اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ججز نظربندی کیس میں گرفتاری کا حکم‘ مشرف عدالت سے فرار ہو کر گھر پہنچ گئے‘ پولیس اور رینجرز کا سکیورٹی ”حصار“ ساتھ رہا

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ججز نظربندی کیس میں گرفتاری کا حکم‘ مشرف عدالت سے فرار ہو کر گھر پہنچ گئے‘ پولیس اور رینجرز کا سکیورٹی ”حصار“ ساتھ رہا

اسلام آباد (وقائع نگار + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ججز نظر بندی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی عبوری ضمانت خارج کرتے ہوئے پولیس کو ان کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا تاہم فاضل جسٹس کے فےصلے لکھوانے کے دوران اےس ایس پی آپریشن یٰسین فاروقی، اےس ڈی پی او اور اےس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ سمیت پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں پرویز مشرف احاطہ عدالت سے رینجرز کے حصار میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ فاضل جسٹس نے اپنے فےصلے مےں پروےز مشرف کو فرار کرانے کو علیحدہ سنگےن جرم قرار دےتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر پروےز مشرف اور ان کے گارڈز کےخلاف الگ مقدمہ بنتا ہے۔ فاضل عدالت نے پولےس کو ہداےت کی ہے کہ پروےز مشرف کے خلاف درج اےف آئی آر مےں انسداد دہشت گردی اےکٹ 1997ءکی دفعہ 6 اور ذےلی شقوں کو شامل کےا جائے۔ اطلاعات کے مطابق عدالت نے 7-ATA کی دفعہ شامل کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے پروےزمشرف کی ضمانت منسوخی کے بعد عدالت سے فرار ہونے پر انسپکٹر جنرل پولےس اسلام آباد کو آج عدالت طلب کر لےا اور ان سے پروےز مشرف کی ضمانت کے اخراج کے بعد گرفتاری کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کی ہے جبکہ سابق آر می چےف کی عدالتی پےشی کے موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ مےں تعےنات کئے گئے تمام پولےس افسروں و ملازمےن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اصالتاً طلب کرلےا ہے۔ دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ججوں کو فرائض سے روکنا اور انہیں نظر بند کرنے کا اقدام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف 18 کروڑ عوام متاثر ہوئے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔ فاضل عدالت نے اپنے حکم میں ججز نظر بندی کے حوالے سے پرویز مشرف کے خلاف ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کرنے کا حکم بھی دیا۔ پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ میرے م¶کل نے ججوں کی گرفتاری یا انہیں نظربند کرنے کا ذاتی طور پر حکم نہیں دیا بلکہ یہ انتظامیہ کا اقدام تھا جو وزیر اعظم اور کابینہ کی سفارش پر اٹھایا گیا۔ ججز کو گھروں میں نظربند نہیں کیا گیا بلکہ خار دار تاریں لگا کر انہیں سیکورٹی فراہم کی گئی تھی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ججز کو ڈیوٹی سے روکنا دہشت گردی کا اقدام ہے۔ اگر مشرف نے خاردار تاریں نہیں لگائیں تو ہٹانے کا حکم تو دے سکتے تھے۔ ایف آئی آر کے مندرجات کو سامنے رکھ کر درخواست کا فیصلہ کریں گے۔ پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ ایسا صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کوئی متاثرہ فریق رجوع کرے۔ 260 میں سے ایک بھی متاثرہ جج مقدمہ لے کر نہیں آیا۔ مدعی مقدمہ متاثرہ شخص نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں یہ مقدمہ قابل سماعت ہی نہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ججز کی نظربندی سے پورا عدالتی نظام تباہ اور 18 کروڑ عوام متاثر ہوئے۔ یہ عوامی نوعیت کا مقدمہ ہے جس میں کوئی بھی شخص مدعی بن سکتا ہے۔ تھانہ سیکرٹریٹ میں پرویز مشرف کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے والے وکیل اسلم گھمن نے 19 ستمبر 2009ءکے اخبار کا تراشہ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف نے ٹیکساس میں دئیے گئے ایک بیان میں خود تسلیم کیا کہ ”ججوں کی معزولی میری غلطی تھی ¾ فیصلے سے بہت نقصان ہوا۔“ اسلم گھمن نے کہا کہ میری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں۔ پرویز مشرف نے تین نومبر کو ججز سے پی سی او کے تحت اپنی وفاداری کا حلف اٹھانے کا کہا اور انکار کی صورت میں انہیں معزول کر کے نظر بند کر دیا۔ 18 کروڑ عوام ججز نظربندی کے ظالمانہ اقدام سے متاثر ہوئے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے سابق صدر سردار عصمت اللہ نے فاضل عدالت کے روبرو پیش ہو کر کہا کہ پرویز مشرف کی وجہ سے عدلیہ بحالی تحریک کے دوران میں 18 دن جیل میں رہا ہوں اس لئے میں بھی ان کے اقدامات سے متاثر ہوا ہوں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود جہانگیری نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود پرویز مشرف تفتیش کا حصہ نہیں بنے جو عدالتی احکامات کی نافرمانی ہے۔ انہوں نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی درخواست ضمانت خارج کی جائے۔ دلائل سننے کے بعد فاضل عدالت نے مذکورہ احکامات جاری کرتے ہوئے پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ آئی جی اسلام آبادکو آج اصالتاً عدالت طلب کرتے ہوئے پروےز مشرف کی پےشی کے موقع پر تسلی بخش اقدامات نہ کرنے کی وضاحت طلب کی ہے علاوہ ازےں فاضل جسٹس نے درخواست گذار کی جانب سے اپنے خلاف درج مقدمے کو بدنےتی پرقراردےنے کے بےان کو بھی مسترد کر دےا۔ فاضل جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کو بطور ملزم پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے تھا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا عدالتی فیصلے موجود ہیں صرف غلط کاموں کو کالعدم قرار دینا درست روایت نہیں۔ غلط کاموں کے کرداروں کو بھی منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے۔ انہوں نے پرویز مشرف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ افسانوی دنیا سے نکل آئیں حقیقی دنیا زیادہ تلخ ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل نے فاضل عدالت کو بتایا کہ ان کے م¶کل نے کبھی ججز کو نظربند نہیں کیا بلکہ ججوں کی حفاظت کے لئے باڑھ لگانے کے اقدامات کئے گئے تھے۔ اس پر فاضل جسٹس نے پرویز مشرف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اور آپ 9 مارچ کو اکٹھے تھے یاد کریں آپ نے کہا تھا کہ ”اے کی کم پا دتا اے جنرل صاحب نے“۔ پرویز مشرف کے ساتھ تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے بھی وکلا کی طرح کالے کوٹ اور ٹائی زیب تن کر رکھے تھے جو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ پرویز مشرف کے وکیل ہیں جنہوں نے عدالتی فیصلے کے بعد پرویز مشرف کو اپنے حصار میں لئے رکھا اور انہیں گاڑی میں بٹھا کر فرار کرا دیا۔ پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل نے کہا کہ ان کے م¶کل نے تین نومبر کے اقدامات میں کہیں یہ نہیں کہا تھا کہ ججوں کو نظر بند کیا جائے لہٰذا یہ الزامات غلط ہیں، اس کے کوئی ثبوت نہیں جس پر جسٹس شوکت صدیقی نے کہا ”اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا“۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہاکہ عدلیہ ججز نظربندی سے پاکستان کی دنیا بھرمیں بدنامی ہوئی۔ پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے ملک میں ذاتی حیثیت میں ایمرجنسی نہیں لگائی تھی بلکہ کابینہ اور وزیراعظم کی ایڈوائس پر تمام اقدامات کئے گئے تھے ۔ عدالت نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے م¶کل کبھی تفتیش کیلئے تھانے گئے؟ جس پر مقدمے میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود پرویز مشرف کبھی متعلقہ تھانے یا تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ عدالت میں موجود تفتیشی افسر نے بتایا کہ سابق صدر کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ وہ سب کچھ عدالت میں بتائیں گے۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پرویز مشرف اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کی بجائے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے آئے تھے۔ پرویز مشرف کی گرفتاری کے حکم کا تفصیلی فیصلہ جاری کر تے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو آج طلب کر لیا ہے۔ جاری کئے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کو محافظوں نے فرار کرانے میں مدد دی، مشرف کا فرار ہونا اور محافظوں کا یہ طرز عمل علیحدہ جرم ہے، پولیس پرویز مشرف کی گرفتاری کےلئے اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکی رجسٹرار نے بتایا کہ پرویز مشرف کے فرار میں محافظوں نے مدد کی، پرویز مشرف کے فرار میں غفلت کے مرتکب افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو آج طلب کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ ایسے موقع پر سکیورٹی کے مناسب انتظامات کیوں نہ کئے، چھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ ججوں کو نظربند کرنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے اس سے پہلے سابق صدر پرویز مشرف اپنے روایتی انداز میں سخت سکیورٹی کے درمیان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔ کمرہ عدالت میں جونہی ان کی ضمانت خارج ہونے اور گرفتاری کا حکم ملا کسی نے سابق صدر کو گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی اس دوران پرویز مشرف کی سکیورٹی پر مامور اہلکار آگے بڑھے اور انہیں کمرہ عدالت سے باہر لے کر نکل گئے۔ سابق صدر کو سیاہ رنگ کی پراڈو میں بٹھایا گیا اور وہ تیزی سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے نکل کر اپنے گھر چک شہزاد چلے گئے۔ فیصلے کے بعد ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد یاسین فاروق مشرف چک شہزاد پہنچے تاہم وہ سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کئے بغیر واپس چلے گئے دوسری جانب سابق صدرکے وکلا نے پرویز مشرف کی ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا تاہم عدالتی وقت ختم ہونے پر سپریم کورٹ نے درخواست لینے سے انکار کر دیا، اب درخواست آج دوبارہ دائر کی جائے گی۔ یہ اپیل چودہ صفحات پر مشتمل ہے۔اپیل کا متن ہے کہ مشرف پر ججز کی نظربندی کا الزام قابل ضمانت ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ کسی بھی نظر بند جج نے مشرف کے خلاف درخواست نہیں دی۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ مشرف کے خلاف درخواست ایک آدمی نے ذاتی طور پر دی اور اس کیس میں کوئی بھی نظربند ہونے والا جج فریق نہیں بنا۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ مشرف کو ضمانت قبل از گرفتاری دی جائے۔ دریں اثناءنجی ٹی وی کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد نے پرویز مشرف کے فارم ہا¶س کو سب جیل قرار دے دیا۔ چیف کمشنر اسلام آباد نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس کا فیصلہ ایوان صدر میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پرویز مشرف کی ممکنہ ضمانت کی منسوخی اور گرفتاری پر کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کےلئے اعلیٰ پولیس افسروں اور فوجی کمانڈوز نے پہلے ہی حکمت عملی طے کر لی تھی ، سابق صدر کے ہائیکورٹ سے چلے جانے کے بعد ایس ایس پی آپریشن یاسین فاروق کو سابق صدر سے گرفتاری سمیت بعض معاملات پرطے کر نے کےلئے مذاکرات کیلئے ان کی رہائشگاہ پر بھیجا گیا۔ آئی جی اور ایس ایس پی اسلام آباد نے دیگر سینئر پولیس افسران سے اس بات پر طویل مشاورت کی کہ اگر عدالتی احکامات کی تعمیل کے دوران پرویز مشرف کی سکیورٹی پر مامور فوجی کمانڈوز نے مزاحمت کی تو اس پر کیا ردعمل اختیار کیا جانا چاہئے اور اس صورت میں پرویز مشرف کو کیسے گرفتار کیا جائے تاکہ فوج اور پولیس میں ٹکراﺅ کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ پرویز مشرف کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندر اور باہر رینجرز اور پولیس کے مسلح دستے تعینات تھے جبکہ کمرہ عدالت کی چھت پر بھی رینجرز کے اہلکار تعینات تھے۔ دریں اثناءآل پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر امجد او ر کیل احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ پرویز مشرف فرار نہیں ہوئے، سپریم کورٹ گرفتاری کے احکامات جاری کرےگی تو پرویز مشرف گرفتاری دے دیں گے، پرویزمشرف سرکاری سکیورٹی میں عدالت گئے، سرکاری سکیورٹی میں واپس آئے، وکلا پرویز مشرف پر حملہ کرنا چاہتے تھے، سابق صدر فوراً اپنے گھر آگئے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر امجد نے اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف نے ججوں کی برطرفی کا کوئی حکم نہیں دیا تھا، ہمارے وکلا نے ثابت کیا ہے کہ پرویز مشرف پر ججوں کی نظر بندی کا الزام غلط ہے، فاضل جج نے اچانک دہشت گردی کی شق لگا کر بیل مسترد کردی جس پر پرویز مشرف کو افسوس ہوا، ججز نظر بند نہیں تھے، وہ گھر سے باہر نکل سکتے تھے۔ ڈاکٹر امجد نے کہا کہ کسی نے بھی پرویزمشرف کو گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی انہوں نے راولپنڈی وکلا کو عدلیہ کی ٹرپل ون بریگیڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پرویز مشرف پر حملہ کرنا چاہتے تھے، اس لئے وہاں کھڑے نہیں ہوئے، اس وقت تک پرویز مشرف کے گھر کو سب جیل قرار نہیں دیا گیا تھا، پرویز مشرف فرار نہیں ہوئے وہ اپنے گھر میں ہیں۔ سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست جمع کرائی تھی، ضمانت کی درخواست کے ساتھ فیصلے کی کاپی لگانے کی ہدایت کی تھی۔ ڈاکٹر امجد نے کہاکہ ہمارے وکلا نے ثابت کیا کہ پرویزمشرف پرججوں کی نظربندی کاالزام غلط ہے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج نے ان کا م¶قف تسلیم کرنے کے بجائے عبوری ضمانت کو مسترد کر دی اور سابق صدر کے خلاف ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل کر دی۔ احمد رضا قصوری نے کہاکہ پرویز مشرف پرسکون، خوش و خرم اور پر اعتماد ہیں، مشرف نے ملاقات کے دوران کافی کے گھونٹ بھرے اور سگار کے کش لئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے متعلق قانونی مشاورت جاری ہے، ابھی چند ملاقاتیں اور ہوں گی۔ سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کیخلاف فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تو پرویز مشرف کیخلاف کیسے ہو گا۔ قانون سب کے لئے برابر ہوتا ہے۔ ججز نظر بندی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ درخواست ضمانت پر عدالت نے گرفتاری کا حکم دیدیا جو بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے نے پوری دنیا کو غلط پیغام دیا ہے۔ پرویز مشرف سابق آرمی چیف ہیں آج ریاست کے تمام ستون گر گئے ہیں صرف ایک ستون پر ریاست کھڑی ہے جو افواج پاکستان ہے۔