جمہوریت کے بعد اگلا وار عدلیہ پر ہوتا ہے‘ الگ الگ جزیرے بنا کر نہیں رہنا چاہئے : وزیراعظم

جمہوریت کے بعد اگلا وار عدلیہ پر ہوتا ہے‘ الگ الگ جزیرے بنا کر نہیں رہنا چاہئے : وزیراعظم

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت / ایجنسیاں) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے اور عوام کی مجموعی دانش کی امین ہے۔ عدلیہ، فوج اور پارلیمنٹ کے درمیان عوامی رابطہ ہونا چاہئے، عدلیہ واحد ادارہ ہے جہاں سب کا سر جھکتا ہے اس کی عزت و وقار ہم سب پر لازم ہے۔ اس کی بحالی کے لئے ہم نے قربانیاں دیں تپتی دھوپ میں سپریم کورٹ کے باہر آمریت کا مقابلہ کیا ہم تو عدلیہ کی آزادی کم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہمارا سب کے لئے محبت اور مفاہمت کا پیغام ہے، ہر ادارے کی اپنی عزت اور تقدس ہے لہذا ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرے۔ سیاسی عدم استحکام اور ملک میں غیر یقینی کی صورتحال نے آمروں کو موقع فراہم کیا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ہر ادارے کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ملک کی بہتری کے لئے کردار ادا کرنا چاہئے اور اداروں کی مضبوطی سے ملک مضبوط ہو گا اور اداروں کے درمیان اطلاعات کے خلل کو دور کرنا ہو گا۔ ہر ادارہ قابل عزت ہے جمہوریت کو جڑ پکڑنے دی جائے تاکہ اس پودے کا پھل ہم کھا سکیں۔ اس کو مضبوط رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں اس کے اوپر کوئی بات برداشت نہیں کرنی چاہئے۔ جمہوریت پر تنقید سے پہلے آمریت کے نقصانات کا تجزیہ ضروری ہے۔ عوامی منشاءاور امنگوں کے طرز عمل کا نام ہی جمہوریت ہے جمہور کی امنگوں کے برخلاف نظام نقصان دہ ہے اور جمہوریت کی نشو و نما کے لئے آزاد میڈیا بھی ضروری ہے ایسے دور سے بھی ہم گزر چکے ہیں جب میڈیا کی زبان بندی ہوئی تھی لیکن اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں سال تجربے کے بعد دنیا نے حقیقی جمہوری نظام اپنایا جمہوریت اور آمریت کا کسی صورت میں موازنہ نہیں کیا جا سکتا، ہر چیز ارتقاء کے مرحلے سے گزر رہی ہے جس کے ثمرات ملک کے 20 کروڑ لوگوں کو ملیں گے، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے۔ فوج کا اپنا نظام ہے، پارلیمنٹ کا اپنا سسٹم ہے عدلیہ اپنے طریقے سے کام کرتی ہے۔ صدر ریاست پر تنقید سے قبل آمریت کے نقصان کا جائزہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت کرنا آسان ہے لیکن ہماری پارٹی کا پیغام محبت ہے، ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں عوام نے منتخب کیا ہے اقتدار کا مرکز عوام ہیں وہ جس کو چاہے منتخب کریں، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد نے بلوچستان کے حوالے سے بہت اچھے اقدامات کئے عدلیہ کا بھی اس مسئلے میں اہم کردار ہے ہم سب بلوچستان کے حل کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے ہمیں کھوکھلا کردیا ہے ہماری فوج اور جوانوں نے ملک سلامتی کے لئے بہت قربانیاں دیں ہیں ملالہ کو ایک خاص مائنڈ سیٹ نے نشانہ بنایا اور ہم سب نے اس مائنڈ سیٹ کا ملکر مقابلہ کریں گے اور ہم ضرور کامیاب ہوں گے ملالہ یوسفزئی کا کیا قصور تھا اس نے علم کی شمع جلانے کی خاطر آواز اٹھائی اس نے پاکستان کے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی بات کی ہمیں ملالہ کی سوچ کو قتل کرنیوالوں کیخلاف مل کر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت عدلیہ اور اداروں کی مضبوطی کے لئے تمام اداروں نے اپنا کردار ادا کیا ہے ہمیں الگ الگ جزیرے بنا کر نہیں رہنا چاہئے بلکہ ہمیں پاکستان کے لئے ملکر کام کرنا ہے۔ ہمارا کسی ادارے سے کوئی جھگڑا نہیں ہے کوئی نفرت یا کوئی ملال نہیں ہے عدلیہ کی آزادی کی خاطر ہم نے قربانیاں دی ہیں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم عدلیہ کے خلاف ہیں کسی ادارے پر تنقید ہو گی تو ملک کا نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کی مضبوطی سے متعلق سپریم کورٹ بار کا نقطہ نظر خوش آئند ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وکلاء کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت پرعزم ہے اس موقع پر انہوں نے سپریم کورٹ بار کو ساڑھے سات کرو ڑروپے کا چیک بھی دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر تعمیر کمپلیکس کے باقی ماندہ تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کا ہر ادارہ پاکستان ہے، عوامی مسائل کے حل کا جمہوریت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، نظام مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس پر حملہ نہ ہو اور جمہوری تسلسل برقرار رہے۔ اداروں کی مضبوطی اور استحکام، ملک کا استحکام ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ ہر ادارے کا تقدس ہے انہیں اپنے دائرہ میں رہ کر ملک کے لئے کام کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے جمہوریت بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کی ہے اسے کھونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب جمہوریت کی بساط لپیٹی جاتی ہے تو اگلا وار عدلیہ پر ہوتا ہے۔