مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کرنا پڑے گا : سرتاج عزیز ۔۔۔ کنٹرول لائن پر کشیدگی ختم کی جائے : پگواش کانفرنس

مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کرنا پڑے گا : سرتاج عزیز ۔۔۔ کنٹرول لائن پر کشیدگی ختم کی جائے : پگواش کانفرنس

اسلام آباد (سلطان سکندر+کے پی آئی+اے پی اے) وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کشمیریوں کو پاکستان بھارت مذاکراتی عمل میں شامل کرنا پڑیگا کیونکہ اسکے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے، پاکستان اور بھارت کے وزراء اعظم کے درمیان آئندہ ملاقات کے بعد مختلف کمیٹیاں ہوم ورک مکمل کریں گی اور بھارت کے عام انتخابات کے بعد اگلی حکومت ہی کوئی پیشرفت کریگی۔ وہ یہاں بین الاقوامی این جی او پگواش کے زیراہتمام تین روزہ انڑا کشمیر ڈائیلاگ کی افتتاحی نشست میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ صبح کی نشست میں احسن اقبال اور شفقت محمود نے خطاب کیا۔ ریاست جموں کشمیر میں فوجی انخلائ‘ سرحدی کشیدگی‘ کنٹرول لائن کے آر پار سیاسی سماجی اور تجارتی تعلقات کے موضوع پر منعقدہ یہ کانفرنس کوئی اعلامیہ منظور کئے بغیر اختتام پذیر ہوگئی۔ سرتاج عزیز کا کہنا تھا ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات چاہتے تاکہ بات چیت کے ذریعے معاملات اور مسائل حل ہوں لیکن بھارتی میڈیا کا رول منفی ہے ہم کسی انتہا پسندانہ اقدام کو مذاکراتی عمل میں رکاوٹ نہیں بنانا چاہتے۔ احسن اقبال نے کہا ہم دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات چاہتے ہیں مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کو مذاکراتی عمل میں شامل کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔ شفقت محمود نے کہا تحریک انصاف ‘ کشمیر کے بارے میں پاکستان کی قومی پالیسی کی حامی ہے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔کے پی آئی کے مطابق پگواش کے زیراہتمام ہونے والی اِن کیمرا انٹرا کشمیر کانفرنس نے پاکستان اور بھارت سے کہا ہے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو ختم کرکے اعتماد سازی کا عمل بحال اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کا راستہ اختیار کیا جائے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ، جماعت اسلامی کے بائیکاٹ اور مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز قیادت کو بھارت کی طرف سے کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے کانفرنس اثرات اور اہمیت کے حوالے سے ناکام ہوگئی۔ کانفرنس میں اتفاق کیا گیا لائن آف کنٹرول سے کشمیریوں کی آمدورفت کو آسان اور سہل بنایا جائے۔ مزید راستے کھولے جائیں تاکہ کشمیریوں کو باہم ملنے میںآسانی ہو۔ مقبوضہ کشمیر کے شہری علاقوں سے فوجی انخلاء اور آرمڈفورسز سپیشل پاور ایکٹ کی واپسی سے کشمیریوں میں اعتماد بحال ہوگا۔ تجارت کے حوالے سے پاکستان اور بھارت پر زور دیا گیا تجارتی پابندیاں ختم کی جائیں اور نان ٹیرف تجارت شروع کی جائے۔دونوں ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ ٹریک ون اور ٹریک ٹو پر بات چیت جاری رکھیں۔ اے پی اے کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے وردی میں کوئی بھی شخص فائرنگ کرے تو ضروری نہیں وہ فوجی ہے۔ ایل او سی فائرنگ میں غیر ریاستی عناصر ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا ہے پاکستان بھارت تعلقات میں کشمیر بنیادی ایشو ہے۔ کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیئے۔ انکا کہنا تھا پاکستان اور بھارت کے درمیان نوازشریف اور منموہن سنگھ کی ملاقات کے حوالے سے رابطہ نہیں ہوا۔ دونوں کی ملاقات سے پْرامید نہیں۔ انکا کہنا تھا ممبئی حملہ کیس میں بھارت نے کراس ایگزامن کی اجازت نہیں دی۔ دوسری جانب ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سرتاج عزیز نے کہا طالبان رہنما ملا برادر کو اسی ہفتے رہا کر دیا جائیگا۔ افغان طالبان کے اس سابقہ ملٹری کمانڈر کو رہا کر کے کابل میں حکام کے حوالے نہیں کیا جائیگا۔ رہائی کے بعد ملا برادر کی اپنی صوابدید پر ہوگا۔ وہ پاکستان ہی میں رہنا چاہتا ہے یا اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ۔ انہوں نے کہا ملا برادر کو کابل میں افغان حکام کے حوالے کرنے سے طالبان کے ساتھ مصالحتی عمل پر منفی اثر پڑے گا۔ ہمیں طالبان کی خواہش پوری کرنا ہے اور ملا برادر کی رہائی طالبان کی اسی خواہش کے پیش نظر عمل میں آئیگی کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔