مشکل فیصلے کرنا ہونگے‘ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے واضح نتائج نظر آنے چاہئیں: نوازشریف

مشکل فیصلے کرنا ہونگے‘ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے واضح نتائج نظر آنے چاہئیں: نوازشریف

کوئٹہ (امجد عزیز بھٹی + نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم کی نظریں قومی ایکشن پلان کے نتائج پر ہیں، صوبائی حکومتوں کو تیز رفتاری کے ساتھ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہوگا اور اس کے واضح نتائج نظر آنے چاہئیں۔ قومی ایکشن پلان کے کچھ نکات مشکل اور کچھ آسان ہیں، ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، قومی ایکشن پلان مسلم لیگ (ن) یا حکومت کا نہیں بلکہ سیاسی و عسکری قیادت کا متفقہ فیصلہ ہے، بلوچستان حکومت قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے فوری طور پر اقدامات کرے، وفاق اور فوج بھرپور مدد فراہم کرے گی۔ وزیراعظم نواز شریف گذشتہ روز قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے ایپکس کمیٹی کی اجلاس کی صدارت کرنے کے لئے کوئٹہ پہنچے جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک، صوبائی وزرائ، سدرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے وزیر اعظم کا استقبال کیا، گورنر ہائوس میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے استقبال کیا۔ اس موقع پر پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی دی۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر، کورکمانڈر کوئٹہ جنرل ناصر جنجوعہ، وزیراعلیٰ بلوچستان عبد المالک، چیف سیکرٹری بلوچستان، سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی، سینئر صوبائی وزیر ثناء اللہ زہری، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق جبکہ وزیر مملکت جمال نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی لائحہ عمل پر موثر عملدرآمد کیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عوام قومی ایکشن پلان پر ہر صورت عملدرآمد چاہتے ہیں اور اس پر موثر اقدامات کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر نہ صرف صوبے بلکہ پوری قوم انتظار کررہی ہے اور اس کے نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت اعلی حکام نے دس گھنٹے تک طویل اجلاس کے بعد قومی ایکشن پلان ترتیب دیا ہے۔ پارلیمنٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کی باقاعدہ طور پر منظوری بھی دی ہے۔ قومی ایکشن پلان پر کسی صوبے میں تیز رفتاری سے کام ہو رہا ہے اور کسی صوبے میں رفتار سست ہے، تمام صوبوں میں قومی ایکشن پلان پر تیزی سے اور ایک ہی رفتار سے کام ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات روکنے پر حکومتی کاوشوں کو سراہا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں سدرن کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا۔ آرمی چیف اور کمانڈر سدرن کمانڈ نے وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ وزیر اعظم نے منتخب نمائندوں اور فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک نئی شروعات ہو رہی ہے۔ ہم سب ایک ہو کر پاکستان کو مشکلات سے نکالنا چاہتے ہیں۔ ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے اور پاکستان کو دہشت گردی سے باہر نکالنا ہے۔ ملکی مسائل کا حل استحکام میں ہے۔ بلوچستان کی بہتری کے لئے ہم سب یہاں جمع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور فوجی قیادت مسائل کے حل کے لئے پر عزم ہے۔ حکومت اور فوج مل کر کام کر رہی ہے۔ قیادت متحد ہو گی تو قوم متحد ہو گی۔ بلوچستان میں لوگوں کو سہولتیں دینا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان مجھے اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب، سندھ اور خیبر پی کے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں عدم مساوات کا احساس ختم ہو نا چاہئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چند سال میں پاکستان اپنی منزل پر پہنچے گا جس کا خواب قائد اعظمؒ نے دیکھا تھا۔ وزیراعظم نے حکام کو واضح ہدایت دی کہ صوبے میں دہشتگردوں کے خلاف بھرپور ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے، شیعہ ہزارہ برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ صوبے میں رواں سال فرقہ واریت کے 14 واقعات ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر ٹارگٹ کلنگ کے تھے جبکہ مچھ میں ایک بزرگ کے مزار کو بھی آگ لگائی گئی۔ فورسز پر حملے کے چھوٹے بڑے 19 واقعات پیش آئے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو ڈھونڈ کر ان کی سرکوبی کی جائے۔ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جائے۔ وزیراعظم نے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ ہم پاکستانی قوم کو ہرگز مایوس نہیں کرینگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خوشی ہے کہ وفاق صوبائی حکومتیں اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی لائحہ عمل پر متفق ہے۔ اجلاس میں سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن تیز کرنے اور ناراض بلوچ رہنمائوں سے جلد مذاکرات کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ بی بی سی کے مطابق وزیراعظم نے چاروں صوبوں پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک 53 کیسوں کو فوجی عدالتوں میں بھیجا گیا ہے۔ اجلاس کو شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاری اور مختلف کارروائیوں میں مارے جانے والے شدت پسندوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے ا رکان سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا وقت آگیا ہے کہ پاکستان سے خامیاں و فتنوں کو ختم کرنا ہے۔ آج بھی اسلام آباد میں امام بارگاہ پر حملہ کیا گیا جس میں 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اس سے پہلے خیبر پی کے، کراچی، لاہور میں بھی حملے کئے گئے ہیں سیاسی جماعتوں نے جو بیس نکاتی ایجنڈ ا بنایا گیا ہے اس میں نیشنل لیڈرشپ اور فوج بھی شامل ہے پاکستان سے دہشتگردی کوختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں عوام نے صرف یہ مینڈیٹ نہیں دیا کہ ہم لوڈ شیڈنگ ختم کریں بلکہ ملک سے دہشتگردی کو ختم کرنا بھی ہمارا عزم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنے دور اقتدار میں بجلی لوڈشیڈنگ ختم کرینگے انہوں نے کہاکہ ہم گیس کی درآمد سے 3600 میگا واٹ بجلی کی پیداوار کریں گے نیلم جیلم، تربیلہ، چار نیوکلیئر پاور پروجیکٹ لگائے جائیں گے جن سے ناصرف بجلی کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ ملک کے پاس وافر مقدار میں بجلی بھی دستیاب ہوگی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم خرابیوں و فتنوں کو ختم کریں اور پاکستان کو دہشتگردی سے پاک کریں، دہشت گردی کے خلاف ہمار اعلان جنگ ہے ہم کسی صورت میں نہ پہلے کبھی جھکے تھے اور نہ آئندہ جھکیں گے۔ پاکستان میں ہر حالت میں امن وامان قائم کیا جائے گا۔ دریں اثناء وزیراعظم سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے وفد نے ملاقات کی اور مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ایپکس کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو  ٹارگٹ کلنگ فرقہ وارانہ دہشت گردی اور اغوا برائے تاوان جیسے مسائل ورثے میں ملے لیکن ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں مخلوط حکومت نے 70 سے 80 فیصد تک ان مسائل پر قابو پا لیا ہے۔