سپریم کورٹ نے سولہ سال بعد اصغرخان کیس کا مختصرفیصلہ سنادیا ۔

خبریں ماخذ  |  خصوصی رپورٹر
سپریم کورٹ نے سولہ سال بعد اصغرخان کیس کا  مختصرفیصلہ سنادیا ۔

چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اصغرخان کیس کی سماعت کے بعد مختصرفیصلہ سنایا۔ فیصلے میں عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈاسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے حلف سے روگردانی کی ہے اس لئے ان کےخلاف کارروائی کی جائے۔ سپریم کورٹ نےایف آئی اے کو بینک قرض فراہم کرنے والے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب اوران سیاستدانوں کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیاجنہوں نے رقوم وصول کیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ایوان صدر اور آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل ہے تو اسے بھی فوری بند کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ ایم آئی کے اکاؤنٹ میںپڑے آٹھ کروڑ روپے پراگرحبیب بنک کا حق نہیں بنتا تومنافع سمیت تمام رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائی جائے۔ سپریم کورٹ نے فیصلےمیں قرار دیا کہ انیس سو نوے کے انتخابات میں کرپشن ہوئی،ایوان صدر میں الیکشن سیل بنایا گیا اور ایک گروپ آئی جے آئی کی حمایت کی گئی۔ان انتخابات میں ایوان صدر کے الیکشن سیل نے اسلم بیگ اور اسد درانی کی مدد سے غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر سیاست میں مداخلت کی تاہم یہ افراد کا عمل تھا فوج یا ادارے کا نہیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کوئی الیکشن سیل قائم نہیں کر سکتے تھے۔صدر مملکت وفاق کی علامت ہوتا ہے وہ اپنے حلف کے تحت کسی ایک گروپ کی حمایت نہیں کر سکتا، عوام کا بنیادی حق ہے کہ انہیں شفاف،منصفانہ انتخابات کے ذریعے آزدانہ طورپرقیادت چننے کا موقع دیا جائے۔مختصرفیصلہ چیف جسٹس نے تحریر کیا جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔