے حراست میں رکھا ہوا ہے اور اس عرصے کے دوران ایسا ایک بھی گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جو یہ ثابت کرسکے کہ ان کا موکل راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں اس جگہ موجود تھا جہاں اس وقت کے آرمی چیف اور صدر پرویز مشرف کی گاڑیوں پر خودکش حملے کئے گئے تھے۔ اس مقدمے میں رانا فقیر کے خاندان کے 13 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں تین ماہ کا بچہ بھی شامل تھا جسے چار سال تک اٹک قلعے میں رکھا گیا تھا۔ رانا فقیر کے وکیل انعام الرحیم نے بی بی سی کو بتایا ان کے موکل نے جیل سے باہر آنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے جیل سے باہر آنے کے بعد خفیہ اداروں کے اہلکار انہیں اٹھا کر لے جائیں گے اور مار دیں گے۔ رانا فقیر کے وکیل نے اپنے موکل کی حفاظت کے لیے راولپنڈی کی انتظامیہ کو درخواست دی ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اس درخواست پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پرویز مشرف حملہ کیس میں اب صرف ایک ملزم گرفتار ہے جس کا نام رانا نوید ہے اور وہ رانا فقیر کا بیٹا ہے۔ فوجی عدالت نے اس مقدمے میں رانا نوید کو پہلے عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بعدازاں سزائے موت میں تبدیل کردیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے فوجی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رانا نوید کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔