غریب کا چولہا بھی نہیں جلتا : 18 ویں ترمیم کے بعد گیس قیمتوں کا ای سی سی سے تعین غیر آئینی ہے : جسٹس افتخار

غریب کا چولہا بھی نہیں جلتا : 18 ویں ترمیم کے بعد گیس قیمتوں کا ای سی سی سے تعین غیر آئینی ہے : جسٹس افتخار

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+نوائے وقت نیوز) چیف جسٹس نے سی این جی اور پٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں مسلسل اضافے سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد گیس قیمتوں کا ای سی سی کے ذریعے تعین غیر آئینی ہے وہ کیسے قیمتوں کا تعین کر سکتی ہے۔ آئے روز قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں کے تعین کے معاملات مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ گیس و پٹرولیم کمپنیاں یا حکومت منافع ضرور کمائیں مگر یہ جائز ہونا چاہئے ناجائز منافع نہیں لیا جانا چاہئے۔ عدالت نے وزارت پٹرولیم سے سی این جی، ایل این جی اور پٹرول کی قیمتوں کے تعین کا فارمولا، قیمتوں کا بریک اپ کہ اس کی اصل قیمت کیا ہے، اخراجات کتنے ہیں، ٹیکس کتنے اور کون کون سے ہےں۔ پٹرول اورگیس سے متعلق حکومت اور سپلائزر کے درمیان اب تک کئے گئے معاہدوں کی نقول طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وضاحت کی جائے گیس کو پٹرول کی قیمتوں سے منسلک کرنے کی وجوہات کیا ہیں، ہفتہ وار تعین کا فارمولا کیوں اپنایا گیا۔ کیا ای سی سی کو قیمتوں کے تعین کا اختیار تھا۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی تو چیئرمین اوگرا اور سیکرٹری وزارت پٹرولیم وقار مسعود پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ گیس تو ملک میں پیدا ہوتی ہے پھر اس کی قیمتیں اتنی زیادہ کیوں ہیں ان میں دن بدن اضافہ کیوں ہو رہا ہے یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ رانا بھگوان داس کمشن کی رپورٹ کے مطابق گیس کی پیداواری لاگت 17 روپے فی کلو ہے جبکہ100 روپے فی کلو کے حساب سے صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔ وقار مسعود نے بتایا بھگوان داس رپورٹ پر عمل کرنے کا حکومت نے کوئی حکم نہیں دیا اور ای سی سی نے فارمولا طے کیا ہے ریگولیٹر اوگرا ہے، پالیسی گائیڈ لائن حکومت دیتی ہے۔ حکومت کی پالیسی کے تحت سی این جی کی قیمتوں کو پٹرول کی قیمتوں سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پٹرول اور گیس دونوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے مگر پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جس سے یہ فرق آ رہا ہے اور قیمتوں میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ قیمتوں کے تعین کا ہفتہ وار فارمولا اپنانے سے صارفین کو فائدہ ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا موٹروالا تو شاید برداشت کر لے مگر گھریلو صارف کو نقصان ہو رہا ہے کیونکہ وہ غریب ہے جس کا چولہا بھی نہیں جلتا۔ آپ گھریلو صارفین کو فراہم کردہ گیس کی قیمتوں کے تعین کے بارے میں بتائیں اور یہ بھی بتائیں گیس چوری (لائن لاسز‘ کا بوجھ عام صاف پر کیوں ڈالا جاتا ہے۔ وقار مسعود نے بتایا کہ گھریلو صارف کو سبسڈی کے ساتھ گیس 390 روپے ایم ایم ایف کی قیمت پر فراہم کی جاتی ہے۔ گھریلو سیکٹر کو 46 ارب روپے سبسڈی دی جا رہی ہے۔ گھریلو استعمال کی گیس قیمتوں کا تعین ہر چھ ماہ بعد کیا جاتا ہے۔ وقار مسعود نے بتایا کہ گیس اور پٹرول سے متعلق بین الاقوامی کمپنیوں سے معاہدے کئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو 1950 کے ہیں۔ عدالت نے کہا ان کی نقول پیش کی جائیں۔ یہ بھی بتایا جائے کہ سی این جی اور گھریلو استعمال کی گیس دونوں مقامی طور پر پیدا ہوتی ہیں پھر ان کی قیمتوں میں اتنا فرق کیوں ہے۔ جسٹس خواجہ نے کہا پٹرول تو 85 فیصد درآمد ہوتا ہے گیس مقامی پیداوار ہے پھر دونوں کی قیمتوں کو منسلک کیوں کیا گیا۔ پالیسی کا جواز کیا ہے۔ وقار مسعود نے کہا کہ غریب آدمی کا حکومت میں بیٹھے لوگوں کو اتنا ہی خیال ہے جتنا عدالت کو ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہر اتوار کو جب وہ ٹی وی پر قیمتوں میں اضافہ کی خبر سنتا ہے کہ چھ روپے مزید بڑھ گئی تو اس کا کیا حال ہوتا ہو گا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ غریب کی جیب سے نکلنے والی رقم آخر جاتی کہاں ہے یہ بھی تو بتایا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فائدہ تو مڈل مین اٹھاتا ہے وہ حکومت ہو یا کمپنی اور بھگتنا جھگی والے کو پڑتا ہے۔ پہلے اقرا سرچارج کے نام سے ٹیکس لگایا ہوا تھا اس مد میں آنے والی رقم سے کتنے تعلیمی ادارے کھولے گئے جب پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو عدالت نے غیر قانونی قرار دیا تو اسے ڈویلپمنٹ لیوی سے تبدیل کر دیا گیا اور اس کا آرڈیننس جاری کیا گیا مگر کیا اس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی اگر نہیں تو اس طرح یہ ٹیکس غیر آئینی طور پر وصول کیا جا رہا ہے۔ وقار مسعود نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں سال میں دو مرتبہ ردوبدل ہوتا ہے جبکہ سیانی جی کا جائزہ ٹرانسپورٹ کے ایندھن کے طور پر لیا جاتا ہے جو پٹرول کی قیمت سے لنک ہے۔ پچاس فیصد پٹرولیم مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں نرخ نہ بڑھائے جائیں تو بجٹ پر بھاری بوجھ پڑتا ہے۔ گیس کی قیمتوں پر چھیالیس ارب کی سبسڈی دی جا رہی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ گیس غریب آدمی کی ضرورت ہے اس سے گھریلو صارف متاثر ہو رہا ہے جس کے چولہے پر روٹی بھی کبھی کبھی پکتی ہے۔ عام صارف کمپنیوں اور تقسیم کاروں کے خسارے کا بوجھ کیوں برداشت کرے۔ دیوان گروپ کو اضافی نرخ دے کر قومی خزانے کو چھبیس ارب کا نقصان پہنچایا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق کو گرفتار کرنے کیلئے 24 اکتوبر تک کی مہلت دے دی ہے۔ توقیر صادق کیس سے نیب کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش کی گئی۔ نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ تفتیش میں مختلف ماہرین سے انٹرویو کئے۔ توقیر صادق نے گیس نقصانات کی شرح 5 سے بڑھا کر 7 فیصد کر دی۔ گیس کمپنیز نے یو ایف جی پر ہائیکورٹس سے 4 دسمبر تک حکم امتناعی لے رکھے ہیں۔ سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔