افغان فورسز کی پاکستانی علاقے میں گھس کر فائرنگ 6 جاں بحق‘ افغان ناظم الامور کی طلبی‘ شدید احتجاج

افغان فورسز کی پاکستانی علاقے میں گھس کر فائرنگ 6 جاں بحق‘  افغان ناظم الامور کی طلبی‘ شدید  احتجاج

کوئٹہ (بیورو رپورٹ) پاکستان افغان سرحدی علاقے قمر الدین کاریز میں افغان فورسز نے پاکستانی علاقے میں داخل ہو کر اشتعال انگیز فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 6 پاکستانی شہری جاںبحق جبکہ ایک خاتون سمیت 20 زخمی ہوگئے۔ قمر الدین کاریز کلی ڈگر میں افغان فورسز نے پاکستانی علاقے میں داخل ہو کر کھیتوں میں کام کرنیوالے نہتے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 6 افراد فتح، نور اللہ، ظاہر شاہ، محمد حلیم، میر داود اور مولانا فقیر جاں بحق اور خاتون سمیت 20 افراد زخمی ہوئے، زخمی ہونیوالوں میں 2 لیویز اہلکار شامل ہیں واقعہ کے بعد افغان فورسز کے اہلکار واپس افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مقامی انتظامیہ نے نعشوں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچا دیا جہاں نعشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئیں۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے، واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون اس کے 2 بھائی اور ایک لیویز اہلکار شامل ہیں، زخمیوں کو قریب ترین ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے افسروں کے مطابق فائرنگ کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں تاہم انہوں نے کہا کہ افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بلااشتعال فائرنگ کی۔ اے این این کے مطابق افغان فوجی پاکستانی حدود میں گھس آئے۔ دو سے تین گاڑیوں میں سوار حملہ آور کارروائی کرنے کے بعد واپس فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، واقعہ کے بعد سرحدی علاقے کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق افغان فوجی دو سے تین گاڑیوں میں سوار ہو کر بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے قمردین کاریز میں گھس آئے اور بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی۔  ایک سرکاری عہدیدار نے واقعہ میں چھ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آور کارروائی کر کے سرحد پار چلے گئے تاہم آزاد ذرائع کے مطابق افغان فوجیوں کی فائرنگ سے ایک لیویز اہلکار اور ایک خاتون سمیت 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں بھی متعدد لیویز اہلکار شامل ہیں۔ واقعہ کے بعد فوری طور پر مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں اور زخمیوں کو پرائیویٹ گاڑیوں میں قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ضلعی انتظامی افسر نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی حدود کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سرحدی علاقے کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، گشت کا عمل بڑھا دیا گیا۔ واضح رہے کہ پاک افغان سرحدی علاقہ ژوب شہر سے 350 سے 400 کلو میٹر دور ہے۔ افغان فورسز کی جانب سے اس سے قبل بھی پاکستانی علاقے میں مارٹر حملے اور بلااشتعال فائرنگ کی جاتی رہی، مئی میں پاکستان نے افغان حکومت سے چیک پوسٹ پر فائرنگ پر احتجاج کیا تھا، جون 2010ء میں بھی افغان فورسز نے پاکستانی حدود میں قائم چوکی پر فائرنگ کر کے 3 اہلکاروں کو شہید کر دیا تھا جس پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا تھا، نارائی میں 11 نومبر 2012ء کو افغان فورسز کی فائرنگ سے 2 بچوں سمیت 4 افراد جاںبحق ہو گئے تھے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ افغان فورسز کی جانب سے ایک ایسے وقت پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کی گئی ہے جب بھارتی فوج کی جانب سے آئے روز کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ زخمیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کچھ افراد کو اغوا کر کے بھی لے گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ واضح رہے افغان فورسز کی فائرنگ کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ بی بی سی کے مطابق یہ افراد پاکستان افغان سرحد پر افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپ کے دوران مارے گئے۔ ڈی سی او ژوب نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ ضلع ژوب کے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے قمرالدین کاریز کے علاقے میں پیش آیا۔ جاںبحق ہونے والے افراد طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے دوران کھیتوں میں کام رہے تھے۔ ضلعی افسر کے مطابق جاںبحق ہونے والوں میں چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں طالبان بھی مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے افغان پولیس کی جانب سے سرحد پر فائرنگ سے 6 افراد کی شہادت کا نوٹس لیتے ہوئے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا اور افغان حکومت سے اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان سفارتخانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، پاکستان نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کرے اور سرحد پر تعاون اور کوآرڈینیشن کو بہتر بنایا جائے، ایسے واقعات سے بچا جائے، جس سے دونوں ممالک میں دوستانہ تعلقات اور خیر سگالی کے جذبات متاثر ہوں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے پاک افغان سرحد پر فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ افغان فورسز کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی، درانتدازی اور پاکستانی شہریوں کا قتل قابل مذمت ہے۔