پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پی کے حکومت کو مالاکنڈ ڈویژن سے فوج واپس بلانے سے روک دیا

پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پی کے حکومت کو مالاکنڈ ڈویژن سے فوج واپس بلانے سے روک دیا

پشاور(نیوز ایجنسیاں+نوائے وقت نیوز)  پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پی کے حکومت کو  مالاکنڈ ڈویژن سے فوجی انخلاء  سے روکتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عجلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے‘ فوج نکالنے سے قبل وفاقی وزارت داخلہ اور پاک فوج سے مشاورت کی جائے‘ لاپتہ افراد سے متعلق حراستی مراکزکے حوالے سے قانون سازی کی جائے۔  چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ  جسٹس دوست محمد خان نے لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کی تو  وزارت دفاع کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جسے مسترد کرتے ہوئے  عدالت نے حکم دیا کہ 24 اکتوبر تک جامع رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔  عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل عبدالطیف  کو مخاطب کرتے ہوئے  صوبائی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن ‘ دیر اور سوات سے  فوج نکالنے کے فیصلے کے بارے میں استفسار کیا۔ چیف جسٹس نے  صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ  ملاکنڈ ڈویژن سے  فی الحال فوج کو واپس نہ بلایا جائے اور انخلاء سے قبل  وفاقی وزارت داخلہ اور پاک فوج سے  مشاورت کرلی جائے۔ فوج بلانے سے حالات مزید خراب ہوں گے۔ صوبائی حکومت عجلت میں فیصلے نہ کرے ایسا نہ ہو کہ بعد میں حکومت کے لئے مشکلات پیدا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ فوج جب اتنا عرصہ  ملاکنڈ ڈویژن میں موجود ہے تو کچھ وقت اور رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ مکمل  منصوبہ بندی کے ساتھ فوج کو واپس بلایا جائے۔ فوج کو اس علاقے میں قیام امن کے لئے بلایا گیا تھا۔  عدالت نے  صوبائی حکومت کو  لاپتہ افراد سے متعلق حراستی مراکز کے حوالے سے قانون سازی کی ہدایت کرتے ہوئے  کہاکہ خیبر پی کے کے مختلف علاقوں میں  حراستی مراکز قائم ہیں جہاں لاپتہ افراد کو بھی رکھا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کو جلد بازیاب کرایا جائے۔