اسلام آباد: امام بارگاہ پر خودکش حملہ‘ فائرنگ‘ 3 افراد شہید

اسلام آباد: امام بارگاہ پر خودکش حملہ‘ فائرنگ‘ 3 افراد شہید

اسلام آباد+ لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ خصوصی نامہ نگار+ خبر نگار+ نوائے وقت رپورٹ) ایکسپریس وے پر امام بارگاہ پر حملہ میں 3 افراد شہید اور 7 زخمی ہو گئے۔ خودکش حملہ آور نے آتے ہی فائرنگ کی اور ہینڈ گرنیڈ پھینکا اور گارڈ کو گولیاں مارنے کے بعد وضو کرنے والوں پر بھی گولیاں چلائیں۔ 2 محافظوں نے جان کی قربانی د یکر اسے روکا اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے مار ڈالا۔ مین گیٹ پر جھڑپ کے دوران اندر موجود ایک نمازی نے گیٹ بند کر دیا جس کی وجہ سے حملہ آور اندر نہیں جا سکا اس نے دروازے کی کنڈی کھول لی تھی تاہم شدید زخمی ہونے کی وجہ سے گر گیا۔ پاک فوج کے کمانڈوز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور جزوی طور پر تباہ ہونے والی جیکٹ کو ناکارہ بنایا۔ کوری روڈ پرسائیں بوٹا دربار کے قریب واقع امام بارگاہ قصر سکینہ بنت حسینؓ میں مغرب کے وقت خودکش حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہوا جو سکیورٹی گارڈز کی فائرنگ سے گر گیا جس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ میں دستی بم پھٹنے سے دھماکہ ہوا لیکن خود کش جیکٹ نہ پھٹ سکی حملہ آور کی فائرنگ سے تین افراد شہید ہوئے۔ پولیس نے امام بارگاہ کے تمام راستے سیل کردئے پاک فوج کے کمانڈوز جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امام بارگاہ کی مکمل سرچنگ کی گئی بم ڈسپوزل سکواڈ نے خود کش جیکٹ ناکارہ بنا دی۔ فائرنگ سے تین افراد غلام حسین، سخاوت حسین، اور عبدالشکور حیدری شہید ہوگئے جبکہ الطاف حسین، فیاض حسین اور ساجد علی کو شدید زخمی حالت میں پمز منتقل کردیا گیا۔ ڈی ایس پی شہزاد ٹائون سرکل فدا ستی نے بتایا کہ خود کش حملہ آور نماز مغرب کے وقت فائرنگ کرتا ہوا آیا تاہم امام بارگاہ کی انتظامیہ نے اندر سے شٹر بند کردیا جس کی وجہ سے خود کش حملہ آور اندر نہ جا سکا۔ جبکہ نمازی امام بارگاہ کے اندر مین ہال میں منتقل ہوگئے۔ اسلام آباد ایکسپریس وے کو بھی سکیورٹی خدشات کے باعث ہر قسم کی ٹریفک اور آمدورفت کیلئے بند کردیا گیا۔ امام بارگاہ کے اطراف پولیس نے حساس اداروں کے ہمراہ مشتبہ افراد کی موجودگی کے خدشات کے باعث سرچ آپریشن بھی کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق غلام حسین اور سخاوت گارڈز تھے جبکہ عبدالشکور نمازی تھا جو وضو کر رہا تھا۔ خودکش جیکٹ جزوی طور پر پھٹنے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم بروقت جوابی کارروائی سے حملہ آور اندر داخل نہیں ہو سکا اور بڑی تباہی ٹل گئی۔ بعدازاں پاک فوج کے خصوصی سکواڈ نے خودکش جیکٹ ناکارہ بنا دی۔ ایک عینی شاہد محمد یوسف جو نماز کیلئے آیا تھا، نے نجی ٹی وی کو بتایا خودکش حملہ آور جب بیرونی مرکزی دروازے پر داخل ہوا تو میں نے دیکھتے ہی دروازہ بند کرکے کنڈی لگا دی اور آواز دی کہ حملہ ہو گیا جس پر نمازی اندرونی کمرے میں چلے گئے اور اندر سے کنڈی لگا دی۔ خودکش حملہ آور کی عمر 22 سے 25 سال تھی وہ سرائیکی زبان میں گالیاں دے رہا تھا۔ گارڈز کی فائرنگ سے حملہ آور زخمی ہو کر گر پڑا اس سے خودکش جیکٹ نہ پھٹ سکی۔ پمز کے ترجمان کے مطابق جاں بحق افراد کے سینے اور پسلیوں میں گولیاں لگی ہیں ہلاکتیں گولیاں لگنے سے ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے زخمی ہونے کے باوجود عمارت کے اندر جانے کی کوشش کی تاہم اس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس نے کنڈی کھول لی تھی تاہم زخمی ہونے کے بعد اس نے خود کو اسی جگہ پر اڑانے کی کوشش کی مگر تکنیکی وجوہات پر جیکٹ مکمل طور پر نہیں پھٹ سکی۔ آئی جی اسلام آباد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور شکل سے پاکستانی لگ رہا تھا اور اس سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ سکیورٹی گارڈز نے قربانی دے کر بڑے لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔ خودکش جیکٹ میں بال بیئرنگ بھی پائے گئے، نادرا کے ذریعے حملہ آور کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں۔ دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروہ جند اللہ نے قبول کر لی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھماکہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے بدلے کے طور پر کیا گیا۔ ایس ایچ او صادق آباد کے مطابق خودکش بمبار کی نعش پوری طرح سلامت ہے اور اس کی موت دھماکے کی وجہ سے واقع نہیں ہوئی۔ مجلس وحدت المسلمین، شیعہ علماء کونسل نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا۔ واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے ایکسپریس وے پر دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا جس کے بعد ٹریفک جام ہو گئی اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر ممنون حسین‘ وزیراعظم نوازشریف‘ سابق صدر آصف علی زرداری‘ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان‘ امیر جماعت اسلامی سراج الحق‘ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین‘ قائم مقام گورنر رانا محمد اقبال اور وزیراعلیٰ پنجاب‘ مولانا فضل الرحمن‘ طاہر القادری، چودھری شجاعت حسین سمیت دیگر سیاسی رہنمائوں نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے جو بلوچستان کے دورہ پر ہیں‘ کوئٹہ میں واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر رپورٹ طلب کرلی، تمام زخمیوں کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔