مشرف غداری کیس : خصوصی عدالت کیلئے نام آج طلب‘ پانچوں ہائیکورٹس سے ایک ایک نامزدگی آنے پر چیف جسٹس تین جج فائنل کرینگے

مشرف غداری کیس : خصوصی عدالت کیلئے نام آج طلب‘ پانچوں ہائیکورٹس سے ایک ایک نامزدگی آنے پر چیف جسٹس تین جج فائنل کرینگے

اسلام آباد (وقائع نگار) حکومت نے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کے حوالے سے خط سپریم کورٹ کو لکھ دیا ہے جس میں چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مقدمہ چلانے کے لئے خصوصی عدالت کے ججوں کے نام تجویز کریں۔ سیکرٹری قانون ظفر اللہ خان کی جانب سے ان کے دستخطوں سے رجسٹرار سپریم کورٹ کے حوالے پیر کو ایک خط کیا گیا ہے، خط حوالے کرنے سے قبل وزارت قانون کے ذمہ داران نے اٹارنی جنرل منیر اے ملک سے ملاقات کی جس کے بعد خط رجسٹرار کے حوالے کیا گیا۔ خط پر تاریخ 18 نومبر کی ہی ہے۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 1973ءکے سنگین غداری ایکٹ کے سیکشن 2 کے تحت پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مختلف جرائم میں مقدمہ چلانے کے لئے 1976ءکے ایکٹ کے سیکشن 4 کے تحت خصوصی عدالت کا قیام آئینی ضرورت ہے جو تین ججوں پر مشتمل ہونا ضروری ہے مگر اس وقت ملک میں پانچ ہائیکورٹس کام کر رہی ہیں اس لئے رجسٹرار چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے معاملے کو رکھے اور ان سے درخواست کرے کہ وہ ججوں کے نام تجویز کریں اور ان میں سے کسی ایک کو خصوصی بنچ کا سربراہ بھی مقرر کیا جائے۔ اس سلسلے میں جب سیکرٹری قانون سے رابطہ کر کے پوچھا گیا کہ آئین کے تحت خصوصی عدالت کا قیام حکومت نے عمل میں لانا ہے تو پھر چیف جسٹس سے کیوں درخواست کی گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالتوں کا قیام چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد ہی عمل میں لایا جا سکتا ہے اس لئے ان سے درخواست کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے 3 نومبر 2007ءکے اقدامات کو سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے کیس میں غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے مقدمے میں سزا ہونے کی صورت میں وہ پہلے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکیں گے۔ پاکستانی آئین کی دفعہ 6 کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ کیا سزا تجویز کرتی ہے۔ خیال رہے کہ 3 نومبر 2007ءکو بطور فوجی صدر پرویز مشرف نے آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی جس کے بعد ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 ججوں کو نظربند کر دیا گیا تھا۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + بی بی سی) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے پرویز مشرف غداری کیس میں خصوصی عدالت کے قیام کے لئے حکومتی خط پر حکم جاری کر دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سیکرٹری قانون کے خط پر حکم جاری کیا جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ پانچوں ہائیکورٹس ایک ایک جج نامزد کریں۔ چیف جسٹس آف پاکستان 5 ناموں میں سے 3 کی منظوری دیں گے۔ وزارت قانون کا خط پانچوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ہدایت کی کہ پانچوں ججز کی نامزدگیاں آج ہی جمع کرائی جائیں، نامزدگیوں کے بعد تین ججز پر مشتمل خصوصی عدالت بنائی جائے گی جو پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی سماعت کرے گی۔
چیف جسٹس / نام