جماعت اسلامی کے بغیر ایم ایم اے کی بحالی پر کوئی اعتراض نہیں: منور حسن

جماعت اسلامی کے بغیر ایم ایم اے کی بحالی پر کوئی اعتراض نہیں: منور حسن

اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں ) جماعت اسلامی کے امےر منور حسن نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کو بعض لوگ اپنی جیب کی گھڑی سمجھتے ہیں، جب چاہا بحال کر دیا جب چاہا بے حال کر دیا، جماعت اسلامی کے بغیر ایم ایم اے کی بحالی پرکوئی اعتراض نہیں، جماعت اسلامی کی اےم اےم اے سے سےٹ اےڈجسٹمنٹ کے بارے مےں کچھ نہےں کہا جا سکتا۔جمعرات کو اےم اےم اے کی بحالی پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ابھی کچھ نہےں کہا جا سکتا کہ اےم اےم اے کتنی مرتبہ مزےد ٹوٹے گی اور بحال ہوگیجنہوں نے ایم ایم اے بحال کی ہے وہی جماعت اسلامی کو اس سے باہر رکھنے کی وجوہات سے پردہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایم ایم اے کی بحالی کے لئے کوئی دعوت نہیں ملی۔ ایم ایم اے تو کئی مرتبہ بحال ہو چکی ہے اگر ایسا ہو گیا ہے تو اب حرف آخر کے بغیر اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحال اور بے بحال میں بہت فرق ہے ہمارا شروع سے ہی یہ مطالبہ رہا ہے کہ ایم ایم اے کو بحال کرنے سے پہلے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ اس کو بے حال کس نے کیا۔ سید منور حسن نے کہا کہ ایم ایم اے کے فیصلوں کی عدم پابندی کی وجہ سے یہ بے حال ہوئی اگر اس کا جائزہ نہیں لیا جائے گا تو پھر جس کی جب مرضی ہو گی اس کو بے حال کر دے گا۔ جب الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہو گا تو جو باتیں اس وقت میچور نہیں ہیں وہ میچور ہو نا شروع ہو جائیں گی۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کا اجلاس بلانے والوں اور ایم ایم اے بحال کرنے والوں کو یہ فیصلہ مبارک ہو‘ جماعت اسلامی کیلئے سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں ایڈجسٹمنٹ کے آپشن کھلے ہیں، دینی جماعتیں جماعت اسلامی کے بغیر انتخابات لڑنے کا شوق بھی پورا کر لیںجبکہ اہل سنت والجماعت پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں نے کہاہے کہ متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل کا نیا قیام بھی ماضی کی طرح بے سود رہے گا۔ پانچ سالہ دور اقتدار میں مذہب کے نام پر قائم کیے جانے والے ، سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل نے نے تو صوبہ خیبر پی کے میں امن قائم کیا نہ ہی فرقہ واریت کے خاتمہ کے لئے کوئی موثر اقدام اٹھایا۔ علاوہ ازیں ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے منور حسن نے کہا ہے کہ حکومت کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بارے میں سوچنے سے پہلے اس سے قبل ہونے والے آپریشنوں سے سبق سیکھ لینا چاہیے اگر سوات میں آپریشن سے کچھ حاصل ہوا ہے تو نتیجہ ملالہ پر حملہ کی صورت میں حاصل ہوا ہے۔ مشرقی پاکستان میں آپریشن سے بنگلہ دیش بنا۔ بلوچستان میں جاری آپریشن کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔