نیشنل ایکشن پلان پرعملی طورپرعملدرآمد نہ ہونےتک دہشت گرد واقعات میں کمی نہیں آسکتی:سیاسی رہنماؤں

 نیشنل ایکشن پلان پرعملی طورپرعملدرآمد نہ ہونےتک دہشت گرد واقعات میں کمی نہیں آسکتی:سیاسی رہنماؤں

حکومت نےدہشت گردی کے خاتمے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس میں متفقہ طور پر دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان ترتیب دیاتھا،ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تہیہ کیاہے،جس کے بعد دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کو اہم کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی دہشت گردی کے واقعات روک جاسکے،سانحہ پشاور کے بعد شکار پور،اور پھر لاہور،راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں آضافہ ہوا ہے،سیاسی رہنماؤں کاکہناہےکہ جب تک قومی ایکشن پلان پر عملی طور پر عملدرآمد نہیں ہو گا اس وقت تک دہشت گردی کی اس لہر کو کنٹرول کرنا مشکل ہے،صرف اجلاسوں پر اجلاس بلانے سے دہشت گردی کنٹرول نہیں ہو سکے گیافراسیاب خٹ سحر کامران اپوزیشن جماعتوں سےتعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کاکہناہےکہ قومی ایکشن پلان کےثمرات صرف اس وقت ہی حاصل ہو سکتے ہیں،جب ان پر عمل کیا جائے گا صرف باتوں اور تقریروں سے دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن ہےفرحت اللہ بابرملک کی سیاسی و عسکری قیادت کےگٹھ جوڑ کے باوجود دہشت گردی کی لہر میں کمی کےبجائے اضافہ ہورہاہےاب دیکھنا ہے کہ حکمران ایوانوں میں بیٹھ کر بیان جاری کرتے ہیں اور عوام کو دہشت گردوں کےرحم وکرم پرچھوڑ دیاجائے گا یا کوئی عملی اقدامات بھی کیےجائیں گےکیمرہ مین عاطف یوسف کےساتھ سردار حمید وقت نیوز اسلام آباد