آئی ایم ایف سے کہا گیا چیف جسٹس شفافیت چاہتے ہیں‘ تقرر و تبادلے ان کے بعد کرینگے : جسٹس افتخار

آئی ایم ایف سے کہا گیا چیف جسٹس شفافیت چاہتے ہیں‘ تقرر و تبادلے ان کے بعد کرینگے : جسٹس افتخار

اسلام آباد (وقائع نگار) سپریم کورٹ نے حج سکینڈل کیس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی تو مقدمہ کے تفتیشی افسر حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ احمد فیض کے سوا باقی تمام ملزموں کو گرفتار کرکے چالان پیش کر دیا گیا ہے۔ 15 کروڑ روپے کی وصولی کی گئی ہے جبکہ سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کے ایک برطانوی اکاﺅنٹ کا بھی معلوم ہوا ہے جس میں رقم منتقل ہوتی رہی۔ اس حوالے سے بھی معاملے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے شاہ خاور سے کہا کہ کیا ہماری حکومت احمد فیض کو واپس لانے میں اتنی بے بس ہے۔ انہوں نے برطانیہ کی عدالت کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جو این آر او کیس میں درج کیا گیا ہے کہ انہوں نے قانون پر سمجھوتہ نہیں کیا تھا اگر ہم ایک خود مختار ملک ہیں تو اسے واپس آنا چاہئے۔ اگر برطانیہ والے قانون کو اہمیت دے سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ آپ نے ایک انگریزی اخبار کی خبر پڑھی ہے کہ آئی ایم ایف سے کہا گیا ہے کہ ہم اس وقت تقرر و تبادلے اسلئے نہیں کر رہے کہ چیف جسٹس شفافیت چاہتے ہیں، یہ تقرر و تبادلے انکے جانے کے بعد کریںگے۔ انہوں نے کہا چیف جسٹس کے جانے سے کچھ نہیں ہوتا سسٹم مضبوط ہونا چاہئے اور جو سسٹم اب رائج ہو گیا ہے وہ اتنا مضبوط بن گیا ہے کہ اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ اس کیس میں حسین اصغر کے ساتھ کیا ہوا سب جانتے ہیں مگر یہ سب کچھ کرنے والوں کیخلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ حسین اصغر نے بتایا کہ وزارت مذہبی امور نے فی حاجی جو پانچ ہزار روپے لئے تھے ان میں سے ابھی 84 ہزار حجاج کو ادائیگی نہیں کی حالانکہ 42 کروڑ کی رقم وزارت کے پاس موجود ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ اس رقم کے حوالے سے تمام تفصیلات سے آج عدالت کو آگاہ کریں۔ اس کے علاوہ اس وقت کے حج آپریشن کیلئے جو تقرر و تبادلے ہوئے تھے ان کی قانونی حیثیت جاننے کیلئے حکومت نے ایک کمیٹی قائم کی تھی اس کی رپورٹ سے بھی آگاہ کیا جائے۔آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ میں حج سکینڈل کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں بات کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کیا حکومت چیف جسٹس کے جانے کے بعد پھر سے کرپشن کا آغاز کردے گی؟ ہم نے اپنا نظام بچانا ہے‘ ہم چلے بھی گئے تو بھی نظام چلتا رہے گا‘ ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہوتی تو آج ملکی حالات مختلف ہوتے‘ اداروں کی تباہی کا انتظار کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں‘ 1972ءکے بعد اب جاکر قانون کی حکمرانی آئی ہے‘ میرے جانے کے بعد بھی عدلیہ کے مضبوط نظام کو نہیں چھیڑا جاسکتا‘ حکومت نے ملک کو مضبوط نہیں کرنا اور بیرونی عناصر کی بات ہی ماننی ہے تو پھر ہم بھی حکم جاری کرسکتے ہیں‘ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے استثنیٰ کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا رابطہ کرنے پر ہی فیصلہ دے سکتے ہیں‘ حکومت نے آئی ایم ایف سے یہ کیوں کہا ابھی صبر کریں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ہوتے ہوئے بدعنوانی نہیں ہو سکتی معاملات دسمبر کے بعد ہی چلائیں گے‘ ججز کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘ حکومت نے اس خبر کی تردید کیوں نہیں کی۔
چیف جسٹس/ریمارکس برہمی