چوہدری نثار نے کہا ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے نے قوم کو متحد کیا

 چوہدری نثار نے کہا ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے نے قوم کو متحد کیا

وزیر داخلہ نے  کہا  کہ شدت پسند ’سافٹ ٹارگٹ‘ کو نشانہ بناتے ہیں جیسے کہ سکول، عبادت گاہیں اور مارکیٹیں۔ہمارے لیے بہت مشکل ہے کہ ہم سکول نہیں بند نہیں کر سکتے، لوگوں کو عبادت گاہوں میں جانے سے نہیں روک سکتے اور لوگوں کو مارکیٹوں میں جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔‘پاکستان میں فرقہ واریت گذشتہ 30 سالوں سے ہے اور اس کے خاتمے میں وقت لگے گا۔‘ پاکستان میں دولت اسلامیہ کے وجود کے بارے میں ذرائع ابلاغ اس کی بہت زیادہ تشہیر کررہے ہیں۔دولت اسلامیہ مشرق وسطیٰ میں ہے پاکستان میں کام پہلے کیا جاتا ہے اور حکمت عملی بعد میں بنائی جاتی ہے۔ ’پچھلے 13 سالوں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں کوئی حکمت علی نہیں تھی۔‘انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے میں مشکلات تھیں۔ ’پالیسی بنانے میں فوج کے ساتھ کام کرنا آسان تھا جبکہ صوبائیحکومتوں کے ساتھ کام کرنا مشکل تھا۔‘چوہدری نثار ڈنمارک، فرانس اور آسٹریلیا میں دہشت گردی کے بعد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے امریکہ میں ہیں۔