تباہ حال معیشت‘ سخت فیصلے‘ عام آدمی ناراض

تباہ حال معیشت‘ سخت فیصلے‘ عام آدمی ناراض

 پاکستان مسلم لیگ(ن) حکومت کے 100 ایام مکمل ہونے پر ’’ ہنی مون پیریڈ ‘‘ ختم ہو گیا ہے ’’ سیاسی بیٹھکوں ‘‘میں حکومت کی کارکردگی موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے سیاسی حلقوں میں حکومت کی کاردگی کے بارے میں ملی جلی رائے کا اظہار کیا جارہا ہے اگرچہ پلڈیٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پہلے 100 کی کارکردگی کے حوالے سے سروے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق چاروں صوبوں کے 62فیصد لوگوں نے وفاقی حکومت کی کار کردگی کو اطمینان بخش قرار دیا ہے  تاہم 32فیصد لوگوں نے موجودہ حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے۔ مجموعی طور پر کارکردگی کی ریٹنگ 30فیصد بنتی ہے پنجاب حکومت کی ریٹنگ 56فیصد اور بلوچستان حکومت کی 22فیصد بنتی ہے خیبر پختونخوا کی ریٹنگ منفی 4اور سندھ حکومت کی ریٹنگ منفی12 فیصدہے۔ صوبوں میں اچھی کارکردگی کے حوالے سے حکومت پنجاب کی مجموعی کارکردگی73 فیصد ہے جب کہ سندھ میں صوبائی حکومت کی ٍٍٍ مجموعی کارکردگی سب سے کم یعنی منفی2 فیصد رہی۔ مقبولیت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سب سے آگے ہیں ہیں جن کو بطور بہترین وزیر اعلیٰ کارکردگی پر 59فیصد ووٹ ملے ہیں۔ پلڈیٹ کے سروے کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تاہم زمینی حقائق مختلف ہیں آصف علی زرداری کے دور حکومت کے ستائے ہوئے عوام نے میاں نواز شریف کے’’ شیر ‘‘ کواتنے ووٹ دے دئیے کہ اسے حکومت سازی میں کسی کا سہارا لینے کی ضرورت پیش نہ آئی لیکن تباہ حال ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کئے گئے سخت فیصلوں نے عام آدمی کو ناراض کر دیا ہے۔ ائر کنڈیشنڈ کمروں میںبیٹھ کر سخت فیصلے کرنے والے وزراء اور بیورو کریٹس نے بجلی اور پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے جہاں عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔ بجلی کے بلوں میں اضافہ نے گھر گھرمیں صف ماتم بچھا دی ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں موجودہ حکومت کو بہت سے مسائل ورثے میں ملے ہیں ۔ موجودہ حکومت مسائل کے حل کیلئے پر عزم ہونے کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحقٰ ڈار نے اپنی اعلان کردہ تاریخ سے قبل آئی پی پیز کو 500ارب روپے کے جار ی قرض کی ادائیگی کرکے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کسی حد تک کمی کر دی ہے لیکن کوئی حکومتی عہدیدار بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمہ کے بارے میں حتمی تاریخ دینے کے لئے تیار نہیں۔موجودہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کے تمام قرض کی ادائیگی پر پارلیمنٹ میں بار بار یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ حکومت بتائے اس نے سٹیٹ بنک سے کتنا قرض لیا ہے اور کتنے نئے نوٹ چھاپے ہیں؟ حکومت کی طرف سے کوئی جواب دینے کے لئے تیار نہیں۔ اب وفاقی حکومت نے عام صارفین کو 24روپے فی یونٹ پیدا ہونے والی بجلی 5روپے فی یونٹ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ 300یونٹ سے زائد بجلی کے استعمال پر 12 روپے فی یونٹ بجلی کے نرخ مقرر کر دیئے ہیں۔ عام صارف بجلی کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے، جس کی چیخ و پکار سننے والا کوئی نہیں۔ اسی طرح گیس کی قیمت میں اضافہ تو نہیں کیا گیا لیکن ہر صارف سے سیکیورٹی کے نام پر اقساط میں بھتہ کی وصولی شروع کردی گئی ہے ۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پورا ملک ’’مہنگائی کے سونامی ‘‘کی لپیٹ میں ہے۔ میاں نوازشریف نے سالہاسا ل کے وقفے کے بعد لوگوں کے دلوں میں مقام پیدا کیا ہے لیکن ان کی اقتصادی ٹیم ان کو لوگوں کے دلوں سے نکالنے کے سخت فیصلے کرنے پر تلی ہوئی ہے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے برسر اقتدار آنے کے بعد اپنے مخلس کارکنوں کو ہی فراموش کردیا ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کو اپنی’’ تنہائی‘‘ کا غم کھائے جارہا ہے وہ مختلف دروازوں پر دستک دے رہے ہیں لیکن کسی کے پاس ان کے لئے وقت نہیں سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے شیرازی برداران کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے لیکن کوئی ان کی فریاد سننے کے لئے تیار نہیں سندھ کے بہادر سیاست دان سید غوث علی شاہ سندھ مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے مستعفی ہو گئے ہیں لیکن ابتلا کے دور میں میاں نواز شریف کے ساتھ جراء ت و استقامت سے کھڑا رہنے والے کو کوئی منانے کے لئے تیار نہیں بلکہ ان کی جگہ لینے کے کئی نووارد سرگرم عمل ہو گئے ہیں سید غوث علی شاہ کو پارٹی کے لئے بوجھ تصور کیا جانے لگا ہے گذشتہ سال پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو کی گئی تھی لیکن عام انتخابات کی وجہ سے تمام عہدوں پر نامزدگیوں کا عمل روک دیا گیا اب حکومت قائم ہوئے 100دن بھی گذر گئے ہیں مسلم لیگ(ن) کی تنظیم نو کا کام مکمل کیا گیا ہے اور نہ ہی حکومت پر مسلم لیگ (ن) کی کوئی گرفت نظر آتی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کا کروڑوںروپے کی لاگت سے قائم کردہ’’ میڈیا ہائوس ‘‘ ویران پڑا ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کار سرکار میں اس حد تک مصروف ہیں کہ ان کے پاس پارٹی امور کے لئے بہت کم وقت ہے ۔ قومی اسمبلی کا پانچواں سیشن شروع ہو گیا ہے لیکن چونکہ وزیر اعظم ایوان میں کم کم آتے ہیں اس لئے حکومتی ارکان کے لئے ایوان میں کشش ختم ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کمیٹیوں کے چیئرمینوں کا انتخاب عمل میں آیا ہے اور نہ ہی پارلیمانی سیکریٹریوں کی تقری کی گئی ہے۔ قانون سازی نہ ہونے کے برابر ہے پچھلے 100ایام میں صرف مالیاتی بل منظور کیا جا سکا ہے ۔آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی وعسکری قیادت نے جو پیش رفت کی تھی اپر دیر کے واقعہ میں مخالف عناصر نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژکرنے کی کوشش کی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔