راولپنڈی : کرفیو کے خاتمے پر مظاہرے‘ دکانوں‘ گاڑیوں پر پتھراﺅ پولیس کی شیلنگ

راولپنڈی : کرفیو کے خاتمے پر مظاہرے‘ دکانوں‘ گاڑیوں پر پتھراﺅ پولیس کی شیلنگ

راولپنڈی + لاہور (ایجنسیاں + اپنے نامہ نگار سے + نامہ نگاران) راولپنڈی میں کرفیو اٹھائے جانے کے بعد بھی کشیدگی برقرار ہے، موبائل فون سروس بحال کر دی گئی ہے۔ حساس علاقوں میں فوج موجود رہے گی۔کرفیو ختم ہونے کے بعد بھی شہر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں کئی علاقوں میں مظاہرے ہوئے اور دوسری جانب راجہ بازار واقعہ میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص دم توڑ گیا۔ گزشتہ روز مختلف علاقوں میں مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، سانحہ راولپنڈی میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا، پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی، اضافی نفری طلب کر لی گئی۔ مشتعل افراد کی جانب سے راجہ بازار میں مظاہرے کے دوران پھر کشیدگی کے باعث راجہ بازار، باڑا مارکیٹ، سبزی منڈی، اردو بازار، صرافہ مارکیٹ سمیت شہر کے تمام بڑے بازار بند کرا دیئے گئے، مظاہرین کے دکانوں اور گاڑیوں پر شدید پتھراﺅ کے بعد پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی، ڈی سی او راولپنڈی کے مطابق شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ برقرار رہے گا، شہر میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی برقرار ہے۔ انتظامیہ نے راولپنڈی کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک کی آمد و رفت کو بحال کردیا ہے، تعلیمی ادارے، سرکاری و نجی دفاتر، بینک، کاروباری مراکز اور مارکیٹیں کھل گئی ہیں بعض مقامات پر مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے دکانیں بند کرا دیں، مختلف علاقوں میں کھانے پینے کی چیزوں کی شدید قلت رہی۔ شہر کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے انٹرمیڈیٹ کا پرچہ منسوخ کردیا گیا ہے جس کے لئے نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اہم عبادت گاہوں پر سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے اس کے علاوہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمنٹنے کے لئے فوج کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ فوارہ چوک اور اطراف کے علاقوں میں فوج تعینات ہے اور وہاں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند ہے۔ بی بی سی کے مطابق راجہ بازار اور کالج روڈ کے علاقے میں سینکڑوں مظاہرین نے متاثرہ مدرسے کے باہر اور راجہ بازار کے علاقے میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے تین دن کے وقفے کے بعد کھلنے والی دکانوں پر بھی پتھراﺅ کیا جس کے بعد دکانداروں نے دوبارہ کاروبار بند کر دیا۔ دوسری جانب پیر کی صبح راجہ بازار واقعہ میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص دم توڑ گیا اس طرح جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 10ہوگئی ہے۔ زخمی شخص کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد دارالعلوم تعلیم القرآن کے باہر جمع لوگوں نے مدرسے کے سامنے ہی اسکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور بعد ازاں اجتجاجی ریلی کی شکل میں لیاقت باغ کی جانب مارچ شروع کر دیا۔ شہر میں موجود فوج اور رینجرز کے جوانوں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی اور قریبی مساجد میں اعلانات کرائے کہ شہر میں دفعہ 144نافذ ہے اور خلاف ورزی کرنے والے افراد کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ تمام افراد کو نصف گھنٹے کی مہلت بھی دی گئی جس کے بعد شرکاءپر امن طور پر منتشر ہوگئے۔ لاہور بار نے راولپنڈی واقعہ کیخلاف گزشتہ روز ہڑتال کرتے ہوئے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے لاہور کی ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہزاروں مقدمات و دعویٰ جات التوا کا شکار ہوئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں سائلین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخوپورہ، جوہر آباد، ننکانہ صاحب، سیالکوٹ، ہارون آباد، سمندری اور حافظ آباد میں وکلاء نے ہڑتال کی اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ وکلاء رہنماﺅں نے واقعہ کی شدید مذمت کی۔ چشتیاں میں چار روز کے بعد شہر کے حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ پولیس نے گھیراﺅ جلاﺅ اور توڑ پھوڑ کے الزام میں بے گناہ گرفتار قریباً 17 افراد کو شہریوں اور تاجروں کے مطالبات پر رہا کر دیا ہے۔ سٹی پولیس نے 8 نامزد اور قریباً 400 نامعلوم افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت دو الگ الگ مقدمات درج کر لئے ہیں۔ ملتان میں بھی تیسرے روز امن رہا اور حالات معمول پر آ گئے۔ ذرائع کے مطابق آر پی او راولپنڈی کو ہٹا دیا گیا ہے۔ راولپنڈی واقعہ پر مختلف واقعات کے 7 مقدمات درج کر لئے گئے۔ مقدمات میں جلاﺅ گھیراﺅ، املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل ہیں۔ مقدمات پیرودھائی، گنج منڈی اور تھانہ سٹی میں درج کئے گئے۔ ایف آئی آرز کو سیل کر دیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق 50 سے زائد نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ راولپنڈی واقعہ کیخلاف چیچہ وطنی میں جلوس نکالا گیا، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اور بہاولپور میں ریلیاں نکالی گئیں۔ منڈی بہاﺅ الدین میں احتجاجی جلسہ ہوا اور ریلی نکالی گئی۔ مظفر آباد سے آن لائن کے مطابق علما نے آل پارٹیز سنی ایکشن کمیٹی قائم کرکے آج سے آزاد کشمیر میں پرامن احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا ہے۔
راولپنڈی / مظاہرے