دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے طاقت کے استعمال سے زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے، تارکین وطن اہمیت نہ ملنے پر انتہاپسندی کی جانب مائل ہورہے ہیں: جوبائیڈن

دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے طاقت کے استعمال سے زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے، تارکین وطن اہمیت نہ ملنے پر انتہاپسندی کی جانب مائل ہورہے ہیں: جوبائیڈن

واشنگٹن (نیٹ نیوز+ایجنسیاں) امریکہ میں انتہاپسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کی کوششوں کے لیے تین روزہ عالمی اجلاس شروع ہو گیا جس میں دنیا بھر سے مندوبین شریک ہوئے۔ یہ اجلاس ڈنمارک، فرانس اور آسٹریلیا میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد ہو رہا ہے۔ اس موقع پر امریکہ کے نائب صدر جوبائیڈن نے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے طاقت کے استعمال سے زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ تارکین وطن سے رابطہ کیا جائے جو شاید خود کو اہمیت نہ ملنے کی وجہ سے انتہاپسندی کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ مختلف معاشروں میں آباد ان تارکین وطن کو کوئی مثبت متبادل دینا ہوگا۔ مختلف ممالک کی جانب سے اپنے یہاں موجود غیر ملکیوں کو احساس یکجہتی پیدا کرنا ہو گا تاکہ دہشت گردوں کی جانب سے ان آبادیوں میں خطرے، تنہائی، نفرت اور ہتک کے احساس پھیلانے کی کوششوں کو ناکام کیا جا سکے۔ کانفرنس میں شریک 60 ممالک میں اردن، یورپ، مصر، متحدہ عرب امارات، کویت اور فرانس بھی شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ خاص طور پر یورپی ممالک دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ ہیں کیونکہ اکثر ان معاشروں میں تارکینِ وطن کا بہتر طور پر انضمام نہیں ہوتا۔ نامہ نگاروں کے مطابق وائٹ ہاؤس یہ بھی چاہتا ہے کہ اپنی سرزمین پر پروان چڑھنے والے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹے اور امریکیوں کو انتہاپسندی کی جانب جانے، اس سے منسلک ہونے سے روکنے خاص طور پر بگڑے ہوئے نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ یہ اجلاس مشرق وسطی میں دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثرات پر عالمی برادری کے بڑھتے خدشات کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ جوبائیڈن نے مقامی سطح پر انتہاپسندی کے تدارک میں پیش رفت کے حوالے سے لاس اینجلس، بوسٹن اور مینیاپولس جیسے شہروں کا بطور مثال نام لیا اور کہا کہ اس کا مقصد مقامی رہنماؤں سے بڑے پیمانے پر رابطہ کرنا تھا تاکہ تمام امریکی خاص طور پر وہاں موجود مسلمان خود کو معاشرے میں ضم سمجھیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سے امریکہ جو سب سے اہم سبق سیکھ سکتا ہے وہ معاشرے کے ہر فرد کی شمولیت کا ہے۔ قومی سلامتی  معاشرے کی اجتماعیت کے احساس سے بنتی ہے۔ بائیڈن نے تسلیم کیا کہ امریکہ نے معاملے کو ہمیشہ درست طور پر نہیں لیا لیکن اسے انضمام کا وسیع تجربہ ہے۔ امریکی سسٹم میں مختلف معاشرتی گروہوں کی شمولیت امریکہ کا خواب ہے۔ صدر اوباما آج کانفرنس سے خطاب کرینگے۔