راولپنڈی : مسجد پر حملہ جلوس کے آگے چلنے والے 100 سے 150 افراد نے کیا : رانا ثناءاللہ

راولپنڈی : مسجد پر حملہ جلوس کے آگے چلنے والے 100 سے 150 افراد نے کیا : رانا ثناءاللہ

راولپنڈی (ایجنسیاں) وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ راولپنڈی میں یوم عاشور پر مسجد پر حملہ ماتمی جلوس کے آگے چلنے والے 100 سے 150 افراد نے کیا، فیکٹ فائنڈنگ اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لئے دو کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں جنہوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہو گی، سانحہ سے قبل اشتعال انگیزی سے متعلق دونوں فریقین کے متضاد م¶قف ہیں، سوشل میڈیا اور موبائل فونز کے ذریعے جانی و مالی نقصانات کے حوالے سے مبالغہ آرائی کی گئی، سانحہ میں 10 افراد جاںبحق 56 زخمی ہوئے تھے، 45 کو ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ پنجاب ہاو¿س راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں رانا ثناءاللہ نے واقعہ کے بعد م¶ثر کردار پر پاک فوج‘ سول اداروں اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ یوم عاشور پر ہر سال پونے دو بجے کے قریب ماتمی جلوس کے شرکا نماز ظہرین ادا کرتے ہیں۔ دونوں اطراف سے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسجد پر حملہ سو سے ڈیڑھ سو افراد نے کیا جو جلوس کے آگے چل رہے تھے۔ اس معاملے کی عدالتی تحقیقات ہو رہی ہیں اس لئے میں کسی رائے کا اظہار نہیں کروں گا تاکہ تحقیقات کا عمل متاثر نہ ہو۔ واقعہ کے آدھے گھنٹے بعد ڈی سی او اور سی پی او سمیت اعلیٰ افسران ‘ فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی تھیں لیکن رش کی وجہ سے وہ بروقت کام شروع نہ کر سکیں جس سے مسجد اور قریبی دکانوں کو نقصان ہوا۔ شہباز شریف نے مالی نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں حکومت کے علاوہ مسجد اور مدرسے کے منتظمین بھی شامل ہیں اور تاجر نمائندگی بھی شامل ہے۔ یہ کمیٹی نقصانات کا تخمینہ لگا کر 48 گھنٹوں میںاپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی۔ مسجد اور متاثرہ دکانوں کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی اور تاجروں کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے سابق چیئرمین سی ایم آئی ٹی نجم سعید کی سربراہی میں تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس میں ایڈیشنل آئی جی بھی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کمشنر اور آر پی او سے لے کر پولیس اہلکاروں تک کس نے اپنے فرائض درست طریقے سے انجام دیئے اور کون غفلت کا مرتکب ہوا ہے۔ جس نے دانستہ طور پر کوتاہی کی ہو گی اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ معاملے پر حقائق کو سامنے آنا چاہئے اور مبالغہ آرائی نہیں ہونی چاہئے۔ پنجاب میں سوچی سمجھی سازش کے تحت حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی، مجرموں کو گرفتار کرنے سے لے کر انصاف کے کٹہرے میں لانے تک کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت سے درخواست کریں گے کہ 30 دنوں میں تحقیقاتی رپورٹ دی جائے جبکہ واقعے کا ایک مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، اگر متاثرہ افراد مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں تو وہ مقدمہ درج کرا سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی۔ وزیر قانون نے کہا کہ شیخ رشید کو زخمیوں کی عیادت کرنے کی بھی جرا¿ت نہیں ہوئی۔ وہ چینلز پر سیاست کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں رانا ثناءاللہ سے شیعہ علما کونسل کے وفد نے ملاقات بھی کی۔
رانا ثناءاللہ