امیر اور غریب کے درمیان فرق مزید بڑھنے لگا

امیر  اور غریب کے درمیان فرق مزید بڑھنے لگا

پاکستان کو دہشت گردی‘ انتہا پسندی‘ عدم روا داری جیسے مسائل درپیش ہیں‘ بم دھماکے ہو رہے ہیں‘ لوگ ناحق مر رہے ہیں اور تو اور اب فوج کے اعلیٰ ترین افسران کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی توجہ لامحالہ ان عفریتوں سے ملک کو چھٹکارا دلانے کی طرف ہے۔ دوسرا اہم ترین مسئلہ توانائی کا بحران ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی ٹیم اس بحران سے نمٹنے کے لئے دن رات کام کر رہی ہے مگر اس بحران کا فوری خاتمہ ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔ لہذا عوام کو کسی قدر ریلیف دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں قدرے کمی آئی ہے لیکن گیس کا بحران جاری ہے۔ ہفتے میں تین چار دن سی این جی کی بندش نے سفید پوشوں کو پٹرول بم کا شکار کر دیا ہے۔ پٹرول پاکستان کی تاریخ میں مہنگی ترین قیمت 110 روپے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا ہے۔ اس تمام صورت حال میں امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پہلے 100 دن میں یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی معیشت کو درست سمت میں ڈال رہے ہیں اور اس سے عام آدمی کو کچھ اطمینان مل سکے گا۔ حکومت کے زیر کنٹرول بجلی‘ پٹرول کی قیمتوں میں آئے روز اضافے نے حکومت کی نیک نامی کو نقصان پہنچایا ہے۔
البتہ وزیراعظم نواز شریف کے پارلیمنٹ کے لیڈرں کو ساتھ لیکر چلنے کے فیصلے نے متفقہ قومی پالیسی کی تشکیل کی راہ ہموار کر دی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ ن خوش قسمت ہیں کہ اس وقت ان کی کوئی اپوزیشن نہیں۔ موجودہ اپوزیشن حکومت کو مسائل حل کرنے کے لئے وقت دے رہی ہے۔ فوجی مداخلت کا رجحان ختم ہو چکا ہے۔ اب میاں صاحب پر منحصر ہے کہ وہ افہام و تفہیم سے معاملات سلجھانے میں کس قدر کامیاب ہوتے ہیں۔ ہماری یہ رائے ہے کہ نوازشریف حکومت کو عام آدمی کو فوری ریلیف دینے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ صوبہ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت بھی اپنی پالیسیوں کا فوکس ’’عام آدمی کی بہتری‘‘ کو کرے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صوبے کے مسائل حل کرنے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ ان کو رانا ثناء اللہ خاں جیسے زیرک راجہ اشفاق سرور جیسے تجربہ کار وزراء کی معاونت حاصل ہے۔ نوجوان وزراء مجتبیٰ شجاع‘ میاں یاور زمان ان کے دست و بازو ہیں جبکہ کام کرنا اور کام لینا شہباز شریف کو خوب آتا ہے۔ انہوں نے اپنے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی میاں حمزہ شہباز کو صوبے کے مسائل حل کرنے اور اللہ سے ڈرتے رہنے کا جو سبق دیا ہے حمزہ شہباز نے ازبر کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کا اپنے لوگوں کو حکومت میں حصہ دار بنانے کا فیصلہ درست سمت میں قدم ہے۔ انہوں نے حمزہ شہباز کی سربراہی میں مہر اشتیاق احمد ایم این اے‘ سعود مجید سابق ایم این اے‘ خواجہ احمد حسان اور منشاء اللہ بٹ پر ’’پبلک ویلفیئریونٹ‘‘ کی صورت میں جو ٹیم تشکیل مشتمل ہے اب اس کا امتحان ہے کہ وہ ثابت کرے کہ سیاستدان اپنے اختیارات کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان میں اپنی ٹیم کو چلانے کی صلاحیت موجود ہے۔ سیاسی کاموں میں بیورو کریسی کی مدد لینے کی روایت ختم کرنا ہمارے نقطہ نظر سے احسن اقدام ہے تاہم جہاں اچھے لوگوں سے کام لیا جا رہا ہے وہاں پنجاب کے ایک تجربہ کار اور پڑھے لکھے شخص میاں عطا محمد مانیکا کو بیت المال جیسی وزرات دے کر کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔وفاقی و صوبائی کابینہ میں اضافہ‘ وفاقی و صوبائی پارلیمانی سیکرٹریوں کا تقرر‘ سٹینڈنگ کمیٹیوں‘ سلیکٹ کمیٹیوں‘ خصوصی کمیٹیوں کی تشکیل کے معاملات بھی تاحال مؤخر چلے آرہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر کارکنوں کی جو فوج ظفر موج پچھلے دور حکومت میں وزیراعلیٰ کے ’’معاون‘‘ کی حیثیت سے سیاسی اور سماجی محاذ پر موثر کام کرتی رہی وہ ابھی تک شتر بے مہار کی طرح پھر رہی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ان کو بھی حکومت میں حصہ دار بنایا جائے۔  جہاں تک لاہور میں سیاست کا تعلق ہے اس پر اوس پڑی لگتی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی پالیسی پر کاربند ہو چکی ہے اور اب صدر پنجاب میاں منظور وٹو‘ جنرل سیکرٹری لاہور رانا اشعر کے بھی نرم نرم بیانات سامنے آرہے ہیں۔ جبکہ جنرل سیکرٹری پنجاب تنویر اشرف کائرہ اور صدر لاہور ثمینہ گھرکی خاموشی سے وقت گزار رہی ہیں۔ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یاسمین راشد اگرچہ خاصے فعال ہیں لیکن ان کے صدر لاہور عبدالعلیم خان سیاسی گوشہ نشینی اختیار کر چکے ہیں۔ جنرل سیکرٹری لاہور عبدالرشید بھٹی پارٹی چھوڑ گئے ہیں اور جنرل سیکرٹری کے خالی عہدے پر تین ماہ گزر جانے کے باوجود الیکشن نہیں کروایا جاسکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نسبتاً فعال ہے۔ صدر لاہور پرویز ملک ایم این اے‘ جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر خاصے متحرک میں تاہم پارٹی پلیٹ فارم پر ان کی سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) لاہور کا دفتر پرویز ملک کی سابقہ رہائش گاہ پر اب بھی موجود ہے جہاں امجد سیال‘ زریں خان اور گڈو شاہ بوقت ضرورت اجلاس بھی بلا لیتے ہیں اور دفتر میں آنے والے اکا دکا کارکنوں کیلئے چائے پانی کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ صوبائی دفتر مسلم ٹاؤن آج اپنے صوبائی وزراء کی راہ تک رہا ہے کہ وہاں بیٹھ کر وہ عوام کے مسائل حل کئے جائیں ،ورنہ اسمبلی کے ارکان ہوں یا عام آدمی یہ سب اپنے مسائل کے حل کے لئے دفتر وزیراعلیٰ 8 کلب روڈ ہی کا رخ کریں گے جہاں ’’پبلک ویلفیئر یونٹ‘‘ والے بیٹھے ہوئے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے لاہور میں یونین کونسل کی سطح تک عہدیداران موجود ہیں اور اس میں بھی دو رائے نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے ہر گلی محلے میں سپورٹر ہیں لیکن مہنگائی میں اضافے اور سرکاری دفاتر میں نذرانوں‘ تھانوں میں رشوت ‘ اور سفارش کا کلچر عوام کی بددلی کا سب بن رہاہے ۔ لوگ پچھلے دور حکومت سے موجودہ دور میں فرق دیکھنا چاہتے ہیں عام آدمی چاہتا ہے کہ ان کے جائز کام بغیر کسی سفارش یا رشوت کے بآسانی ہو جائیں مگر یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہواہے سو قدم قدم پر مشکلات ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے حکمران جماعت کو اپنے کارکنوں کو بالکل اس طرح استعمال کرنا چاہئے جیسے ڈینگی کے خلاف جنگ میں استعمال کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کوبھی چاہئے کہ اپنے کارکنوں کو نہ صرف سیاسی محاذ پر فعال کریں بلکہ سماجی محاذ پر بھی انہیں ڈینگی کا ثبوت دینا چاہئے تاکہ حکومت پر دبائو بڑھایا جا سکے۔